وہ صبح تب ہی تو آئے گی
مہنگائی کا وہ حال ہے کہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے حساب سے اپنے آمدنی بڑھانے کے لیے مختلف کام اور روزگار کے ذرائع کی تلاش کر رہے ہیں۔ بہت سے نوکری پیشہ افراد دفتر سے چھٹی کے بعد آن لائن ٹیکسی چلا رہے ہیں لیکن اس میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان کے روزگار کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پٹرول کی موجودہ قیمتوں کے باعث اب ان کا خرچہ بھی نہیں نکل پاتا، بہت سے پٹرول پمپ پر کام کرنے والے نوجوان یہ بتاتے ہیں پٹرول کی قیمت کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن تنخواہ وہیں کی وہیں ہے۔ اضافی کام کے معاملے میں ہر کوئی پریشان ہے کچھ اسکول ٹیچر اسکول کے بعد گھر سے آن لائن بزنس کر رہی ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اب ایک نوکری کے ساتھ دوسری نوکری بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ مہنگائی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایک نوکری کے بعد دوسری نوکری کرنا آسان نہیں ہے۔ عوام کیا کریں وفاقی وزیر خزانہ بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ اس سال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومت پٹرول پر علٰیحدہ ٹیکس وصول کرتی ہے جس کا نام لیوی ہے۔ یہ لیوی اور عام ٹیکس میں کیا فرق ہے؟ لیوی ایک خاص قسم کا جبری وصول کیا جانے والا ٹیکس یا فیس ہے بلکہ اسے بھتا کہنا چاہیے جو حکومت کسی مخصوص اخراجات کے لیے مختص کرتی ہے وہ مقصد لگژری گاڑیاں اور ہوائی جہاز بھی ہوتی ہیں حکومت کا کہنا ہے کہ کو اس سے اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرتی ہے کیونکہ اس کی نااہلی اور اللے تللوں کے باعث یہ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لیوی کی یہ رقم براہ راست وفاقی حکومت کے پاس جاتی ہے ہماری نااہل حکومت اپنے عیاشیوں کے لیے اسے استعمال کرتی ہے یعنی اپنی عیاشیاں اور اخراجات کم نہیں کرنے بلکہ عام اور غریب طبقہ رکشے والے ٹیکسی والے بائیکیا اور فوڈ ڈیلیورز پر اس کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
حکومت ایک دن پٹرول میں چار روپے کا اضافہ کر دیتی ہے تو دوسرے دن اس میں دو روپے کمی کر لیتی ہے یعنی ایک طرف عوام کو مشکل میں ڈالا جاتا ہے اور پھر احسان جتاتے ہوئے دو روپے کی کمی کر لی جاتی ہے۔ یہ لیوی ٹیکس جو پٹرول کی مصنوعات پر وصول کیا جاتا ہے دراصل بھتا ٹیکس ہے ایک ایسا جبری ٹیکس ہے جو پٹرول کی قیمتوں پر لگایا جاتا ہے یعنی ایک لیٹر پٹرول پر کوئی 125 روپے لیوی اور اس کے ساتھ ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں اور یہ کس سے وصول کیے جاتے ہیں انتہائی غریب لوگ اس کو ادا کرتے ہیں۔ عام طالب علم، فوڈ سپلائی اور بائیک اور رکشے چلانے والے عام محنت کش اس کا شکار ہیں دوسری طرف آئی پی پیز مافیا کو سالانہ ہزاروں ارب روپے اس بجلی کی قیمت میں ادائیگی کی جا رہی ہے جو سرے سے وہ بناتے ہی نہیں ہے۔ سابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اصل جڑ مہنگی ترین بجلی ہے مہنگی ترین بجلی نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اور مہنگی بجلی کی وجہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے بدترین معاہدے ہیں جن کو بجلی بنائیں نہ بنائیں فکس چارجز ادا کیے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ ان سب کو سابق ہونے کے بعد ہی یہ سب یاد آتا ہے۔
جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی اور ٹیکسوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے رہی ہے اس احتجاج کے اہم مطالبات تین ہیں نمبر ایک لیوی کا خاتمہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹرول پر ظالمانہ لیوی بھتا ٹیکس فی الفور ختم کیا جائے نمبر دو انرجی سیکٹر اور آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے نمبر تین مہنگائی کے مارے عوام کو سہولت دینے کے لیے اشیاء خورو نوش اور یوٹیلٹی بلوں میں کمی کی جائے۔ جماعت اسلامی عوام کے لیے ہمیشہ کھڑی ہوتی ہے آج بھی وہ عوام کو مہنگائی کے عذاب سے بچانے کے لیے کھڑی ہے اور عوام کو پکار رہی ہے کہ:
وہ صبح تبھی تو آئے گی
سنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گے۔
بے گھر بے در بے بس انساں تاریک گھروں سے نکلیں گے۔
بیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کے۔
ٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کے۔
جب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اُٹھائی جائے گی۔
وہ صبح ہمی آسے آئے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
وہ صبح ہمی سے آئے گی
اس صبح کو ہم ہی لائیں گے
وہ صبح ہم ہی سے آئے گی