تاریخ کے کٹہرے
|

تاریخ کے کٹہرے میں

تاریخ کے اوراق جب بھی خون کے قطروں سے رنگین ہوتے ہیں تووہ محض مقتولوں کی آہ وبکاکانوحہ نہیں لکھتے،بلکہ اپنے حاشیوں پران خاموش تماشائیوں، مفادکے سوداگروں اور قوت کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے نام بھی کندہ کردیتے ہیں،جوبظاہرغیر جانبدار دکھائی دیتے ہیں مگردرحقیقت زمانے کے دھارے کواپنی منافقتوں ومصلحتوں کے مطابق موڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب وقت کی پیشانی پرسوالیہ نشان ابھرتے ہیں،اورتاریخ اپنے قاضیانہ وقارکے ساتھ انسانیت کوکٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے پوچھتی ہے کہ جب ظلم اپنی انتہاکوپہنچ رہاتھا توتم کہاں تھے؟تمہاری خاموشی کس کے پلڑے میں وزن ڈال رہی تھی؟تمہارے فیصلوں نے کن بستیوں کواجاڑااورکن نسلوں کوبے نام قبروں کے حوالے کیا؟
غزہ کی سرزمین جوکبھی تہذیبوں کے سنگم، روحانیت کی آماجگاہ اورصبر واستقامت کی ایک زندہ تمثیل تھی آج ایک ایسے عہدِ ابتلاسے گزررہی ہے جہاں زمین بارودسے اورآسمان معصوم فریادوں کی بازگشت سے بوجھل ولرزاں ہے ۔یہاں صرف عمارتیں نہیں گرتیں،یہاں امیدیں ملبے تلے دبتی ہیں؛یہاں صرف جسم نہیں مرتے،یہاں خواب دفن ہوتے ہیں؛ اوریہاں صرف خون نہیں بہتا،بلکہ انسانیت کی حرمت کاوقاربھی پامال ہوتاہے۔یہ منظرنامہ محض ایک جغرافیائی خطے کی داستان نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی عکاسی ہے جس میں طاقت کوقانون پر،اورمفادکواخلاق پرفوقیت حاصل ہوچکی ہے۔
ایسے میں جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظرعام پرآتی ہے تووہ کسی سرکاری دستاویزکی طرح خاموش نہیں رہتی،بلکہ ایک گونجتی ہوئی صدابن کرابھرتی ہے ایک ایسی صداجوضمیر کے بنددریچوں پردستک دیتی ہے،جوعالمی سیاست کے دبیزپردوں کوچاک کرتی ہے،اورجوہمیں یہ باورکراتی ہے کہ اعدادوشمارمحض گنتی کے لئے نہیں ہوتے،بلکہ وہ اپنے اندرایک پوری داستان سموئے ہوتے ہیں۔ ہرعدد ایک انسانی چہرہ ہے، ہرکھیپ ایک ممکنہ تباہی کی تمہید،اورہرمعاہدہ ایک ایسے فیصلے کی علامت جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کئے جاتے ہیں۔
یہ رپورٹ دراصل ایک اخلاقی استغاثہ ہے ایک ایسااستغاثہ جس میں مدعی بھی انسانیت ہے اور مدعاعلیہ بھی وہی انسان،جواپنی عقل، اپنی قوت اوراپنی ترقی پرنازاں ہے۔یہ ہمیں اس کربناک حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں؛وہ فیکٹریوں کی مشینوں کے شورمیں جنم لیتی ہیں،وہ سفارتی میزوں پررکھے کاغذوں میں سانس لیتی ہیں،اوروہ ان بندکمروں میں پروان چڑھتی ہیں جہاں فیصلے توکیے جاتے ہیں مگران کے اثرات سے بے خبررہنے کادعویٰ بھی کیاجاتاہے۔وہاں جہاں ایک معاہدہ ہزاروں زندگیوں کے زیاں کاپیش خیمہ بن سکتاہے،اورجہاں ایک دستخط تاریخ کے دامن میں ایک نئے المیے کااضافہ کردیتاہے۔
پس یہ لمحہ محض تجزیے کانہیں،احتساب کاہے، یہ وقت محض بیان کانہیں،شعورکی بیداری کاہے۔سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہورہی ہے ،سوال یہ ہے کہ انسان کہاں کھڑاہے۔کیاوہ طاقت کے ساتھ ہے یاحق کے ساتھ؟کیاوہ خاموشی کے پردے میں خودکومحفوظ سمجھ رہا ہے یا سچ کی صدامیں اپناوجود تلاش کررہاہے؟کیونکہ تاریخ،جب اپنافیصلہ سناتی ہے،تونہ وہ طاقت کودیکھتی ہے،نہ دولت کووہ صرف سچ کوپہچانتی ہے اوراسی کودوام بخشتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں درج 2596 کھیپوں کاعددبظاہرایک سرد، بے روح اورمحض شماریاتی حقیقت محسوس ہوتاہے،مگر جب اس پرانسانی بصیرت کی روشنی ڈالی جائے تو یہ عدداپنے اندرایک کربناک داستان سموئے ہوئے نظرآتا ہے۔یہ محض گنتی نہیںیہ ہرہندسہ ایک چیخ ہے، ہرکھیپ ایک آہ،اور ہر ترسیل ایک ایسے المیے کی تمہیدجوابھی مکمل طورپر تاریخ کے اوراق پررقم ہوناباقی ہے۔ ان کھیپوں میں بندبارود، دھات اورٹیکنالوجی صرف مادی عناصرنہیں بلکہ وہ خاموش طاقتیں ہیں جولمحوں میں آبادبستیوں کوکھنڈر، مسکراتے چہروں کوماتم کدہ،اورامیدوں کوملبے تلے دفن کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ وہ اسلحہ ہے جوکسی سرحدکی حفاظت کے بیانیے میں لپٹاہواسہی،مگراپنے ممکنہ استعمال کے تناظر میں ایک محصوراوربے بس قوم کی بقاء کے خلاف استعمال ہونے کے اندیشوں سے جڑا ہواہے۔یہاں معاملہ صرف ہتھیاروں کی ترسیل کانہیں بلکہ اس شعور کا ہے جوان فیصلوں کے پس منظرمیں کارفرماہوتا ہے۔ کیاایک ریاست،جواپنے آپ کوعالمی برادری کاذمہ دار رکن سمجھتی ہے،اس حقیقت سے بے خبررہ سکتی ہے کہ اس کے بھیجے گئے ہتھیارکن ہاتھوں میں جارہے ہیں اورکن جسموں کونشانہ بنارہے ہیں؟
یہ سوال محض تکنیکی یاسفارتی نہیں،بلکہ اخلاقی اورتہذیبی بھی ہے کیونکہ تجارت اگرچہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کاایک ناگزیر جزوہے، مگر جب یہ تجارت انسانی جانوں کے زیاں سے وابستہ ہوجائے تووہ محض لین دین نہیں رہتی بلکہ ایک شعوری شمولیت کاتاثر دینے لگتی ہے۔ ہاں یہ امرزیرِغورآتاہے کہ آیایہ کھیپیں صرف ایک معاشی سودے بازی کاحصہ تھیں، یا ان کے پیچھے ایک ایسی حکمتِ عملی کارفرماتھی جوعالمی طاقت کے توازن میں اپنامقام مستحکم کرنے کی خواہش رکھتی ہے،چاہے اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ2596کھیپیں دراصل2596 سوالیہ نشان ہیںہرایک اپنے ساتھ یہ پوچھتاہواکہ کیاترقی اورطاقت کی دوڑمیں انسانیت کامقام محض ایک ثانوی شے بن کررہ گیاہے؟کیا اعدادو شمار کی چمک میں وہ چہرے اوجھل ہوچکے ہیں جن پران فیصلوں کے اثرات براہِ راست ثبت ہوتے ہیں؟اورکیاعالمی ضمیراب اس قدرمصلحتوں کا اسیر ہو چکا ہے کہ وہ چیخوں کوبھی اعدادمیں تبدیل کرکے ان کی گونج کومدہم کردے؟یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی،مگراس کے ابتدائی ابواب ہی اس قدربوجھل ہیں کہ تاریخ کے صفحات بھی ان کا بوجھ محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں بعض دستاویزات صرف کاغذکے صفحات نہیں ہوتیں بلکہ وہ تہذیب کے اجتماعی ضمیرکی علامت بن جاتی ہیں۔جینوا کنونشن اورنسل کشی سے متعلق بین الاقوامی قوانین بھی اسی امیدکے مظہرہیں کہ انسان اپنی تباہ کن صلاحیتوں پراخلاقی حدود قائم کرے گا، طاقت کوقانون کاپابندبنائے گا،اورجنگ کے اندھیروں میں بھی انسانیت کے چراغ کو روشن رکھے گا۔یہ قوانین دراصل اس احساس کی پیداوارہیں کہ اگرطاقت کوکسی اخلاقی اصول کاپابندنہ کیاگیاتودنیامحض قوت رکھنے والوں کامیدان بن جائے گی،جہاں کمزوراقوام کی زندگیاں طاقت کیایوانوں میں کیے گئے فیصلوں کی نذرہوجائیں گی۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *