تجزیہ: سمیع اللہ ملک

  • |

    احتساب کے بندھے ہوئے ہاتھ

    قوموں کی زندگی میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جومحض عدالتوں کی چاردیواری،پارلیمان کی میزوں یاسرکاری فائلوں تک محدودنہیں رہتے؛وہ رفتہ رفتہ ریاست اورشہری کے باہمی اعتمادکاپیمانہ بن جاتے ہیں۔ احتساب بھی ایساہی ایک سوال ہے۔جس ریاست میں قانون کاترازومضبوط ہو، وہاں حکومتیں بدل سکتی ہیں مگرانصاف کامعیار نہیں بدلتا؛اور جہاں قانون کی دھار طاقتورکے […]

  • |

    خلیج کانیاعہد

    تاریخ کی بساط پربعض اوقات ایسےواقعات رونماہوتے ہیں جوبادی النظرمیں محض سفارتی معاہدے،سرکاری دستاویزات یا عسکری تعاون کے رسمی اعلانات معلوم ہوتے ہیں، مگروقت کا دریچہ ذراوسیع کیاجائےتوانہی سطروں کےعقب میں آنےوالےزمانوں کی پرچھائیاں دکھائی دینےلگتی ہیں۔پاکستان اورکویت کے مابین تازہ دفاعی تعاون اورپاکستان، سعودی عرب اورترکی سے منسوب مکہ دفاعی معاہدے کاقریب قریب ایک […]

  • |

    دوستی یا مفاد؟

    (گزشتہ سےپیوستہ) ہرناکامی کاسبب بیرونی ہاتھ قراردے دینے سے قومیں اپنے داخلی کمزورہاتھوں کودیکھنابھول جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پھراصل مسئلہ کیاہے؟ خارجہ پالیسی یاداخلی کمزوری؟دنیامیں کمزور معیشت کے ساتھ مکمل خودمختارخارجہ پالیسی قائم رکھنادشوارہوتاہے۔قرض مانگنے والی ریاست کی آوازاورقرض دینے والی ریاست کی آوازکاوزن عالمی مجلس میں یکساں نہیں ہوتا۔سیاسی عدم استحکام،کمزور ادارے،توانائی بحران،برآمدات […]

  • |

    قومی خزانے کی خاموش نیلامی

    قوموں کی تاریخ صرف فتوحات کے کتبوں، تاج محلوں،ایوانوں اورفرمانرواں کے تذکروں سے نہیں لکھی جاتی؛اس کے بعض ابواب فاقہ زدہ گھروں کے بجھے ہوئے چولہوں،محنت کش کے پسینے،بیوہ کی خاموش آہ،مزدورکی اجرت،مقروض باپ کی جھکی ہوئی پیشانی اوراس نوجوان کی بے یقینی سے بھی رقم ہوتے ہیں جس کے ہاتھ میں ڈگری توہوتی ہے […]

  • |

    تاریخ کے کٹہرے میں

    تاریخ کے اوراق جب بھی خون کے قطروں سے رنگین ہوتے ہیں تووہ محض مقتولوں کی آہ وبکاکانوحہ نہیں لکھتے،بلکہ اپنے حاشیوں پران خاموش تماشائیوں، مفادکے سوداگروں اور قوت کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے نام بھی کندہ کردیتے ہیں،جوبظاہرغیر جانبدار دکھائی دیتے ہیں مگردرحقیقت زمانے کے دھارے کواپنی منافقتوں ومصلحتوں کے مطابق موڑنے […]

  • |

    مکہ معاہدہ،دہلی مضطرب

    تاریخ کےبعض فیصلے شورِشمشیرمیں نہیں، خاموش سفارتی میزوں پرجنم لیتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں نہ کوئی پرچم ہوتاہے،نہ توپ کادہانہ،نہ لشکروں کی گھن گرج؛مگروقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتاہےکہ ایک خاموش دستخط نےطاقت کےپورے نقشے میں ایک نئی لکیر کھینچ دی تھی۔مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان ہونے والادفاعی معاہدہ اسی نوعیت کی […]

  • |

    ایک جنگ بندی، کئی اندیشے

    (گزشتہ سے ییوستہ) جب بندوقیں خاموش ہوتی ہیں تو زبانیں بولنے لگتی ہیں، اور کبھی کبھی یہ زبانیں بندوقوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی قیادت کے بیانات اس تناؤکومزیدواضح کرتے ہیں۔ایک طرف سخت الفاظ کااستعمال اوردوسری جانب جوابی دعوے دراصل ایک ایسی نفسیاتی حکمت عملی کاحصہ ہیں جس کامقصدحریف کومرعوب کرنااوراپنے مؤقف کومضبوط دکھاناہے۔یہ […]

  • |

    ہنگور۔۔۔۔خاموش ضرب

    دنیاکی تاریخ میں کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جواپنی نمودسے نہیں بلکہ اپنی عدمِ نمود سے پہچانی جاتی ہیں۔سمندرہمیشہ سے طاقت، خاموشی اوررازداری کا استعارہ رہاہے۔اس کی گہرائیوں میں وہ قوت پوشیدہ ہے جوبظاہرخاموش مگرحقیقت میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس کےباطن میں طاقت کی ایسی لہریں موجزن رہتی ہیں جوتاریخ کارخ بدل سکتی ہیں۔ […]

  • |

    بارہ نشستیں،تاریخ کانامکمل باب

    (گزشتہ سے پیوستہ) مظاہرین کی جانب سے رکھی گئی شرائط دراصل جہاں اعتماد کی کمی کااظہارہیں،وہاں اعتمادکی بحالی کی کوششیں بھی نظر آر ہی ہیں،جوکسی بھی مذاکراتی عمل کے لئے ناگزیرہوتی ہے۔ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی اشدضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے بات چیت کی آمادگی ایک مثبت اشارہ ہے،مگرسیاسی اختلافات اس راہ […]

  • |

    جب بیانیہ زمین کھو بیٹھے

    (گزشتہ سے پیوستہ) ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہوپرتنقید، خصوصاً عسکری فیصلوں کے حوالے سے ایک غیرمعمولی سفارتی انتباہ ہے،خصوصاًبیروت حملے کے حوالے سے، سیاسی منظرنامے میں بھونچال کاسبب بنی۔یہ محض اختلاف نہیں،ایک طرح کی سیاسی سرزنش ہے بلکہ ایک پیغام ہے کہ اب ترجیحات بدل چکی ہیں۔اس تنقیدکے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدودنہیں […]