پاکستانیت کا تصور کیوں راسخ نہیں ہوسکا
آخری حصہ
رنگ، نسل اور زبان کا تنوع اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی تخلیق کا حسن اور اس کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے‘‘۔ (الروم: 22) خلافت راشدہ سے لے کر اموی، عباسی اور عثمانی خلافت تک اس قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اس تنوع کو قبول کیا گیا بلکہ غیر عرب ثقافتوں اور زبانوں کو ترقی کے بے پناہ مواقع دیے گئے۔ اسلام نے ایک طرف عربی کو دین اور سیاست کی مشترکہ زبان بنایا تو دوسری طرف مقامی زبانوں اور ثقافتوں کا گلا گھو نٹنے کے بجائے انہیں علم وادب کے اعلیٰ ترین معیار تک پہنچایا۔ رنگ اور نسل کی تفریق کو اس طرح ختم کیا گیاکہ سیدنا صہیب رومی ؓ(رومن) سیدنا سلمان فارسی ؓ (ایران) اور سیدنا بلال حبشیؓ (افریقا) کو اسلام کے ابتدائی دور میں ہی وہ مقام ملا جو بڑے بڑے عرب سرداروں کو حاصل نہیں تھا۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں جب ایران، شام اور مصر فتح ہوئے تو وہاں کے مقامی لوگوں کے حقوق، زمینیں اور ثقافتی قوانین برقرار رکھے گئے۔
خلافت عباسیہ غیر عرب زبانوں اور علوم کو ترقی دینے کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ بغداد میں بیت الحکمت میں یونانی، سنسکرت، لا طینی، سریانی اور فارسی کتابوں کے عربی میں ترجمے ہوئے۔ عیسائی، یہودی اور پارسی اسکالرز کو دربار کی سرپرستی حاصل تھی۔ خلافت کی سرپرستی میں ہی ایران میں فردوسی، سعدی شیرازی، حافظ شیرازی اور عمر خیام جیسے عظیم شعرا اور مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے فارسی کو دنیا کی عظیم اور خوبصورت ترین ادبی زبانوں میں سے ایک بنادیا۔ حدیث، فقہ اور سائنس کے میدان میں امام بخاری، امام ترمذی، ابن سینا، فارابی اور الخوار زمی کا تعلق عجم (وسطی ایشیا) سے تھا۔ خلافت کی عظیم الشان تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام اس معاملے میں ’’اتحاد بین التنوع‘‘ (Unity in Diversity) کا اصول اپناتا ہے۔
پروفیسر اینی ماری شمل نے پاکستان کی ثقافت اور تصوف پر بہت کام کیا۔ ان کے خیال میں پاکستان کا اصل حسن اس کا ثقافتی تنوع تھا، جسے قومی دھارے میں صحیح جگہ نہیں ملی۔ وہ کہتی ہیں ’’پاکستان ایک ایسا باغ ہے جہاں سندھی، پنجابی، پشتو اور بلوچی رنگ برنگے پھول ہیں۔ اگر ریاست ان پھولوں کی منفرد خوشبو کو قبول کرنے کے بجائے سب کو ایک ہی رنگ میں رنگنے کی کوشش کرے گی، تو یہ تنوع خوبصورتی کے بجائے تنازع بن جائے گا۔
پاکستان میں اس تنوع کے تنازع بننے کا احوال بڑا خونریز اور دل شکن ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد بنگالی جو اکثریت کی زبان تھی اسے قومی زبان تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ فروری 1952ء کی بنگالی زبان کی تحریک پر ریاستی تشدد اور بعد میں معاشی اور سیاسی طاقت سے محرومی نے بنگالیوں میں وہ احساس محرومی پیدا کیا جو 1971ء میں بنگلا دیش کے قیام کا سبب بنا۔ اسلامی تاریخ کے اس بدترین حادثے سے بھٹو نے یہ سبق سیکھا کہ انہوں نے 1972ء میں سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کا بل پاس کرکے اسے صوبائی زبان قرار دے کر سندھ کی سیاست کو مستقل طور پر لسانی بنیادوں پر تقسیم کردیا۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود سوئی گیس، گوادر پورٹ اور ریکوڈک کے بڑے منصوبوں منافع کا جائز حصہ نہ ملنے اور مقامی لوگوں کو بنیادی سہولتیں نہ ملنے اور طویل فوجی آپریشنز، سیکورٹی چیک پوسٹس اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے شدید غصے میں ہے۔ پختون خوا کئی دہائیوں سے مسلسل میدان جنگ بنے رہنے، لاکھوں پختونوں کے بے گھر ہونے اور کاروبار تباہ ہونے پر اور ماورائے عدالت قتل، سیکورٹی کے نام پر تذلیل، بارودی سرنگوں کی موجودگی اور حقوق کی پامالی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔
جہاں تک ریاست اور عوام کے درمیانی عمرانی معاہدے (Social Contact) کا تعلق ہے جس کے تحت عوام اپنے کچھ حقوق اور ٹیکس ریاست کے سپرد کرتے ہیں اور بدلے میں ریاست انہیں جان اور مال کا تحفظ، انصاف اور بنیادی سہولتیں مہیا کرتی ہے، پاکستان میں ریاست اور عوام کے درمیان یہ معاہدہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ ریاست شہریوں کو جان ومال کا تحفظ، بجلی، صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ عوام پر ان ڈاریکٹ ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھا یا جارہا ہے۔ ایلیٹ کلاس کو نہ جانے کہاں کہاں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جارہی ہے جب کہ غریب پس رہا ہے۔ جب عوام انصاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھاتے ہیں تو ریاست طاقت، سنسر شپ اور جبری گم شدگیوں کا سہارا لے کر عوام کا بچا کچا اعتماد بھی ختم کردیتی ہے۔
Why Nations Fail کے مصنفین لکھتے ہیں ’’جو ملک تباہ ہوتے ہیں وہاں استحصالی ادارے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں طاقت اور وسائل چند جرنیلوں، سیاست دانوں، جاگیرداروں اور ججوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ اشرافیہ (دراصل بد معاشیہ) عام لوگوں کو اوپر نہیں آنے دیتی۔ جب تک ادارے سب کو ساتھ لے کر چلنے والے نہیں بنتے، عمرانی معاہدہ بحال نہیں ہوسکتا‘‘
Pakistan A Hard Country کے مصنف انا ٹول لیوین کہتے ہیں ’’پاکستان کا سماجی تانا بانا برادریوں، قبیلوں اور علاقائی قومیتوں میں بٹا ہوا ہے۔ جب وفاقی ریاست ایک ایسا عادلانہ نظام دینے میں ناکام ہوجائے جہاں ہر زبان اور ثقافت کو برابر کا احترام ملے تو لوگ ریاست کے بجائے اپنے قبیلے یا علاقائی قومیت (بلوچ، پختون، سندھی) کو اپنی پناہ گاہ سمجھنے لگتے ہیں جو کہ موجودہ ہنگاموں کی اصل وجہ ہے‘‘۔
پاکستان میں ہماری فوج کے جرنیلوں اور سول حکمرانوں نے جس سیکولر نظام کے تحت حکومت کرنے کی طرح ڈالی ہے مغربی وطنیت کا تصور اس کے تحت ملک وقوم میں سرایت نہ کرتا، ایسا ممکن نہیں تھا۔ جب ہم نے لا الہ الا اللہ کو پس پشت ڈال دیا تو جو خلا پیدا ہوا اسے لسانیت، صوبائیت اور برادری ازم پُر کرتے، ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ اسلامی نظام کی عدم موجودگی میں عوام کے پاس اکٹھے رہنے کی کوئی بڑی فکری وجہ باقی نہیں رہی ہے۔ جب ایک ایسی ریاست میں جہاں پانچ بڑی زبانیں ہوں اور درجنوں ثقافتیں ہوں اسلام کو فراموش کرکے مغربی وطنیت نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ہر لسانی گروپ اپنی بقا کی جنگ شروع کردے گا چاہے اس جنگ میں ریاست سے ہی نبردآزما کیوں نہ ہونا پڑے۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے لاالہ الا اللہ کا عہد کرنے کے باوجودپاکستان میں عملاً انگریز کا چھوڑا ہوا عدالتی، معاشی، سیاسی سیکولر اور نو آبادیاتی نظام برقرار رکھا گیا طاقتور جسے توڑتا ہوا نکل جاتا ہے اور غریب پھنس جاتا ہے۔ عوام اندھے اور بہرے نہیں ہیں انہوں نے جب دیکھا کہ فوج اور سول حکمران طبقہ اسلام کا نام صرف ان کے استحصال کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے اور خود ہر قانون سے ماورا ہے تو ان کا ریاست کے بیانیے اور اداروں سے اعتماد اٹھ گیا اور وہ اپنی مادی اور علاقائی شناختوں کے سرابوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے پاکستانیت کو ایک خوبصورت اور ہمہ گیر اسلامی تہذیب بنانے کے بجائے ایک سیکورٹی پراڈکٹ بنادیا ہے اس کے بعد یہ شکوہ کہ لوگ پاکستانیت کے بجائے پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی، کشمیری یا گلگتی ہونے پر کیوں اصرار کر رہے ہیں، صاحب سے اس کے علاوہ کیا عرض کی جاسکتی ہے: گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے؍ ارشادِ نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے۔ اقوام میںمخلوق خدا بٹتی ہے اس سے؍ قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے۔