تلہار، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ٹرین سروس کی بحالی ناگزیر
تلہار(نمائندہ جسارت)ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث جہاں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی آئے روز بڑھ رہے ہیں، جس سے عام شہری، ملازمت پیشہ افراد، طلبہ، وکلا، تاجروں اور روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔سندھ کے اہم روٹس میں شامل حیدرآباد،بدین شاہراہ پر روزانہ ہزاروں افراد آمدورفت کرتے ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے کرایوں، ٹریفک کے دباؤ اور سفری مسائل نے مسافروں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد اور بدین کے درمیان روزانہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ سفر کرتے ہیں کہ بدین اور حیدرآباد دونوں اطراف سے تقریباً ہر سات منٹ بعد ایک کوسٹر روانہ کی جاتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ وین سروس بھی مسلسل چلتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود گاڑیوں میں شدید رش کے باعث متعدد مسافر اپنی جان خطرے میں ڈال کر بسوں اور کوسٹروں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حیدرآباد،بدین ٹرین سروس دوبارہ بحال کر دے تو نہ صرف ہزاروں مسافروں کو سستی، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا۔مسافروں نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹرین روزانہ صبح 6:00 بجے حیدرآباد سے روانہ ہو کر صبح 8:00 بجے بدین پہنچے، جبکہ دوپہر 2:00 بجے بدین سے روانہ ہو کر شام 4:00 بجے حیدرآباد پہنچے۔ ان کے مطابق یہ ٹائمنگ نہایت موزوں ثابت ہوگی کیونکہ سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین، کاروباری افراد، وکلاء ، طلبہ اور عدالتی امور کے سلسلے میں سفر کرنے والے افراد بروقت اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے اور شام کو واپس بھی آسانی سے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر ٹرین سروس کا کرایہ مناسب رکھا جائے، وقت کی پابندی یقینی بنائی جائے اور سہولیات بہتر فراہم کی جائیں تو بڑی تعداد میں مسافر سڑک کے بجائے ریل کا انتخاب کریں گے۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ پر موجود غیر معمولی رش کم ہوگا بلکہ ٹرانسپورٹرز کی من مانیوں اور بار بار کرایوں میں اضافے پر بھی مؤثر حد تک قابو پایا جا سکے گا۔شہری حلقوں کے مطابق حیدرآباد۔بدین ٹرین سروس کی بحالی سے پاکستان ریلوے کو بھی خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کے امکانات روشن ہیں، کیونکہ اس روٹ پر روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔ مسافروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹرین سروس باقاعدگی، وقت کی پابندی اور مناسب کرایوں کے ساتھ چلائی جائے تو یہ منصوبہ عوام اور پاکستان ریلوے دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔عوامی حلقوں نے وفاقی وزیرِ ریلوے، پاکستان ریلوے کی اعلیٰ انتظامیہ، وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حیدرآباد۔بدین ٹرین سروس کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ، کم خرچ اور معیاری سفری سہولت میسر آسکے اور خطے کے عوام کو درپیش سفری مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔