حکمرانوں کو احساس ہوگیا ‘موجودہ نظام ناکام ‘عوام ظلم کیخلاف بغاوت پر آمادہ ہیں‘لیاقت بلوچ
لاہور (صباح نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی اور سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومتی ایوانوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ موجودہ نظام بوسیدہ، ناکارہ اور ناکام ہوچکا ہے جبکہ عام آدمی، خواتین اور نوجوان ظلم پر مبنی نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کا منصوبہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ یہ بات انہوں نے ہدیۃ الہادی کے زیر اہتمام قومی مجلس مشاورت سے ’’یکجہتی و استحکام وقت کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر مرکزی شیعہ رہنما علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، صغیر عباس ملک، جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر عبدالحق ثانی، محمد یوسف شاہ، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاری محمد زوار بہادر، علامہ رشید رضوی، پیر سید ہارون علی گیلانی، پیر حسن باری اور دیگر رہنماؤں نے بھی ان سے ملاقات کی، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم کے انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کی۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکمرانوں کو بہت دیر سے احساس ہورہا ہے کہ اقتدار کے محلات کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی انتخابات اور ہائبرڈ نظام کے ذریعے مسلط کی گئی قیادتیں ملک، نظام اور ریاستی اداروں پر بوجھ بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوام کا اعتماد حاصل کیے بغیر صرف طاقت کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جاسکتا، جبکہ نئے انتظامی صوبوں کی بحث اس وقت چھیڑنا نئے اختلافات کو جنم دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن عوامی جذبات کی مؤثر ترجمانی کررہے ہیں۔ ان کے بقول تیل، گیس اور بجلی پر عائد لیوی اور بھاری ٹیکس عوام اور معیشت کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو ملک بھر میں پرامن احتجاج، دھرنے اور سڑکوں کی بندش کے ذریعے حکومت کو عوام کو ریلیف دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے فوری قومی کانفرنس بلائی جائے، جس میں سیاسی و جمہوری قیادت، وکلا، سول سوسائٹی اور عسکری قیادت مشترکہ قومی ایکشن پلان پر اتفاق کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر، غیر دانشمندانہ طرزِ عمل اور سیاسی قیادت پر دباؤ ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔