|

آزاد کشمیر کو امن اور محبتیں واپس کرو

انتہائی پرامن اور محبتوں کی سر زمین خطہ آزاد جموں و کشمیر کے امن اور محبتوں کو نجانے کس کی نظر لگ گئی؟اپنے حقوق کے لئے جہدوجہد کرنے والے کشمیری عوام پر گولیاں چلانا نرم سے نرم لفظوں میں بھی ظلم ہی کہلائے گا،راولاکوٹ،میرپور وغیرہ میں انسانی جانوں کا ضیاع کسی المیے سے کم نہیں،جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے مطابق ’’راولا کوٹ میں فائرنگ اور شہریوں کے قتل اور زخمی کئے جانے کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت اگر ہماری ثالثی کی پیشکش مان لیتی اور مذاکرات کرتی تو یہ خون نہ بہتا۔ ایک طرف الیکشن کے نام پر بندر بانٹ جاری ہے اور دوسری طرف مظاہرین سے مذاکرات کے بجائے گولی اور طاقت کی زبان میں بات ہورہی ہے۔ ان عاقبت نا اندیشانہ اور ظالمانہ فیصلوں سے کشمیر کی آزادی کی تاریخی جدوجہد کو عملاً سبوتاژ کیا جارہا ہے حکمرانوں کو ڈھٹائی چھوڑ کر اپنا طرزعمل بدلنا ہوگا اور فی الفور بات چیت کے ذریعے اس مسلے کا پر امن حل نکالنا پڑے گا‘‘ جبکہ جمعیت علما اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی اپنی ہی نہتی عوام پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچے لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں۔ حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا؟ ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے ،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے۔ اس ظلم وبربریت کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگوہیں اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں،صرف حافظ نعیم الرحمن یا مولانا فضل الرحمن ہی نہیں،بلکہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہر دردمند دل رکھنے والا پاکستانی تشویش کا اظہار کر رہا ہے،پاکستانیوں کی خواہش یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں اور ہر قسم کے تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے مسائل کے پرامن حل کی طرف پیش رفت کریں۔ حکمران ہوں یا عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران وہ یہ بات یاد رکھیں کہ بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ بالخصوص فورسز یا شہریوں میں سے کسی بھی جانب سے انسانی جانوں کا نقصان ہرگز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔اگر اس نازک ترین موقع پرحکومت آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی کی قیادت تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کریں، جس سے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں، امن و امان بحال ہو اور تشدد کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہو تو یہ ’’امن‘‘ اور ’’عوام‘‘کی جیت ہو گی،یہ امر بھی انتہائی قابلِ غور ہے کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ صرف چند مطالبات یا احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ یہ وہاں کے عوام کے احساسِ محرومی، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن انداز میں سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ریاست کی اولین ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ ان کی آواز سنے، ان کے تحفظات کو اہمیت دے اور افہام و تفہیم کے ذریعے ایسے راستے تلاش کرے جو تمام فریقوں کے لئے قابلِ قبول ہوں۔ طاقت کا استعمال وقتی طور پر حالات کو دبا تو سکتا ہے، مگر مسائل کا مستقل حل کبھی بھی نہیں بن سکتا۔آزاد کشمیر کی دھرتی ہمیشہ سے امن، بھائی چارے، رواداری اور محبت کی علامت رہی ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ اپنی بے مثال محبت اور وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسی سرزمین پر خون بہنے کی خبریں سامنے آتی ہیں تو نہ صرف کشمیری، بلکہ پورا پاکستان رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی فضاء کو نقصان پہنچائیں۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑا بحران بھی مذاکرات، برداشت اور دانشمندی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
دنیا کے مہذب معاشروں میں اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سنا جاتا ہے اور عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت عوامی نمائندوں، ایکشن کمیٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں کو ساتھ بٹھا کر ایک جامع اور قابلِ عمل لائح عمل مرتب کرے تو نہ صرف موجودہ کشیدگی ختم ہو سکتی ہے، بلکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام بھی ممکن ہو سکتی ہے۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات اور نفرت کو ہوا دینے والے رویوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ افواہوں اور غلط اطلاعات کے ذریعے حالات مزید خراب نہ ہوں۔ قومی وحدت اور یکجہتی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی بات سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کا امن صرف وہاں کے عوام کے لئے ہی نہیں، بلکہ پاکستان کی داخلی سلامتی، قومی یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کے عالمی موقف کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی بدامنی یا تصادم سے وہ عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو پاکستان اور کشمیر کے درمیان مضبوط رشتے کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کی بجائے حالات کو معمول پر لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اگر کسی بھی جانب سے قانون یا اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہے تو اس کی شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے ،بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، کیونکہ یہی عوام کے اعتماد کی بحالی کا بنیادی ذریعہ ہے۔آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ انا، ضد اور سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ طاقت کے بجائے مکالمے، تصادم کے بجائے مفاہمت اور نفرت کی بجائے محبت کو فروغ دیا جائے۔ اگر تمام متعلقہ فریق خلوصِ نیت کے ساتھ آگے بڑھیں تو یقینا آزاد کشمیر ایک بار پھر اپنی پہچان، یعنی امن، بھائی چارے اور محبتوں کی سرزمین بن سکتا ہے، اور یہی وہ کامیابی ہوگی جسے آنے والی نسلیں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *