بھارتی سپریم کورٹ نے پیلٹ گن کا استعمال درست قرار دے دیا

نئی دہلی(صباح نیوز) بھارتی سپریم کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دھاتی پیلٹ گنوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر معمولی اور ہنگامی حالات میں ان کا استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ صرف انتہائی محدود اور استثنائی حالات تک محدود ہونا چاہیے۔ عدالت نے اس حوالے سے حکام کو احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ ہر صورتحال میں پیلٹ گن کا استعمال جائز نہیں، بلکہ صرف ایسے حالات میں کیا جا سکتا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مؤثر متبادل موجود نہ ہوں۔ اسی کیس میں عدالت نے متعلقہ حکام کو ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی دی تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کہ پولیس کو غیر معمولی حالات میں پیلٹ گن استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔کاکروچ پارٹی کے ترجمان اعلی نے اس فیصلے پر کراہت کا اظہار ہوئے مختصر مگر سخت الفاظ میں اسے ‘‘Disgusting’’ (قابلِ نفرت) قرار دیا۔ سورَو داس نے اپنے بیان میں بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (PTI) کی اس خبر کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پولیس غیر معمولی اور ہنگامی حالات میں پیلٹ گن استعمال کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ‘‘قابل نفرت’’ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیلٹ گنوں نے کشمیر میں بے شمار نوجوانوں کی بینائی چھینی اور کئی خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اس لیے ایسے ہتھیار کے استعمال کو درست قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ 2016 کے بعد کشمیر میں مظاہروں کے دوران پیلٹ گنوں کے استعمال پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں ان ہتھیاروں کے باعث سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے اور کئی افراد کی بینائی متاثر ہونے کے واقعات پر مستقل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *