قومی بحران اور سنجیدہ مکالمہ
پاکستان کا نظام حکومت اس وقت جس بڑے بحران سے دوچار ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں قومی سطح پر ایک سنجیدہ مکالمہ درکار ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی ایک فریق بڑا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ جب تک سب فریق مل کر نہ صرف سنجیدہ مکالمے کا حصہ بنیں گے بلکہ اپنے اپنے حصے کا کردار بھی ادا کریں گے، تو اسی صورت میں ہم قومی بحران کا حل بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری سیاسی اور غیر سیاسی قیادت ذاتی اور جماعتی مفاد سے باہر نکل کر ملک اور عام آدمی کے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ اس وقت بلوچستان، خیبر پختون خوا اور کشمیر کے جو حالات ہیں، وہ ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حکمت ِ عملی کا راستہ اختیار کریں۔ اب تک ہم نے جو طاقت کا استعمال کیا ہے، اس کے نتائج نے حالات کو اور زیادہ خراب کر دیا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب ہم خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ملک کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس میں ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے، کچھ لوگوں کے بقول حکمرانی کے بحران کے حل کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔ اس وقت قومی سیاست عملی طور پر الجھ کر رہ گئی ہے اور اس الجھی ہوئی سیاست نے لوگوں کو سیاسی طور پر نہ صرف تقسیم کر دیا ہے بلکہ سیاست میں سیاسی دشمنی کا پہلو بھی غالب نظر آتا ہے۔ پی ٹی آئی کو تین برسوں میں کوئی سیاسی راستہ نہیں دیا جا رہا اور بانی پی ٹی آئی بھی مسلسل تین سال سے جیل میں ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اگر ہم مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف ہماری علاقائی صورتِ حال بھی کوئی اچھی نہیں ہے۔ مسلسل بھارت اور افغانستان سے ہمیں خطرات لاحق ہیں اور ان دونوں ملکوں کا باہمی گٹھ جوڑ ہمارے داخلی معاملات میں پراکسی جنگ کے ذریعے ہمیں کمزور کر رہا ہے۔ پہلے ہی پاکستان میں عدلیہ، میڈیا، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کافی دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں۔ عالمی برادری میں یہ تصور موجود ہے کہ پاکستان میں ان اداروں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ بالخصوص 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔ یہ جو کنٹرولڈ اور ہائبرڈ نظام ہے، اس سے بھی ہمارے مسائل حل ہونے کے بجائے اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں مذاکرات اور بات چیت کی بات تو کرتی ہیں لیکن ان میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ ہر فریق اپنے ایجنڈے کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں نہ تو مذاکرات ہو سکتے ہیں اور نہ مفاہمت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم کو لوگوں کو دیوار سے لگانا ہے اور فردِ واحد کی بنیاد پر حکمرانی کرنی ہے تو اس سے معاشرے میں سوائے انتشار کے اور کچھ پیدا نہیں ہوگا۔ ریاست اور حکومت کی بڑی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ سنجیدہ مکالمے کے لیے حالات کو سازگار بنائے اور سب کو ساتھ لے کر چلے۔ ہم جتنے بھی ترقی کے دعوے کر لیں اور جتنے بھی سیاسی چھکے عالمی سیاست میں مار لیں، لیکن جب تک ہم داخلی مسائل کا حل نہیں نکالیں گے اور ایک دوسرے کو قبول کر کے ترقی کا روڈ میپ اختیار نہیں کریں گے، ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔ لوگ اب جذباتی نعروں کے مقابلے میں عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان اور ریاستی ادارے ماضی اور حال کے مقابلے میں زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ موجودہ حالات ہمیں کسی قسم کی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتے۔ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے ہر ادارے کو اپنے اپنے آئینی، سیاسی اور قانونی دائرۂ کار میں کام کرنا ہوگا۔ لیکن اگر ہم ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کریں گے یا ان کے دائرۂ کار میں اپنی مداخلت کا جواز پیش کریں گے تو اس سے اداروں کے درمیان ایک ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوگا، جو کسی بھی صورت میں ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ جس طرح سے ہم نے اداروں کو مفلوج کر دیا ہے، اس سے قومی سیاسی نظام بگاڑ کا شکار نظر آتا ہے۔ حکمران طبقات میں شامل لوگ خود مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں اور جس طرح سے وزیر ِ داخلہ محسن نقوی نے حالات کی نشاندہی کی، اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا موجودہ سیاسی نظام یا حکومت کتنی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ملک کا وزیراعظم اور وزرا خود اپنے ایک وزیر کے سامنے کتنے بے بس نظر آتے ہیں اور ان کے بیانات پر خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ کن حالات میں حکمرانی کے نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے سیاسی، آئینی اور قانونی فیصلے سیاسی عجلت میں کیے یا لوگوں پر مسلط کیے، یا آئینی اور قانونی طریقۂ کار سے باہر نکل کر کچھ بڑے اقدامات کرنے کی کوشش کی، تو اس سے بھی نئے تنازعات جنم لیں گے۔ سیاسی مکالمہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ جو پارلیمنٹ سے باہر بیٹھی جماعتیں ہیں، یا سول سوسائٹی ہے، یا دیگر رائے عامہ بنانے والے ادارے ہیں، ان سب کو مل کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سب مل کر ریاست کے مفاد کو ترجیح دیں گے اور ریاست بھی متبادل لوگوں کی آوازوں کو سن کر اپنی حکمت ِ عملی کو ترتیب دے گی۔ یہ نظام پہلے ہی کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہے اور مزید نئی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس لیے اس نظام میں تبدیلیاں درکار ہیں، لیکن تبدیلیوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک بڑی قومی مشاورت کا حصہ بنیں اور بالخصوص چھوٹے صوبوں کو اس مشاورت میں شامل کر کے ان کے تحفظات کو دور کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جو موجودہ سیاسی بندوبست عملاً ناکام ہو چکا ہے۔ سیاسی، معاشی سمیت سیکورٹی محاذ پر بھی اس نے ایسی کوئی کارکردگی نہیں دکھائی جس سے قومی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکی ہو۔ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی اپنی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ حالات میں جو غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں یا بگاڑ سامنے آ رہا ہے، اس کا علاج ہمیں غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر تلاش کرنا ہوگا۔ پاکستان کے مسائل کا حل کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہے۔ ہمیں ایک بڑے فریم ورک میں بیٹھ کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ جب تک ادارے خود کو آئین اور قانون کی حکمرانی کا پابند نہیں کریں گے اور سیاسی و جمہوری عمل کی بنیاد پر ریاستی نظام کو نہیں چلایا جائے گا، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اس وقت تو ایسا نظر آتا ہے جیسے ہمیں کسی آئین اور قانون کی ضرورت نہیں ہے اور ہم اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے مختلف اداروں کے درمیان ایک ٹکراؤ کی کیفیت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم وقت کو ضائع نہ کریں اور موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک بہتر حکمتِ عملی کے تحت معاملات کو بات چیت، مکالمے اور فہم و فراست کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کریں۔ یہی ایک سیاسی اور جمہوری طریقہ ہے اور دنیا کے سیاسی اور جمہوری معاشروں میں اسی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہماری ریاست اور حکمران دنیا کے تجربات سے کچھ سیکھ سکیں گے اور کچھ ایسا کر کے دکھائیں گے جس سے ہم اپنے داخلی معاملات کا بہتر حل تلاش کر سکیں؟ اس سوال پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں، کیونکہ ہماری سیاسی قیادت نے موجودہ حالات میں خود کو اتنی کمزور پوزیشن پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ اب ان کا اپنا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ جو کچھ ملک میں جمہوری نظام کمزور ہو رہا ہے، اس میں دیگر قوتوں کے ساتھ ساتھ خود ہماری جمہوری قوتوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے، جنہوں نے سیاسی سمجھوتوں کی بنیاد پر قومی جمہوری مقدمہ کمزور کیا ہے۔