بھارت: مغربی بنگال میں احتجاج پر اسکول کے کھانوں میں انڈے شامل
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ریاست مغربی بنگال نے اسکولوں میں تقسیم کیے جانے والے مفت کھانوں میں انڈے دوبارہ شامل کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل ریاستی حکومت نے اسکولوں کے طلبہ میں تقسیم کیے جانے والے کھانوں میں انڈوں کو سبزیوں پر مشتمل متبادل سے بدلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے پر اساتذہ، غذائی ماہرین اور والدین کی جانب سے تنقید کی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں دیے جانے والے کھانوں میں انڈے شامل نہ کرنے سے غریب بچوں کو پروٹین کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہونا پڑے گا۔ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کچھ سرکاری اسکولوں میں فراہم کیے جانے والے کھانوں سے انڈے ہٹا کر ایک ہندو مذہبی فلاحی ادارے کے ذریعے ویجیٹیریئن کھانے فراہم کرنے کا انتظام کیا تھا۔ اس اقدام نے ملک میں خوراک اور مذہب کے حوالے سے جاری بحث کو دوبارہ زندہ کردیا تھا جبکہ ناقدین نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسکول کے بچوں کو زبردستی سبزی خور بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا کہ اگست سے بچوں کو کھانے میں دوبارہ انڈے فراہم کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ بی جے پی اکثر اپنی قوم پرستانہ پالیسی کے تحت سبزی خوری کو فروغ دیتی ہے حالانکہ زیادہ تر ہندو گوشت اور مچھلی بھی کھاتے ہیں، جبکہ انڈے بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔