ماضی کی شاہراہ، مستقبل کا حصار
(گزشتہ سے پیوستہ)
مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس کا تبادلہ، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، سائبر دفاع، دفاعی پیداوار اور تکنیکی تحقیق و ترقی بتدریج ایک فعال علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو جنم دے سکتی ہیں۔ یہی امتیاز بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آر سی ڈی کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ادارے کمزور ہوں تو معاہدے بھی وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں۔ مکہ معاہدہ بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا؛ اس کا مستقبل اس کے اعلان کی شان و شوکت سے نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کی سنجیدگی سے متعین ہوگا۔پاکستان کے لیے اس انتظام کی اہمیت کچھ زیادہ ہے۔ اسلام آباد کو دو ایسے ممالک کے ساتھ ایک مضبوط علاقائی سلامتی کا شراکت دار میسر آتا ہے جو سفارتی، معاشی اور عسکری اعتبار سے غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، جبکہ ترکیہ ایک قابلِ اعتماد دفاعی اور تکنیکی شریک کے طور پر ابھرا ہے۔ دونوں کے ساتھ تعلقات کا یہ امتزاج ایک ایسے بین الاقوامی نظام میں پاکستان کو زیادہ تزویراتی گہرائی فراہم کرتا ہے جو مسلسل انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔
تاہم پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعتماد کے ساتھ ساتھ تدبر کا دامن بھی تھامے رکھنا ہوگا۔ کوئی دفاعی معاہدہ معاشی قوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار قومی طاقت کی بنیاد معاشی استحکام، تکنیکی ترقی، سیاسی استحکام اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس تعلق کو محض دفاعی تعاون تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، توانائی کے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ میں تبدیل کرے۔اس کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی موجود ہے: کہیں بیرونی قوتیں اس معاہدے کی تعبیر اپنے مفادات کے مطابق نہ کرنے لگیں۔ بعض حلقے اسے ایران کے خلاف کسی فرقہ وارانہ اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں، کچھ اسے مغرب مخالف بندوبست قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اس میں پوشیدہ جوہری پہلو تلاش کر رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل بھی اس سہ فریقی مفاہمت سے خاصے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ایسے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ معاہدے کے فریقین فرقہ وارانہ یا جوہری اتحاد کے تاثر کو مسترد کر چکے ہیں اور اسے دفاعی نوعیت کا قرار دے چکے ہیں۔ یہ مغرب سے لاتعلقی کا اعلان بھی نہیں۔ تینوں ممالک کے مغربی دنیا کے ساتھ اہم تعلقات بدستور موجود ہیں۔ زیادہ درست تعبیر شاید تزویراتی تنوع ہییعنی علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے کسی ایک بیرونی ضامن پر انحصار کے بجائے اپنی داخلی اور باہمی صلاحیت کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔آر سی ڈی کے دور سے آج تک کی سب سے اہم تبدیلی شاید یہی ہے۔ 1964 ء میں علاقائی تعاون کی زبان ترقی کی زبان تھیسڑکیں، تجارت، صنعت اور ثقافت۔ 2026 ء میں اس لغت کے الفاظ بدل چکے ہیں : روک تھام (ڈیٹرنس) بحری سلامتی، دہشت گردی، تکنیکی جنگ، توانائی کا تحفظ اور تزویراتی خود مختاری۔ مگر اس بدلتی ہوئی زبان کے نیچے ایک ہی بنیادی خیال اپنی جگہ موجود ہے، علاقائی ممالک مشترکہ مفادات کو مشترکہ قوت میں تبدیل کریں۔اگر موجودہ انتظامات مستقل ادارہ جاتی نظام، مشترکہ صلاحیتوں اور مسلسل سیاسی عزم میں ڈھل گئے تو مکہ معاہدہ ایک زیادہ خودمختار علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے محض دستخط کافی نہیں ہوں گے؛ معاہدے کو زندہ رکھنے کے لیے ادارے، وسائل، باقاعدگی اور سیاسی ارادے درکار ہوں گے۔پاکستان کو اس لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، مگر وسیع تر علاقائی ذمہ داریوں کو نگاہ سے اوجھل کیے بغیر۔ سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔ تاریخ عین اسی صورت میں خود کو دہراتی نہیں؛ وہ اپنی بازگشت ضرور سناتی ہے۔ آر سی ڈی نے علاقائی ترقی کا خواب دیکھا تھا۔ مکہ معاہدہ علاقائی سلامتی کی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ ایک نے سرحدوں کے آرپار سڑکیں تعمیر کرنے کی کوشش کی تھی، دوسرا سرحدوں کے آرپار دفاعی حصار قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک سیاسی عزم اور ادارہ جاتی صلاحیت کی کمزوری کے باعث اپنے امکانات کو مکمل نہ کر سکا؛ دوسرے کو بھی اسی امتحان سے گزرنا ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والے یہ دستخط کسی کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ اس کے پہلے جملے ہیں۔ یہ جملہ ایک اور مختصر المدت انتظام ثابت ہوگا یا ایک پائیدار علاقائی نظم کی بنیاد بنے گا، اس کا فیصلہ اس امر سے ہوگا کہ تقریب کے اختتام کے بعد یہ تینوں ممالک کیا کرتے ہیں، جب تاریخ ان سے نتائج کا تقاضا شروع کرے گی۔ اقوام کے لئے بھی، انسانوں کی طرح، کسی وعدے کی اصل قدر اس لمحے میں نہیں ہوتی جب وہ زبان پر آتا یا کاغذ پر ثبت ہوتا ہے؛ اس کی حقیقی قدر ان برسوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں اسے نبھایا جاتا ہے۔ وعدہ دستخط سے نہیں، وفا سے تاریخ بنتا ہے۔