یہ کیا ہو
|

یہ کیا ہو رہا ہے؟

کیا وطنِ عزیز کسی کی جاگیر ہے؟ یہ سوال آج محض ایک ناراض شہری کا سوال نہیں، یہ اس قوم کے اجتماعی ضمیر کی دستک ہے جس نے اس ملک کے قیام کی قیمت محض ہجرت سے نہیں بلکہ اپنے خون سے ادا کی تھی۔ یہ وہ ملک ہے جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو ہے اور وہ جنہوں نے ہجرت کا دکھ سہا ، ایک دوسرے اور خاندان ،قبیلوں سے بچھڑ کر کونجوں کی طرح کرلاتے ہوئے ، لہو کا دریا پار کرکے یادوں کے رستے زخم لئےیہاں پہنچے۔ کتنےخاندان تھےجو اپنے پیاروں کو بے گور و کفن چھوڑ آئے، کتنے لوگ ریل گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے منزل تک پہنچنے سے پہلے لقمہ اجل بن گئے ، اور کتنے ایسے تھے جنہوں نے ایک آزاد وطن کا خواب اپنی آنکھوں میں سجایا مگر اس خواب کی تعبیر دیکھنے سے پہلے ہی موت کے پروانے لئےہماری آزادی پر قربان ہوگئے۔سوال یہ ہے کہ ان قربانیوں کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس لیے ایک ملک حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں قانون طاقتور کے دروازے پر سلام کرے اور کمزور کے لئے سزا بن جائے؟ کیا اس لیے ہجرتیں ہوئیں تھیں کہ ریاست چند خاندانوں، اداروں، گروہوں یا مراعات یافتہ طبقات کی ملکیت بن جائے؟ کیا اس لیے ماں نے اپنے بیٹے کھو دیئے تھے کہ آنے والی نسلیں انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائیں؟وطن کسی فرد، خاندان، جماعت یا ادارے کی جاگیر نہیں ہوتا۔ ریاست اپنے شہریوں کی امانت ہوتی ہے۔ اور امانت کا سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اس میں کسی کے ساتھ امتیاز نہ ہو۔بدقسمتی سے آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید معاشی بحران بھی نہیں، سیاسی عدم استحکام بھی نہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی نہیں۔ اصل بحران ریاستی اعتماد کا فقدان ہے۔ عام آدمی کا یہ یقین کم سے کم ہوتا جارہا ہے کہ ریاست واقعی اس کی ہے۔وہ بجلی کا بل دیتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، مہنگائی برداشت کرتا ہے، اپنے بچوں کو مشکل حالات میں پڑھاتا ہے، بیماری میں اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے، مگر جب وہ اپنے حق کے لئے کسی دفتر یا ادارے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ قانون کی کتاب سب کے لئے ایک ہوسکتی ہے، لیکن اس کا اطلاق سب پر یکساں نہیں۔یہی احساس کسی بھی ریاست کے لیے زہر ہلاہل کی مثل ہوتا ہے۔
دنیا کی کتنی ہی ریاستیں پاکستان کے بعد آزاد ہوئیں۔ کچھ ہم سے کہیں چھوٹی تھیں، کچھ کے پاس ہمارے مقابلے میں وسائل کم تھے، بعض جنگوں اور خانہ جنگیوں سے تباہ ہوئیں، بعض کے پاس قدرتی دولت بھی نہ تھی۔ مگر انہوں نے ایک چیز کو سنبھال لیا، وہ ہے ریاستی نظم۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ ملک صرف نعروں سے نہیں بنتا۔ بلکہ اداروں سے بنتا ہے، قانون سے بنتا ہے، تعلیم سے بنتا ہے، میرٹ سے بنتا ہے، احتساب سے بنتا ہے اور سب سے بڑھ کر شہری کے اعتماد سے بنتا ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو مسلسل سیاسی کشمکش کا میدان بنادیا۔ حکومتیں آئیں،گئیں،اسمبلیاں بنیں، ٹوٹیں، وزیراعظم بدلے، پالیسیاں بدلیں، مگر ریاستی نظام کی بنیادی مستحکم ہونے سے محروم رہیں ۔ہم آج بھی یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ اصل طاقت آئین کی ہوگی یا کسی شخصیت کی، پارلیمان کی ہوگی یا کسی غیر منتخب قوت کی، قانون کی ہوگی یا تعلقات کی۔جب ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود کے مضبوط ہونے کے بجائے سیاسی تنازعات کا حصہ بن جائیں تو عوام کے دل میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر فیصلے کون کرتا ہے؟ اور جب یہ سوال مسلسل بے جواب رہے تو جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام رہ جاتی ہے جمہوریت بھی ہمارے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ۔ہم جمہوریت کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام ہے؟ اگر انتخابات کے بعد بھی عام شہری کو اپنے نمائندے تک رسائی نہ ہو، اگر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری روایات کی قوی مضمحل ہو ، اگر اختلافِ رائے کو غداری، دشمنی یا سازش سمجھ لیا جائے، اگر اقتدار کی منتقلی کو شکست اور انتقام کا آغاز تصور کیا جائے تو پھر جمہوریت محض ایک خوبصورت لفظ رہ جاتا ہے۔
ہماری سیاست میں اقتدارحاصل کرنامقصد بن گیا ہے، ریاست چلانا نہیں۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں تو اپوزیشن کو دشمن سمجھتی ہیں، اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو حکومت کو ناجائز سمجھتی ہیں۔ کل جو عمل غلط تھا، آج وہی عمل اپنے حق میں درست قرار پاتا ہے۔ اصول پیچھے رہ جاتے ہیں مفادات آگے آجاتے ہیں اور جب سیاست اصول سے خالی ہوجائے تو ریاست کا نظام بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔مشرقی پاکستان کی جدائی سے ہم نے کیا سیکھا؟ہماری تاریخ کاسب سے بڑا سانحہ سقوط ڈھاکہ تھا ،ہم ایک بازو سے محروم ہوگئے ۔اس سانحے کو محض بیرونی سازش کہہ کر اگر ہم مطمئن ہوجائیں تو شاید ہم تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ بیرونی عوامل اپنی جگہ، مگر قوموں کے اندر موجود سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی تضادات بھی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں۔بنگلہ دیش آج ہمارے سامنے ایک زندہ سوال بن کر کھڑا ہے۔وہی خطہ جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا، آج بعض معاشی و سماجی اشاریوں میں پاکستان سے بہتر کارکردگی دکھا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کوئی مسئلہ نہیں، وہاں بھی سیاسی کشمکش، غربت، عدم مساوات اور دیگر بحران موجود ہیں۔ مگر اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ اس نے بعض شعبوں میں ایسی پیش رفت کی جس سے ہمیں اپنے قومی سفر کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ہمیں بنگلہ دیش سے حسد نہیں، سبق لینا چاہیے۔ قومیں دوسروں کی کامیابی سے اپنی شکست کا اعلان نہیں کرتیں، اپنی اصلاح کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔ہمارے پاس وسائل کم نہیں، ہماری ترجیحات تعین صحیح طور پر نہیں ہو سکا۔پاکستان غریب ملک نہیں، لیکن پاکستان میں غریب بہت ہیں۔یہ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس زرعی زمین ہے، معدنی وسائل ہیں، نوجوان آبادی ہے، سمندر ہے، جغرافیائی اہمیت ہے، باصلاحیت لوگ ہیں، بیرونِ ملک لاکھوں پاکستانی ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔مسئلہ صرف وسائل کا نہیں۔ مسئلہ انتظام، ترجیحات اور حکمرانی کا ہے۔
( جاری ہے )

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *