مکہ معاہدہ مسلم
|

مکہ معاہدہ، مسلم دنیا کا نیا دفاعی نقشہ

سیاست میں بعض معاہدے کاغذ کے چند صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں ، مگر مصحف تاریخ ان کی نوعیت اور اثرات وسیع المعانی اور کثیرالجہات ہوتے دکھائی ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا ’’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘بھی ایسا ہی ایک تاریخی واقعہ ہے۔ یہ محض تین مسلم ممالک کے درمیان دفاعی سمجھوتا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی طاقت، مشرقِ وسطی کی بے یقینی، امریکہ کے روایتی اثر و رسوخ میں کمی، چین کے بڑھتے ہوئے کردار اور مسلم دنیا کے اپنے دفاعی نظام کی تلاش کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔7 اگست 2026 ء کو مکہ میں طے پانے والے معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس شق کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5سے مماثل قرار دیا ہے، اگرچہ اسے ابھی نیٹو کا متبادل کہنا قبل از وقت ہے۔ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو منظم کرنے کے لیے وزارتی سطح کا نظام اور سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ بھی قائم کیئے جائے عندیہ دیا گیا ہے ۔یہاں سے جو اصل سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ کیا میثاق مکہ مسلم دنیا کے ایک نئے دفاعی نظام کی بنیاد کی حیثیت حاصل کرپائے گا، یا یہ محض موجودہ خطرات کے مقابلے میں تین ممالک کی مشترکہ ضرورت کا وقتی بندوبست ہے ؟قرائن یہ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی حرف آخر نہیں ہے نہ ہی یہ ایک مکمل دفاعی اتحاد ہے، تاہم اگر حالات نے اسے آگے بڑھایا تو یہ مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک نئی تزویراتی دیوار ضرور بن سکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات آج کے نہیں ، دونوں ممالک کے بیچ کئی دہائیوں سے فوجی تربیت، دفاعی تعاون اور سکیورٹی روابط موجود ہیں۔ تاہم 17 ستمبر 2025ء کو اس تعلق کو ایک رسمی تزویراتی شکل اس وقت ملی جب پاکستان اور سعودی عرب نے Strategic Mutual Defence Agreement پر دستخط کئے۔
اس معاہدے میں بنیادی اصول یہ تھا کہ ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور ہوگی اور دونوں ملک مشترکہ دفاعی صلاحیت اور deterrence مضبوط کریں گے۔اکتوبر 2025 ء میں پاکستانی کابینہ نے بھی اس معاہدے پر مہر تصدیق ثبت کی ۔اس وقت بہت سے سوال اٹھے تھے۔ کیا پاکستان سعودی عرب کو جوہری چھتری فراہم کرے گا؟ کیا پاکستان کسی سعودی جنگ میں براہِ راست شریک ہوگا؟ کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے؟ کیا یہ بھارت کے خلاف ایک نیا محاذ ہے؟اسلام آباد نے واضح کیا تھا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔لیکن اگست 2026ء کا مکہ معاہدہ اس پورے قضیئے کو ایک نئے مرحلے میں لے آیا ہے۔ اب دو طرفہ پاکستان سعودی دفاعی تعلق کے ساتھ ترکی بھی شامل ہوچکا ہے۔ترکی کا شامل ہونا معمولی واقعہ نہیں ،پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر قائم ہے، لیکن ترکی کا اس مثلث میں شامل ہونا اس اتحاد کو ایک بالکل مختلف معنویت دیتا ہے۔ترکی نیٹو کا رکن ہے، اس کے پاس جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، جنگی تجربہ اور ایک نسبتا آزاد خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان کے پاس بڑی فوج، جوہری deterrence، میزائل ٹیکنالوجی اور طویل عسکری تجربہ ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل، توانائی، جغرافیائی اہمیت اور مسلم دنیا میں غیر معمولی دینی وسیاسی وزن ہے۔یوں تینوں کی طاقتیں ایک دوسرے کی کمی پوری کرتی ہیں۔ سعودی عرب سرمایہ اور جغرافیہ فراہم کرتا ہے، پاکستان عسکری حجم اور تزویراتی صلاحیت، جبکہ ترکی دفاعی صنعت اور جدید جنگی ٹیکنالوجی۔یہ امتزاج اگر محض بیانات سے نکل کر مشترکہ منصوبہ بندی، انٹیلی جنس، دفاعی پیداوار اور فوجی مشقوں تک پہنچ گیا تو اس کے اثرات خاصے گہرے ہوں گے۔نیٹو کے پاس مشترکہ کمان، ادارہ جاتی ڈھانچہ، طویل تجربہ، مربوط دفاعی منصوبہ بندی اور وسیع عسکری infrastructure ہے۔ مکہ معاہدہ ابھی اس مقام سے بہت دور سہی مگر اس میں نیٹو جیسا ایک بنیادی تصور ضرور موجود ہے۔ایک پر حملہ سب کے لیے خطرہ ہے۔ترک وزیر خارجہ نے بھی اسی تناظر میں اس کی collective-defence شق کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت دی ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ترکی پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس اتحاد کو دوسرے ممالک کے لیے بھی کھولا جاسکتا ہے۔
مصر کا نام ممکنہ شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔اگر کل مصر بھی اس ڈھانچے کا حصہ بن گیا تو صورت حال یکسر بدل جائے گی۔۔ مصر عرب دنیا کی بڑی فوجی طاقت ہے، ترکی خطے کی اہم عسکری قوت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کی بڑی فوجی طاقت ہے اور سعودی عرب مالی و جغرافیائی مرکزیت کا حامل ہے۔تب ایک نیا علاقائی دفاعی architecture وجود میں آسکتا ہے۔معاہدے کے اعلامیئے میں کسی دشمن ملک کا نام نہیں لیا گیا۔ ترکی اور پاکستان دونوں نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔لیکن بین الاقوامی سیاست میں صرف معاہدے کے الفاظ نہیں دیکھے جاتے؛ حالات، جغرافیہ اور طاقت کا توازن بھی زیرغور لایا جاتا ہے۔سعودی عرب کی سب سے بڑی سکیورٹی تشویش میں ایران اور اس سے وابستہ علاقائی قوتیں شامل رہی ہیں۔ یمن، خلیج، بحیرہ احمر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ سعودی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کار اس نئے اتحاد کے پس منظر میں ایران کو ایک اہم factor تصور کرتے ہیں، خواہ معاہدہ باضابطہ طور پر کسی ملک کے خلاف نہ ہو۔یہاں پاکستان کی مشکل شروع ہوتی ہے۔پاکستان کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے تاریخی، مذہبی، تہذیبی اور معاشی تعلقات ہیں۔ پاکستان کسی صورت ایران کے ساتھ مستقل دشمنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔لہذا اسلام آباد کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ سعودی عرب کا قابل اعتماد دفاعی شریک بھی رہے اور ایران کے ساتھ تصادم سے بھی بچ ریے، یہ آسان کام نہیں۔پاکستان کے لیے اس معاہدے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس کی تزویراتی relevance جنوبی ایشیاء کی حدود سے باہر بڑھی ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی بڑی حد تک چین، امریکہ، افغانستان، بھارت اور خلیج کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔مگر اب پاکستان کے پاس ایک نیا امکان ہے ۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *