زندہ قوم جشن
|

زندہ قوم جشن سے نہیں ’’کردار‘‘سے

یومِ آزادی کسی بھی قوم کے لئے محض ایک تہوار نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لئے عہدِ نو کرنے کا دن ہوتا ہے۔ 14 اگست ہمارے لئے اس جدوجہد کی یادگار ہے جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔ اس آزادی کے پیچھے لاکھوں انسانوں کی قربانیاں، ہجرتوں کی اذیتیں، اجڑتے گھر، بچھڑتے خاندان اور بے شمار تلخ داستانیں وابستہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یومِ آزادی کو واقعی اسی سنجیدگی، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ مناتے ہیں جس کا یہ دن تقاضا کرتا ہے؟نظریاتی مسلم لیگی اور اپنی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے معروف سیاستدان خواجہ سعد رفیق نے یومِ آزادی کی رات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق آزادی کی رات سڑکوں پر بے ہنگم شور، نازیبا حرکات، لچر پن اور ہلڑ بازی کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ گھروں سے کسی ضروری کام کے لئے نکلنے والے شہری بھی پریشان ہو کر واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ہنگامہ خیزی میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ، امیر اور غریب، چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔یہ صورتحال محض ایک رات یا ایک شہر کا مسئلہ نہیں۔ دراصل یہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہے۔ آزادی کا جشن منانا ہر شہری کا حق ہے، لیکن جشن اور بد نظمی میں فرق ہونا چاہیے۔ خوشی اور شور شرابے میں فرق ہونا چاہیے۔ حب الوطنی اور دوسروں کے سکون کو پامال کرنے میں فرق ہونا چاہیے۔ اگر ہماری آزادی کا اظہار کسی بیمار، بزرگ، بچے، طالب علم یا کام سے واپس آنے والے شہری کے لئے اذیت بن جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم جشن کس چیز کا منا رہے ہیں؟آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں۔
آزادی دراصل ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔ ایک آزاد ریاست کے شہری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں قانون کا احترام کرنا ہے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے، اپنی سڑکوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں نظم و ضبط قائم رکھنا ہے اور اپنی خوشی کو دوسروں کی تکلیف کا سبب نہیں بننے دینا۔ قومیں صرف نعروں، جھنڈوں اور ترانوں سے زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اپنے کردار، قانون پسندی اور اجتماعی شعور سے زندہ رہتی ہیں۔اسی طرح اسلام آباد میں 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ایک سرکاری تقریب کی سیکورٹی کے لئے راستے بند کئے جانے اور شہریوں کو مشکلات پیش آنے کا معاملہ بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر ہزاروں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کئی کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ ریاستی تقریبات عوام کے لئے سہولت، تحفظ اور نظم کا ذریعہ ہونی چاہئیں، نہ کہ عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب۔یہاں ایک اور سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہم نے یومِ آزادی کے موقع پر ان لوگوں کو واقعی یاد کیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے اپنی جانیں، عمریں، عزتیں، جائیدادیں اور گھر بار قربان کئے؟ قیامِ پاکستان کی تاریخ صرف سیاسی رہنماں کے ناموں تک محدود نہیں۔ اس تاریخ میں وہ عام لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک ایسے وطن کی طرف ہجرت کی جس کے مستقبل کا انہیں صرف خواب دکھائی دیتا تھا۔ وہ خاندان بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، وہ نوجوان بھی جنہوں نے جانیں دیں، اور وہ خواتین بھی جنہوں نے ناقابلِ تصور مصائب برداشت کئے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے قومی دنوں کی تقریبات میں اکثر اصل قومی مسائل پس پشت چلے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی بعض اوقات رسمی سرگرمیوں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ مختلف تقریبات میں ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا یومِ آزادی کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم چند گھنٹوں کے لئے جھنڈے لہرائیں، باجے بجائیں، کیک کاٹیں اور تقریبات منعقد کرکے یہ سمجھ لیں کہ ہم نے قومی ذمہ داری پوری کر دی؟
پاکستان آج بھی غربت، بے روزگاری، دہشت گردی، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، قانون کی کمزور عمل داری اور معاشرتی تقسیم جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں یومِ آزادی ہمیں محض خوشی منانے کے بجائے خود احتسابی کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے گزشتہ برس میں اپنے ملک کے لئے کیا کیا؟ ایک شہری کی حیثیت سے قانون کی پاسداری میں ہمارا کردار کیا رہا؟ ہم نے اپنے اردگرد کے کمزور طبقے کے لئے کیا کیا؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف پاکستان کا نام اور جھنڈا سکھایا یا اس ملک کی ذمہ داری اور تاریخ بھی سمجھائی؟ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے حکومتیں اپنی جگہ کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ریاست صرف حکومت کا نام نہیں۔ ریاست عوام، اداروں، قانون اور اجتماعی ذمہ داری کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اگر شہری قانون کی پاسداری نہ کریں، ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور سیاسی قیادت قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو جائے تو پھر قومی ترقی کا خواب کیسے شرمند تعبیر ہوگا؟ضرورت اس امر کی ہے کہ یومِ آزادی کو ایک نئے قومی عہد کا دن بنایا جائے۔ ہم عہد کریں کہ قانون کی پاسداری کریں گے، اپنے شہر کو صاف رکھیں گے، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے، نفرت اور انتشار کے بجائے برداشت کو فروغ دیں گے، اور اپنے ملک کے مسائل سے آنکھیں نہیں چرائیں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وطن سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم اپنے عمل سے ملک کو بہتر بنائیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا بھی حب الوطنی ہے، ٹیکس ادا کرنا بھی، سرکاری املاک کی حفاظت کرنا بھی، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا بھی، رشوت سے انکار کرنا بھی اور اپنے اختلاف کے باوجود دوسرے شہری کے حق کا احترام کرنا بھی حب الوطنی ہے۔یومِ آزادی ہمیں یہ سوال کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں۔ ایسا پاکستان جہاں جشن کے نام پر دوسروں کا سکون برباد کیا جائے یا ایسا پاکستان جہاں خوشی بھی ہو اور ذمہ داری بھی؟ ایسا پاکستان جہاں تقریبات تو شاندار ہوں مگر بنیادی مسائل نظر انداز کر دیے جائیں یا ایسا پاکستان جہاں قومی دن عملی اصلاحات کے عزم کے ساتھ منائے جائیں؟اگر آزادی کا دن صرف شور، نمائش، رسمی تقاریب اور ایک دوسرے کی تعریفوں تک محدود ہوگیا تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس دن کو قومی احتساب، آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی، شہری حقوق کے تحفظ اور ملک کی تعمیرِ نو کے عہد میں بدل دیں تو یہی دن ہماری حقیقی قومی بیداری کا نقط آغاز بن سکتا ہے۔پاکستان کے قیام کے لئے ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم اس ملک کو اپنے کردار، محنت، دیانت اور قانون پسندی سے مضبوط کریں۔ جھنڈے ضرور لہرائیں، ترانے ضرور گائیں، خوشیاں ضرور منائیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ آزادی ایک نعمت ہونے کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ہم زندہ قوم ہیںلیکن زندہ قوم ہونے کا ثبوت صرف جشن نہیں، کردار ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *