روس نے کرائے کے فوجیوں سے جنگ لڑنے کا الزام مسترد کردیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) کولمبیا میں روسی سفارت خانے نے تردید جاری کی کہ یوکرین جنگ میں مدد کے لیے کرائے کے کولمبین فوجیوں کے مشتبہ بھرتی نیٹ ورکس سے اس کے روابط تھے۔ کولمبیا کے میڈیا نے پیر کے روز ایک تحقیق شائع کی جس میں شواہد اور دستاویزات شامل ہیںجن میں الزام لگایا گیا کہ ماسکو نے کیف کے خلاف اپنی حکمت عملی کے تحت کولمبیا کو فہرست میں شامل کیا۔ یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کولمبیا میں روس کے سفارتی مشن نے کہا کہ اس کا رپورٹ میں مذکور بھرتی کرنے والوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس بات کا علم ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے مالی اعانت کیسے کرتے ہیں۔ لیکن بیرونِ ملک سکیورٹی خدمات کے لیے بھرتی کیے گئے کولمبیائی باشندوں کے افرادِ خانہ نے روس اور یوکرین میں اپنے عزیزوں سے بدسلوکی کی اطلاع دی ہے۔ ان میں زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی اہلکار ہیں۔ ا س سے قبل گذشتہ برس نومبر میں روس نے کولمبیا کے 2شہریوں کو یوکرین کی مسلح افواج کے لیے لڑنے کے الزام میں 13 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے اپنی طرف سے اصرار کیا ہے کہ کولمبیا کے کم از کم 7ہزار باشندے رقم کے لیے روس اور یوکرین میں لڑ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے مارچ میں اندازہ لگایا تھا کہ تمام دنیا میں مسلح تنازعات میں حصہ لینے کے لیے کولمبیا کے کم از کم 10ہزار باشندوں کو بیرونِ ملک بھرتی کیا گیا اور اکثر غیر انسانی حالات میں ۔ فوجی خدمات سے سبکدوش ہو جانے کے بعد کولمبیا کے فوجی اکثر کام تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جو گوریلا گروپوں اور منشیات کے کارٹلز سے لڑنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ تنازعات کا شکار ممالک جیسے سوڈان، یمن، یوکرین اور جمہوریہ کانگو میں کرائے کی ایسی افواج کی اکثر تلاش اور ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب روس نے بحیرہ اسود کی یوکرینی حدود میں گندم سے لدے جہاز پر حملہ کردیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملے کے بعد غیرملکی پرچم بردار جہاز میں آگ لگ گئی، جبکہ جہاز کے عملے میں شامل ایک ملاح ہلاک ہو گیا۔ یوکرین کی بندرگاہی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ جہاز مارا کوئین تھا، جو افریقی ملک گنی بساؤ کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ اس سے قبل روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر فوجی سازوسامان لے جا رہے تھے۔