فکرِ نو کی دہلیز

تاریخ کے وسیع افق پر بعض اوقات ایسے مناظر ابھرتے ہیں جو بظاہر نئے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی روح صدیوں پرانے المیوں سے بندھی ہوتی ہے۔ انسانی تہذیب کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ جنگیں وقوع پذیر ہوتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر نسل اپنے آپ کو پہلی نسل سمجھ کر انہی غلطیوں کو نئے نعروں، نئے پرچموں اور نئی تعبیرات کے ساتھ دہراتی ہے۔ کبھی مذہب سیاست کا ہتھیار بنتا ہے، کبھی نظریہ جغرافیے پر غلبہ پانے کی خواہش کا لباس اوڑھ لیتا ہے، اور کبھی قومی سلامتی کے نام پر ایسی فکری فصیلیں کھڑی کر دی جاتی ہیں جن کے اندر سب سے پہلے عقل، مکالمہ اور اختلافِ رائے قید ہو جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں جامعات اشتراکیت، سرمایہ داری اور اسلام ازم کے فکری معرکوں کی آماجگاہ تھیں، مگر وقت نے ثابت کیا کہ نظریات اپنی اصل قوت اسلحے سے نہیں بلکہ اخلاقی صداقت، علمی لچک اور تاریخی بصیرت سے حاصل کرتے ہیں۔ جو بیانیہ خود احتسابی سے محروم ہو جائے، وہ خواہ کسی بھی مقدس عنوان سے مزین ہو، بالآخر اپنی ہی شدت کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ تاریخی قانون ہے جسے نظرانداز کر کے قومیں اپنے مستقبل کے دروازے خود بند کر لیتی ہیں۔

اگر موجودہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک تمثیلی افسانہ سمجھا جائے تو اس کا مرکزی منظر ایک ایسے وسیع صحرا کا ہے جہاں دو آتش فشاں ایک دوسرے پر لاوا اچھالنے میں مصروف ہیں، جبکہ درمیان میں آباد بستیاں مسلسل راکھ میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ایک طرف عالمی طاقتیں اپنے تزویراتی مفادات، سلامتی کے بیانیے اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے نام پر عسکری برتری کا کھیل کھیل رہی ہیں، تو دوسری جانب انقلابی مزاحمت کا بیانیہ اپنی اخلاقی قوت کو عسکری جذباتیت کے سپرد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ نائن الیون کے بعد جس کیفیت کو بعض اہل ِ فکر نے ’’انتہا پسند بیانیوں کا تصادم‘‘ قرار دیا تھا، وہ آج پہلے سے زیادہ پیچیدہ صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت، معاشی مفادات، پابندیوں کی سیاست اور خطے میں طاقت کے عدمِ توازن نے انتہا پسندی کی زمین ہموار کی، مگر یہ بھی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ کسی جائز سیاسی یا اخلاقی مؤقف کو غیر محدود عسکری ردِعمل کے ذریعے منوانے کی کوشش اس کی اخلاقی برتری کو کمزور کر دیتی ہے۔ تاریخ اس معاملے میں نہ جذبات کو رعایت دیتی ہے اور نہ نعروں کو؛ وہ صرف نتائج کو محفوظ رکھتی ہے۔

ایران آج اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنے انقلابی حافظے اور ریاستی مستقبل کے درمیان ایک دشوار مگر ناگزیر انتخاب کرنا ہے۔ اس کی تہذیبی گہرائی، سائنسی استعداد، جغرافیائی اہمیت اور علاقائی اثرورسوخ اسے غیر معمولی امکانات عطا کرتے ہیں، مگر یہی قوت اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب ریاست کے اندر سیاسی حکمتِ عملی پر جذباتی مزاحمت غالب آنے لگے۔ گزشتہ برسوں میں ایران کو کئی ایسے سفارتی مواقع میسر آئے جن سے وہ اپنی اخلاقی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا تھا، مگر مسلسل کشیدگی، پراکسی سیاست اور سخت گیر بیانیے نے ان مواقع کو محدود کر دیا۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی راستے میں عدمِ استحکام صرف مغربی طاقتوں ہی کو نہیں بلکہ چین، جنوبی ایشیا اور خود خطے کی معیشت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح داخلی سطح پر جب اختلافِ رائے کو کمزوری اور تدبر کو پسپائی سمجھا جانے لگے تو فیصلہ سازی کا دائرہ سکڑنے لگتا ہے۔ مضبوط ریاستیں صرف عسکری صلاحیت سے نہیں بلکہ اس فکری وسعت سے وجود پاتی ہیں جو ناقدانہ آواز کو دشمن نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جس نے تاریخ میں کئی قوموں کو شکست کے بعد بھی زندہ رکھا اور کئی طاقتور سلطنتوں کو فتح کے باوجود زوال سے نہ بچا سکا۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ میدانِ حکمت میں صادر ہوتا ہے۔ امریکا ہو یا ایران، مشرق ہو یا مغرب، ہر طاقت کے لیے ایک ہی اخلاقی اصول ہونا چاہیے کہ ریاستی مفاد کو انسانی جان، علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ موجودہ بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انتہا پسند بیانیے ابتدا میں قوت کا احساس دلاتے ہیں، مگر انجام کار ریاستوں کی داخلی توانائی، معیشت، سفارت اور سماجی اعتماد کو تحلیل کر دیتے ہیں۔ ایران اگر اپنی تہذیبی میراث، سیاسی بلوغت اور علاقائی حیثیت کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے عسکری ردِعمل سے زیادہ سفارتی تدبر، انقلابی جوش سے زیادہ ریاستی بصیرت اور وقتی جذبات سے زیادہ طویل المدت قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ یہی اصول دیگر عالمی طاقتوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ امن یک طرفہ عمل نہیں بلکہ مشترکہ ذمے داری ہے۔ تاریخ کے اوراق بار بار یہی شہادت دیتے ہیں کہ جو قومیں اپنے بیانیے کو خود احتسابی، عقلِ سلیم اور مکالمے سے زندہ رکھتی ہیں، وہی زمانے کے تغیرات میں باقی رہتی ہیں، جبکہ جو اپنی ہر رائے کو آخری حقیقت اور ہر اختلاف کو بغاوت سمجھنے لگتی ہیں، وہ بالآخر تاریخ کے جبر کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہیں۔ تہذیبوں کی بقا توپوں کی گھن گرج میں نہیں، بلکہ اس خاموش دانش میں پوشیدہ ہے جو فتح سے پہلے انسان اور طاقت سے پہلے حکمت کو منتخب کرنا جانتی ہے۔

Similar Posts

  • | |

    媒体、人文交流与致中国人民的巴基斯坦声音(第四部分)

    在当今世界,外交已不再局限于高堂华屋、政府部委与官方协议。现代国家间关系的真正根基,建立在民间交往、学术交流、文化融通与有担当的新闻传播之上。如果说两国政府打开了友谊的大门,那么媒体、高校、作家、艺术家、教师、学生以及广大普通市民,就是将这份友谊真正送入彼此心田的使者。 巴中两国关系之所以历久弥坚,一个重要原因在于两国不仅在官方层面,更在民间层面持续付出努力,以求相互理解、日益亲近。学习中文的巴基斯坦青年与日俱增,数以千计的巴基斯坦留学生在华深造,来到巴基斯坦的中国专家、工程师、教师和投资者源源不断,两国间频繁的文化与教育交流,更为这一传统友谊赋予了全新的时代内涵。 媒体:信任的默默建设者 在这个信息飞速传播的时代,媒体不仅是新闻的传递者,更是构建国家间信任的有力桥梁。一名恪守职责的新闻人、一篇客观公正的深度分析、一部真实详实的纪录片或一篇严谨的调研文章,都能在千万人心中塑造出一个国家的真实形象。 正因如此,巴中两国媒体肩负的责任比以往任何时候都更加重大——我们应当杜绝耸人听闻的炒作,转而大力弘扬真实客观、深度研究与积极正向的体验。将中国的科技进步、工业变革、教育体制、绿色环保项目以及社会秩序展现给巴基斯坦民众固然至关重要;同样地,向中国人民展示巴基斯坦的多彩文化、热情好客、青年潜力、媒体活力与发展前景也不可或缺。 作为一名新闻从业者,我深知笔端的责任绝不仅仅是撰写新闻,更是要在不同民族之间架起一座信任、尊重与对话的桥梁。 十人巴基斯坦媒体代表团:友谊的新篇章 本篇随笔收尾之际,恰逢一支由十人组成的巴基斯坦媒体代表团即将启程,赴中华人民共和国进行考察与友好访问。这支代表团不仅是一个记者群体,更承载着巴基斯坦人民对中国人民的深情厚谊、美好祝愿与赤诚之心。 此次访问旨在近距离观察、理解中国的经济发展、科技成就、现代工业、媒体生态、文化教育、技术创新、城市规划及社会民生,并将这些切身体验真实、客观地呈现给巴基斯坦民众。此类访问能够有效消除隔阂、增进互信,进一步筑牢两国民意的纽带。 我有幸作为代表团一员参与此次中国之行。在我看来,这不仅是一项专业的工作职责,更是一份代表巴基斯坦人民出访的至高荣誉。我将竭尽所能,亲眼见证中国的蓬勃发展、人民的勤劳自律、科研的卓越突破以及文化的独特魅力;归国后,我也必将本着求真、严谨与负责的态度,将这一切分享给我的读者。 致中国人民的巴基斯坦声音 若能有幸直接与中国人民对话,我首先想表达最诚挚的谢意——感谢你们在过去七十五年间,无论风雨欢笑,始终与巴基斯坦风雨同舟、并肩前行。在巴基斯坦人民心中,这段情谊绝非普通的外交关系,而是信任、真诚与相互尊重结出的累累硕果,是两国深厚交情的生动象征。 我们对中国举世瞩目的发展成就、科技突破、工业变革、严谨秩序与勤劳品质致以崇高敬意。我们坚信,这条繁荣之路不仅属于中国,更为整个亚洲注入了强大信心。 我们深切期盼,在未来的岁月里,巴中关系的内涵将远远超越政府与机构的框架,进而在学生、教师、科学家、记者、艺术家、作家、企业家以及广大青年之间展现出同样的勃勃生机与热忱。当两国人民能够深入了解彼此,信任便会更加坚实,未来也会愈发光明。 友谊之旅,未完待续 早在多年前,伟大诗人阿拉玛·穆罕默德·伊克巴尔(Allama Muhammad Iqbal)就曾预言东方复兴的曙光: “睁开双眼吧!看这大地,看这苍穹,看这浩瀚无垠的空间, 且看那轮东方冉冉升起的旭日。” […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *