پنجاب،پختونخوا میں بارش سے تباہی ‘ہلاکتیں 35 اور 126افراد زخمی ہوچکے
لاہور /پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اور پختونخوا میں شدید بارش نے تباہی مچادی‘اب تک ہلاکتیں 35 اور 126افراد زخمی ہوچکے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں مون سون کی شدید بارش نے ایک بار پھر شہری نکاسی آب کے نظام کی استعداد پر سوالات کھڑے کر دیے، جہاں لاہور میں کئی اہم شاہراہیں اور نشیبی علاقے گھنٹوں زیر آب رہے، ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور کھڑے پانی میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک موٹر سائیکل سوار جان کی بازی ہار گیا جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہوچکے ہیں۔ لاہور میں لکشمی چوک، ایکسپو سینٹر روڈ، بادامی باغ، لارنس روڈ، صفانوالہ چوک، مدینہ کالونی اور دیگر علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ، واسا، پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں نے نکاسی آب کا آپریشن کامیاب قرار دیا، حکومتی بیان کے مطابق 41 اضلاع میں عملہ اور مشینری متحرک رہی، تمام انڈر پاسز کو کلیئر کیا گیا اور بیشتر پانڈنگ ایریاز سے چند گھنٹوں میں پانی نکال کر ٹریفک بحال کر دی گئی۔محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد دو لاکھ 24 ہزار 496 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 496 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مون سون سیزن میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں اب تک 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہو چکے ہیں، اموات بوسیدہ عمارتیں گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات ہوئیں۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹے کے دوران لاہور سمیت پنجاب، کشمیر اور بالائی علاقوں میں مزید موسلا دھار بارشوں، شہری سیلاب، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر خیبر پختونخوا میں 19جولائی سے جاری مون سون بارش نے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں، فلیش فلڈ اور گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں 18 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 28 مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر و اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔