| |

وارچھا راک سالٹ لیز تنازع، 20 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری خطرے میں

اسلام آباد: وارچھا راک سالٹ لیز تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث پاکستان کے پنک سالٹ سیکٹر میں متوقع 20 کروڑ ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیز کے معاملے نے نہ صرف معدنیات کے شعبے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PMDC) اور ایک امریکی کمپنی کے درمیان دنیا بھر میں پنک سالٹ کی برآمدات کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم وارچھا سالٹ مائننگ لیز سے متعلق تنازع نے منصوبے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

وارچھا راک سالٹ لیز تنازع کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز پنجاب اور پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے درمیان لیز کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد پنجاب حکومت نے پی ایم ڈی سی کی وارچھا سالٹ مائننگ لیز منسوخ کر دی۔

ذرائع کے مطابق لیز منسوخ کیے جانے کے بعد 291 ایکڑ پر مشتمل متنازعہ لیز نجی کمپنی سیفائر کیمیکلز کے حق میں نیلام کر دی گئی، جس پر پی ایم ڈی سی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کا مؤقف ہے کہ وارچھا سالٹ مائننگ لیز 2032 تک مؤثر تھی، اس لیے اس کی منسوخی غیر قانونی ہے۔ ادارے نے پنجاب حکومت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف قانونی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایس آئی ایف سی (Special Investment Facilitation Council) کے تحت کیے گئے سرمایہ کاری کے وعدوں سے بھی انحراف ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں پی ایم ڈی سی نے استدعا کی ہے کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز پنجاب کے لیز منسوخی کے فیصلے کو معطل کیا جائے تاکہ منصوبے پر کام جاری رکھا جا سکے۔

ادھر قائدآباد کی سول عدالت نے متنازعہ اراضی کے معاملے پر فریقین کو اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد آئندہ عدالتی کارروائی تک کسی بھی نئی پیش رفت کو روک دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیز تنازع جلد حل نہ ہوا تو پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *