دہشت گردوں کو مار کر وہیں کتوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، ترجمان پاک فوج
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں میں نشانہ بنا رہے ہیں، پہاڑوں میں ان سے مقابلہ کر رہے ہیں، اور جب بھی وہ سامنے آتے ہیں، ہم ان سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مختلف دشوار گزار علاقوں میں بھی ہم جا کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ہمارے اور ان کے طریقہِ کار میں کئی فرق ہیں، لیکن ایک اہم فرق یہ ہے کہ ہم وہاں ویڈیو کیمرے یا میڈیا کے عملے کو ساتھ نہیں لے جاتے، کیونکہ ہمارا مقصد انہیں ہلاک کرنا ہوتا ہے، فلم بندی کرنا نہیں۔اسی لیے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ لاشیں کہیں اور سے ملی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو دہشت گرد پہاڑوں میں مارے جاتے ہیں، ان کی لاشیں وہیں چھوڑ دی جاتی ہیں تاکہ جنگلی جانور انہیں کھا جائیں۔”کیونکہ وہ کتے ہیں، اور کتوں کی خوراک بننے کے ہی لائق ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن تو ہر روز ہوتے ہیں ،ردالفساد فتنہ ون ہوا، پھر ردالفساد فتنہ ٹو ہوا لیکن جب کوئی مربوط آپریشن ہوتا ہے تو اسے باقاعدہ ایک نام دیا جاتا ہے۔ اگر وہ نسبتاً محدود پیمانے کا ہو تو بھی اسے آپریشن کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے پیچھے ایک مکمل انٹیلی جنس ڈھانچہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس وقت ہم آپریشن شہبان چلا رہے ہیں، جو اب آپریشن العزم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آپ میں سے اکثر لوگ اس کے بارے میں پہلے ہی جانتے ہیں۔