مقتول تاجر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشافات
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقتول تاجر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی انکشافات سامنے آئے ہیں۔کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے نوجوان تاجر میر رضا علی قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ میر رضا علی کو سینے میں ایک گولی ماری گئی تھی۔پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ پولیس سرجن نے یہ بھی بتایا کہ لاش میں گلنے سڑنے کے آثار پائے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سینے میں آتشیں اسلحے کا ایک زخم ہے جب کہ موت بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے لگنے والے شاک کے باعث ہوئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں اب تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیم قتل کے تمام پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔واضح رہے کہ مقتول کا موبائل فون بھی مل گیا ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون جائے وقوع سے تقریباً 200 گز کے فاصلے سے ملا، جائے وقوع سے پستول کا ہولسٹر بھی ملا۔رپورٹ کے مطابق میر رضا علی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا جس پر ٹیکسی ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ڈرائیور کے مطابق مقتول کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر اتارا گیا تھا۔ پولیس نے مقتول کا فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی ٹیلی کام کمپنی سے طلب کر لیا ہے۔ میر رضا علی 28 جولائی کی رات کو پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے نکلا تھا، اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے علاقے سے ملی تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا اور لاش بری حالت میں تھی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے، میر رضا علی آئی بی اے کا طالب علم اور گزشتہ پانچ برس سے کاروبار کر رہا تھا، مقتول کے والد کے مطابق اگست میں ان کا نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔