سی پیک پاکستان اور چین تعلقات کا تاریخی سنگ میل بن چکا ، زبیر طفیل
کراچی (کامرس رپورٹر )یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کے 105 سال مکمل ہونے پر چینی عوام اور قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان 75 سال کے سفارتی تعلقات اور لازوال دوستی اب مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سرمایہ کار ہے، جبکہ سی پیک دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک تاریخی سنگ میل بن چکا ہے، جس نے پاکستان کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مرکزی ترجمان یو بی جی گلزارفیروز کے مطابق صدر یونائٹیڈ بزنس گروپ زبیر طفیل نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 24 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں چین پاکستان کا سب سے بڑا درآمدی ذریعہ ہے۔ پاکستان کی چین کو برآمدات تقریباً 3.5 ارب ڈالر جبکہ چین سے درآمدات 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی برآمد کنندگان کو جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کی جائے تو آئندہ چند برسوں میں چین کو برآمدات دوگنی کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اب تک 25 ارب ڈالر سے زائد کی براہ راست سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی، شاہراہوں، بندرگاہوں، خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی منصوبوں سمیت متعدد شعبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ سی پیک کے مختلف منصوبوں سے 75 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع میسر آئے جبکہ تقریباً 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی قومی نظام میں شامل کی گئی، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملی۔یو بی جی کے صدر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز، صنعتی تعاون، زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی، معدنیات، ای کامرس اور گرین انرجی کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ مستقبل میں خطے کی تجارت کا اہم مرکز بن سکتی ہے، جس سے پاکستان نہ صرف ٹرانزٹ ٹریڈ بلکہ لاجسٹکس، شپنگ اور برآمدات کے شعبوں میں بھی نمایاں فوائد حاصل کر سکتا ہے۔زبیر طفیل نے کہا کہ چین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، آٹو پارٹس، الیکٹرانکس، قابل تجدید توانائی، زرعی مشینری اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے مشترکہ منصوبوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط، بزنس ٹو بزنس تعاون، مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دے کر پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔صدر یو بی جی نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی آنے والے برسوں میں مزید مستحکم ہوگی اور دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، انفراسٹرکچر، زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں نئی کامیابیاں حاصل کریں گے۔ زبیر طفیل نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ چینی سرمایہ کاروں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرے تاکہ پاکستان خطے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا ایک مضبوط مرکز بن سکے۔زبیر طفیل نے کراچی میں عوامی جمہوریہ چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ (Deheng Feng) کی پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فینگ دہینگ نے کراچی کی تاجر برادری، صنعتی شعبے اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کاوشوں سے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تجارتی تعاون اور بزنس ٹو بزنس روابط میں مزید وسعت آئی ہے، جس سے پاک چین اسٹرٹیجک شراکت داری مزید مستحکم ہو رہی ہے۔زبیر طفیل نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہینگ کی قیادت میں کراچی میں چینی قونصلیٹ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار جاری رکھے گا، جس سے پاکستان اور چین کی 75 سالہ لازوال دوستی مزید مضبوط اور اقتصادی تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچیں گے۔ور تجارتی سرگرمیوں کا ایک مضبوط مرکز بن سکے۔