شفیق موڑ پر تجاوزات کیخلاف آپریشن ، مزاحمت پر 33افراد گرفتار

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) سمن آباد کے علاقے شفیق موڑ پر تجاوزات کے خلاف اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کے دوران مشتعل افراد کی جانب سے مزاحمت، ہنگامہ آرائی، پولیس پر پتھراو ¿ اور مبینہ فائرنگ کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ واقعے میں پولیس اور سول انتظامیہ کے متعدد اہلکار زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے ہوٹل مالک محمد ہاشم سمیت 33 افراد کو گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ٹاو ¿ن میونسپل انتظامیہ اور پولیس کی نفری نے شفیق موڑ کے اطراف میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی شروع کی تو بعض ہوٹل مالکان اور ان کے کارندوں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی۔ مشتعل افراد نے کارروائی رکوانے کی کوشش کی اور بعد ازاں سڑکیں بند کرکے احتجاج شروع کردیا۔ مشتعل افراد نے شاہ ولی اللہ روڈ اور ایف بی ایریا انڈسٹریل روڈ کو بند کرنے کی کوشش کی، جس سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ہجوم کی جانب سے پولیس پر مبینہ طور پر پتھراو ¿ کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی۔مزاحمت کے دوران ایس ایچ او حیدری مارکیٹ عدیل احمد کے کندھے میں فریکچر آیا جبکہ کانسٹیبل آصف بھی زخمی ہوگئے۔ سول انتظامیہ کا ایک اہلکار بھی ہنگامہ آرائی کے دوران زخمی ہوا۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک موقع پر جعفر شاہ 4 سے 5 مسلح سیکورٹی گارڈز کے ہمراہ موقع پر پہنچا اور مبینہ طور پر مشتعل افراد کو جمع کیا، جس کے بعد وہاں 100 سے زائد افراد پر مشتمل ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور سرکاری اہلکاروں پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے دوران جعفر شاہ سمیت مزید افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے مجموعی طور پر ہوٹل مالک محمد ہاشم سمیت 33 ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔واقعے کے بعد تھانہ سمن آباد میں گرفتار ملزمان اور دیگر ملوث افراد کے خلاف دو مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقدمات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمات میں سرکاری اہلکاروں پر حملہ، سرکاری کارروائی میں مزاحمت، ہنگامہ آرائی، سڑکیں بند کرنے اور دیگر الزامات کی دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی ویڈیو فوٹیجز، موقع پر موجود افراد کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد کی مدد سے ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ پولیس اس امر کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ مبینہ فائرنگ کس جانب سے کی گئی اور اس میں کون سے افراد ملوث تھے۔حکام کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد عوامی گزرگاہوں، سڑکوں اور دیگر مقامات پر قائم مبینہ غیر قانونی تجاوزات کو ختم کرنا تھا، تاہم کارروائی کے دوران مزاحمت کے باعث آپریشن کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹیموں کو تجاوزات کے خاتمے کے لیے کارروائی سے روکنے، اہلکاروں پر حملہ کرنے یا سرکاری املاک و سڑکوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے ہنگامہ آرائی، مبینہ فائرنگ اور سرکاری اہلکاروں پر حملے سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے، جبکہ مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *