دوستی یا مفاد
|

دوستی یا مفاد؟

(گزشتہ سےپیوستہ)
ہرناکامی کاسبب بیرونی ہاتھ قراردے دینے سے قومیں اپنے داخلی کمزورہاتھوں کودیکھنابھول جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پھراصل مسئلہ کیاہے؟ خارجہ پالیسی یاداخلی کمزوری؟دنیامیں کمزور معیشت کے ساتھ مکمل خودمختارخارجہ پالیسی قائم رکھنادشوارہوتاہے۔قرض مانگنے والی ریاست کی آوازاورقرض دینے والی ریاست کی آوازکاوزن عالمی مجلس میں یکساں نہیں ہوتا۔سیاسی عدم استحکام،کمزور ادارے،توانائی بحران،برآمدات کی کمی،پالیسیوں کاعدم تسلسل اورداخلی تقسیم کسی بھی بیرونی قوت کے لئے اثراندازہونے کے امکانات بڑھادیتے ہیں ۔اگرپاکستان چاہتاہے کہ واشنگٹن، بیجنگ، ریا ض، تہران،انقرہ یاابوظہبی کے ساتھ اس کے تعلقات قومی مفادکی بنیادپرہوں توپہلی جنگ کسی بیرونی دارالحکومت میں نہیں بلکہ اپنے گھرکے اندرجیتنا ہو گی۔ اقتصادی خودانحصاری،ادارہ جاتی استحکام، قانون کی حکمرانی،قومی اتفاقِ رائے اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری وہ قلعے ہیں جنہیں میزائلوں سے زیادہ دیرپادفاع حاصل ہوتاہے۔
قرآنِ حکیم کااصول ہے،خدانے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جسے خوداپنی حالت بدلنے کاخیال نہ ہو۔قوموں کی تقدیرکاقلم صرف بیرونی ہاتھ نہیں لکھتے، بہت سی سطریں ان کے اپنیے کردارسے بھی رقم ہوتی ہیں۔ان خطرات سے بچنے کے لئے پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟پاکستان کے سامنے راستہ امریکادشمنی یاامریکا پرستی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں۔اسے پاکستان دوستی کاانتخاب کرنا چاہیے۔امریکاکے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی،تعلیم اورانسدادِ دہشتگردی میں تعاون ہوسکتاہے؛چین کے ساتھ سی پیک،دفاعی شراکت اور صنعتی ترقی آگے بڑھ سکتی ہے؛ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی اورتجارت بہترہوسکتی ہے؛سعودی عرب،ترکیہ اورخلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون گہرا ہوسکتاہے۔یہ سب ایک دوسرے کی نفی کیے بغیرممکن ہیں،بشرطیکہ اسلام آباد کی پالیسی کاقبلہ بیرونی دارالحکومت نہیں بلکہ پاکستان کادیرپا قومی مفادہو۔
سی پیک اورگوادرکوبھی نعرے سے نکال کرحقیقی اقتصادی فعالیت میں بدلناہوگا۔بندرگاہ صرف کنکریٹ کے ساحل کا نام نہیں؛اسے ریل، شاہراہ، صنعت، توانائی،امن،مقامی آبادی کی شمولیت اورعالمی تجارت سے مربوط کرناپڑتاہے ۔ ورنہ نقشے پرکھینچی ہوئی عظیم شاہراہ بھی زمینی معیشت میں محض ایک خواب رہ جاتی ہے۔نتیجہ،دوستیاں نہیں،مفادات مستقل ہوتے ہیں۔
پاکستان اورامریکاکی75برس سے زائد تاریخ ہمیں ایک سادہ مگرگراں قدرسبق دیتی ہے:بین الاقوامی سیاست میں دائمی محبتیں بہت کم اور دائمی مفادات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔
امریکانے جہاں اپنے مفادمیں پاکستان سے قربت اختیارکی،وہیں پاکستان نے بھی اپنے دفاعی، معاشی اورسفارتی مفادات کے لئے امریکا سے تعاون کیا۔مسئلہ تعاون میں نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتاہے جب تعاون کودائمی وفاداری کا نام دے دیا جائے۔ ریاستیں درویشوں کی خانقاہیں نہیں ہوتیں کہ وہاں تعلق بے غرض عقیدت پر قائم ہو۔وہ بازارِ سیاست کی وہ دکانیں ہیں جہاں ہرمسکراہٹ کے پیچھے حساب اور ہر مصافحے کے نیچے مفادکی نبض دھڑکتی ہے۔مگراس حقیقت کامطلب بدگمانی،تنہائی یاہرحادثے کے پیچھے سازش تلاش کرنابھی نہیں۔بصیرت کامقام ان دونوں انتہاؤں سے بلندہے۔پاکستان کوامریکاکے بارے میں نہ وہ سادہ لوح خوش فہمی زیب دیتی ہے جس میں ہر وعدہ عہدِوفا معلوم ہو، نہ وہ بے لگام بدگمانی جس میں ہربحران کے پیچھے واشنگٹن کاہاتھ دکھائی دے ۔ قومی حکمت وہ ہے جودوست کی مسکراہٹ بھی پڑھے،حریف کی خاموشی بھی؛معاہدے کی سطربھی دیکھے اوراس کے حاشیے میں چھپی مصلحت بھی۔
پاک چین تعلق ہویاپاک امریکارابطہ، گوادر ہویاسی پیک،کشمیرہویافلسطین،ایران ہویاخلیجی دنیا ہر سمت پاکستان کوایک ہی چراغ لے کر چلنا ہو گا، اپنا قومی مفاد،اپنی اقتصادی قوت، اپنی سیاسی خودمختاری اوراپنے اصولوں سے وفاداری،کیونکہ تاریخ کادریاکمزورکشتیوں سے رحم نہیں کرتا۔وہ قومیں جوہرنئے بادبان کونجات دہندہ سمجھ لیتی ہیں، اکثرہواکے رخ کے ساتھ بہتی رہتی ہیں،مگرجواپنے جہازکی کیل مضبوط کرتی،قطب نما درست رکھتی اورملاح کومنزل کاشعو دیتی ہیں،وہ طوفانو ں کے درمیان بھی اپناراستہ بنالیتی ہیں۔
پاکستان کے لئے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا کب تک ہمارادوست رہے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کب اس قدرمضبوط،خودداراور معاشی وسیاسی طورپرمستحکم ہوگاکہ کسی دوسرے ملک کی دوستی یاناراضگی اس کی قومی تقدیرکافیصلہ نہ کرسکے؟یہی سوال ماضی کے آئینے میں حال کاچہرہ بھی دکھاتاہے اورمستقبل کے دروازے پردستک بھی دیتاہے۔اورشایدتاریخ کاسب سے معتبرسبق یہی ہے:جوقوم اپنی تقدیرکاقلم خودتھام لے، دنیا اس کے لئے فیصلے لکھنے کی بجائے اس کے ساتھ فیصلے کرنے پرمجبورہوجاتی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *