ایران کے جوابی حملے جاری، اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ‘ بحرین میں ایمازون کے ڈیٹا انفرااسٹرکچر پر حملہ،عالمی منڈی میں تیل 90 ڈالر فی بیرل سے متجاوز

تہران،واشنگٹن،اسلام آباد (صباح نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اہداف، ریڈار تنصیبات، فضائی دفاع کے نظام اور ایک ایف 15 طیارے کو تباہ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ایران کے پاسداران انقلاب نے منگل کی صبح جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکی فوج کے ریڈار نظاموں کے لیے ’تاریک رات‘ رقم کر دی ہے۔بی بی سی فارسی پر رپورٹ کیے گئے دعوے کے مطابق کویت کے احمد الجابر اڈے پر حملے میں وہ ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کیے گئے ہیں جو حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔پاسداران انقلاب کے مطابق اس ’ریڈار صفائی‘ کے بعد ایران کے مزید ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ایران نے کویت میں امریکا کے ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو نشانہ بنایا۔ایرانی فوج کے بیان میں میزائل لانچ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آپریشن ’صاعقہ‘ کے 18 ویں مرحلے میں بری فوج نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے پر تعینات امریکاکے ایچ آئی ایم اے آر ایس کو نشانہ بنایا۔ایچ آئی ایم اے آر ایس راکٹ داغنے والا ایک ایسا جدید نظام ہے جسے تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاع کے نظاموں پر جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران ایک امریکی ایف 15 طیارے کو اس کے ہینگر میں تباہ کر دیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک میزائل دفاعی ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود ایمیزون کے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو کروز میزائل حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے ایران کے علاقے دارخوین میں مبینہ طور پر شہری انفراسٹرکچر پر کیے گئے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے میں بحرین میں واقع ایمیزون کے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔دوسری جانب خبر شائع ہونے تک ایمیزون، بحرینی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ خطے کے اہم ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو بھی براہِ راست متاثر کرنے والی نئی پیش رفت تصور کی جائے گی۔دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ قیمت دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد اضافے کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اس دوران بین الاقوامی توانائی کے ممتاز ماہر اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فتح بیرول نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔واضح رہے کہ اگر خام تیل کی قیمت 90 ڈالر سے اوپر برقرار رہا یا مزید مہنگا ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی ہم منصب جوزف عون سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں کیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے۔ ہم پہلے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ان سے کافی عرصے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔صدر ٹرمہ نے حالیہ ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران بھی حوثیوں نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔صدر ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق خدشات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال حوثیوں نے سمندری راستوں کو بند نہیں کیا اور امریکا کو اس حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔یاد رہے کہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی بندرگاہوں پر سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں بصورت دیگر ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے بعض آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔قبل ازیںلبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ کے بقول جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔صدر ٹرمپ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفاعی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا،اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔شام کے بارے میں سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ احمد الشرع نے شام کو متحد کرنے میں اچھا کردار ادا کیا ہے اور اگر وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں تو یہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال کر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ انتخابی سیاست کے بجائے درست فیصلے کرنے پر توجہ دیں گے اور یہ یقین ہے کہ امریکی عوام ان کی پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔اس موقع پر لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وڑن سے مطابقت رکھتا ہے۔ادھر سعودی عرب اور یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی حملے کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں یمن کی حوثی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کی مبینہ سمندری ناکہ بندی کے اعلان کی شدید مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ حوثیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں اور سعودی عرب یمن کے عوام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے بھی واضح کیا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور اگر حوثیوں نے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اس کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔تنظیم کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد مبینہ محاصرے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیںامریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران گزشتہ 2ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 7 جولائی سے اب تک مختلف حملوں اور فوجی کارروائیوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے 96 فیصد علاج کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، جبکہ باقی اہلکاروں کا علاج جاری ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ دفاع نے جمعہ کے روز ایران سے منسوب حملوں میں ہلاک ہونے والے مزید 2 امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کی۔اس سے قبل پینٹاگون صرف اتنا بتا چکا تھا کہ 28 فروری سے اب تک ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں اور حملوں میں 14 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 427 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔پینٹاگون نے عراق میں ایک ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجی 30 سالہ سارجنٹ مائیکل ایمانوئل سوِنٹن تھے جن کا تعلق ریاست نارتھ کیرولائنا سے تھا۔امریکی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق سارجنٹ سوِنٹن اتوار کے روز شمالی عراق کے شہر اربیل میں واقع ایک فضائی اڈے پر قبضے میں لیے گئے ایک ایرانی ڈرون کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کی کارروائی میں شریک تھے۔اسی دوران کنٹرولڈ ڈیٹونیشن کے عمل کے دوران ایک دھماکا ہوا جس میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔علاوہ ازیںایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ رابطوں میں مضبوطی اور فیصلوں میں مشاورت سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق قومی یومِ صنعت و کان کنی کی تقریب سے خطاب میں صدر پزیشکیان نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سپریم لیڈر تک ہماری رسائی اور رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اب تک کے تمام اقدامات ان کی ہدایات کی روشنی میں منظم کیے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے محبوب رہنما کی حمایت کی ضرورت ہے اور ہم پوری قوت کے ساتھ اسی راستے پر آگے بڑھتے رہیں گے۔قبل ازیںایران نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اس وقت تک آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک امریکا اپنی جارحانہ کارروائیاں بند نہیں کرتا۔رپورٹ کے مطابق فوجی ذریعے نے کہا کہ ایران اس وقت کسی بھی بحری جہاز کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے بقول آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا وہاں عائد پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ صرف ملکی سلامتی اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ادھراسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال اپنی یورینیم افزودگی سے متعلق ہزاروں جدید سینٹری فیوجز ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کر دیے ہیں، جو ایک پہاڑ کے اندر گہری سرنگوں میں قائم ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سینٹری فیوجز ’کوہِ کلنگ‘ کے نام سے معروف مقام پر منتقل کیے گئے ہیں، جسے ایران کی ممکنہ نئی جوہری تنصیبات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ منتقلی گزشتہ سال جون میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد کی گئی، جب امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکا کے خام تیل اور پیٹرولیم ذخائر تیزی سے کم ہو کر تقریباً ساڑھے چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس پر توانائی کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے پاس اس وقت خام تیل کی صرف 43 دن کی سپلائی موجود ہے۔ یہ سطح جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سمجھی جا رہی ہے اور اسے امریکی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیںاسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی حالیہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ ان کے بقول پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پْرعزم ہے۔اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔جبکہپاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دوطرفہ سیکورٹی ، اور سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیںمیری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے 6 آئل ٹینکرز اور کارگو جہاز گزرے تھے۔ان میں سے 2 جہاز ایسے ہیں جن پر پابندیاں عائد ہیں۔آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں ایک روز قبل کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی کیونکہ اتوار کو 8 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق 20 جولائی کو عمان کے جزیرہ لیما کے شمال مشرقی علاقے میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔قبل ازیںایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کا فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا نیا سربراہ مقرر ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ فلسطینی تحریک مزاحمت آج بھی مضبوط ہے۔ایک بیان میں بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل فلسطینی تحریک مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہا ہے اور یہ مزاحمت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمدکرمی نے کہا ہے کہ بہت جلد شہید سپریم لیڈر اور شہیدکمانڈروں کے خون کا بدلہ لیا جائیگا۔ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے متصل خلیج کے ساحلی علاقوں میں تعینات فورس کے یونٹس کے دورے کے موقع پر اہلکاروں سے خطاب میں بریگیڈیئر جنرل محمدکرمی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج جارح فوج کی کسی بھی شرارت یا حملے کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک فیصلہ کن اسٹریٹجک دباؤ کا ذریعہ ہے اور ایران اس معاملے پرکسی بھی صورت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ علی باقری نے کہا کہ وعدہ خلافی امریکی حکومت کی مستقل پالیسی رہی ہے۔ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثے آزادکرانے کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا اور اپنے وعدے سے پھر گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت بحری نقل و حرکت کی کوشش کی، تاہم ایرانی بحریہ نے ان جہازوں کو روک کر معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا۔دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے علاقے رکبان میں اس کے حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان نمبر 40 میں کہا کہ اس نے ’آپریشن نصر ٹو کی 24ویں لہر‘ کے دوران اردن کے علاقے رکبان میں امریکی فوج کے ’قیام گاہی کمپلیکس‘ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان میں سے ’متعدد‘ فوجی ہلاک ہوئے۔امریکہ نے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔امریکی فوج کے اعلان کے مطابق، 17 جولائی کو ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں اردن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔دریں اثناء قطر کی حکومت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے 7 جولائی کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک قطری آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد 12 اور 17 جولائی کو اس ملک کے خلاف میزائل حملے کیے۔قطری حکام کے مطابق 12 جولائی کے حملے کے دوران میزائلوں کو روکنے کی کارروائی سے پیدا ہونے والے دھاتی ٹکڑوں کے رہائشی علاقوں میں گرنے کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔بیان میںقطر کی سرزمین پر ایرانی جارحیت کو قطر کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا ہے۔قطر نے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں کی جانوں کے دفاع کے لیے کسی بھی ضروری اور لازمی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔علاوہ ازیںواشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کے آپشن پر غور جاری ہے، ٹرمپ کے جنگ بڑھانے کے فیصلے کی صورت میں اسرائیل کی شمولیت کا امکان ہے۔فاکس نیوز کے مطابق امریکا نے تہران کے قریب یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا، بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع ہوا تویہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے، مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی طیاروں کی تعیناتی،حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی واپسی موجودہ حملوں سے زیادہ شدید ہوگی۔دوسری جانب سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران پرحملوں کے ایک اور مرحلے میں ایرانی فوج کے کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاع کے نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموترچ نے کہاہے کہ اسرائیل کو ایران کیخلاف جنگ میں شامل ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ایک تقریب سے خطاب میں انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموترچ نے کہا کہ اس وقت اسرائیل کی اس فوجی مہم میں شامل ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال ہمارے لیے سازگار ہے، اس لیے ہمیں خود اس میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت یا دلچسپی نہیں تاہم ہم ہر ممکن صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ادھرفرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ اتوار کو تہران میں فرانسیسی سفارتی عملے کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا گیا۔وزارت خارجہ نے زور دیاکہ ایرانی حکومت عملے کو یرغمال بنا کر دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے کے واقعے کی تحقیقات کرے، فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایرانی حکومت سے واقعے میں ملوث عہدیداروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سفارتی عملے کو دھمکانا اور نامناسب سلوک کرنا بین الاقوامی سفارتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔دریں اثناء متحدہ عرب امارات نے بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ممالک پر ایرانی حملے برادر ممالک کی سلامتی و استحکام اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، اماراتی وزارت خارجہ نے بحرین،کویت،اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کی سلامتی، استحکام کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا۔

 

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *