بھٹ شاہ میں کچہری، گورنرپنجاب سردار سلیم حیدرخان کی شرکت
بھٹ شاہ(نمائندہ جسارت)حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس کی تقریبات کے سلسلے میں ایچ ٹی سورلے ہال کچہری منعقد ہوئی، جس میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و آرکائیوز سندھ سید ذوالفقار علی شاہ ان کے ہمراہ موجود تھے۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد معروف براڈکاسٹر اور ادیب نصیر مرزا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔اپنے خطاب میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ ایسی عظیم ہستی ہیں جن کی تعلیمات پر عمل کرنا آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ لطیفؒ نے اپنے لازوال کلام کے ذریعے اسلام، محبت، انسانیت، اخوت اور امن کا پیغام عام کیا، جو آج بھی پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات نفرتوں کا خاتمہ کرکے معاشرے میں محبت، برداشت اور اتحاد کو فروغ دیتی ہیں، جبکہ نئی نسل کو ان تعلیمات سے روشناس کرانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و آرکائیوز سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات سندھ سمیت پوری انسانیت کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہر سال عرس کے موقع پر ادبی، ثقافتی اور روحانی تقریبات کے ذریعے شاہ لطیفؒ کے فکر و فلسفے، محبت، امن، رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچہری سندھ کی صدیوں پرانی ادبی اور ثقافتی روایت کی خوبصورت عکاسی ہے۔تقریب کے دوران سندھ کے معروف صوفی فنکاروں نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا کلام موسیقی کی دلنشیں دھنوں میں پیش کیا، جبکہ سْگھڑن نے اپنی شاعری، لوک ادب، دانائی اور فکری اظہار سے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ ہال میں موجود شرکانے صوفیانہ کلام اور ثقافتی پروگراموں کو بے حد سراہا۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سمیت معزز مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی، جبکہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے لازوال کلام پر مشتمل شہرہ آفاق کتاب “شاہ جو رسالو” بھی بطور تحفہ پیش کی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد دانش ذاکر، ایس ایس پی مٹیاری عبدالعلیم بلوچ، ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران، ادیب، شاعر، سْگھڑ، فنکار، دانشور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔