پاکستان ایک کامیاب ثالث
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو دراڑ پڑی، وہ وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی گئی۔ سفارتی تعلقات منقطع ہوئے، پابندیاں لگیں، مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور خطے میں دونوں ملکوں کی پالیسیوں کا ٹکراؤ مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا۔ کبھی براہ راست رابطے کی گنجائش نکلی اور کبھی حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ایسے حالات میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کا دوبارہ براہ راست مذاکرات کے لیے بیٹھنا ایک قابل توجہ پیش رفت ہے، اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ دونوں ملکوں کے بنیادی اختلافات ختم ہوگئے ہیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ واشنگٹن اور تہران نے اختلافات کے باوجود بات چیت کو ایک ممکنہ راستہ سمجھا ہے اورپاکستان نے اس رابطے کو ممکن بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کردار اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے۔ دونوں کے درمیان طویل سرحد، تاریخی روابط اور مشترکہ مذہبی و ثقافتی حوالوں کی ایک تاریخ موجود ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی کئی دہائیوں پر پھیلے ہوئے ہیں، اسلام آباد کے پاس ایران سے بات کرنے کے ذرائع بھی ہیں اور واشنگٹن سے رابطے کی گنجائش بھی موجود ہے۔اس سفارتی حیثیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان کسی بڑی طاقت کی طرح بزور اپنا موقف تسلیم کروا سکتا ہے۔ پاکستان، امریکہ یا ایران میں سے کسی ایک کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس وہ معاشی یا عسکری وسائل بھی نہیں جن کے ذریعے وہ فریقین پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکے۔ پاکستان کے پاس جو چیز ہے، وہ رسائی ہے۔ وہ دونوں ملکوں کے ساتھ بات کر سکتا ہے اور ایسے مقام پر گفتگو کی میزبانی کر سکتا ہے جہاں فریقین براہ راست ایک دوسرے کا موقف سن سکیں اوریہی ثالثی کا بنیادی کام بھی ہے۔ثالث فریقین کے اختلافات اپنے ذمہ نہیں لیتا۔ وہ ان کے مفادات طے نہیں کرتا اور نہ کسی معاہدے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ بات چیت کے لیے ایک قابل قبول ذریعہ فراہم کرے۔ مذاکرات کے بعد کوئی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں، یہ ان ریاستوں کے اپنے فیصلوں پر منحصر ہے۔
امریکہ اور ایران کے معاملے میں اس فرق کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کی جڑیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے اپنے مفادات اور پالیسیوں میں ہیں۔ ایران اپنے علاقائی کردار، سلامتی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی ترجیحات رکھتا ہے۔ امریکہ ان معاملات کو اپنی عالمی اور علاقائی حکمت عملی کے مطابق دیکھتا ہے۔ پاکستان ان ترجیحات کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔اس لیے اگر مذاکرات کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف باقی رہتا ہے تو یہ غیر معمولی بات نہیں ۔ کئی دہائیوں سے موجود اختلافات کاکسی ایک نشست میں ختم ہونا ممکن نہیں ۔ مذاکرات کی کامیابی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے سے بات کرنے کا راستہ بند نہیں کیا۔
حالیہ مذاکرات کی طوالت بھی اسی حوالے سے اہم ہے۔ امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بیس گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بات چیت 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے براہ راست رابطوں میں شمار ہوتی ہے۔ اتنے طویل وقفے کے بعد اس سطح کا رابطہ محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھا۔ اس میں دونوں جانب سے اپنے موقف، خدشات اور مفادات براہ راست رکھنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔پاکستان کے لیے یہ ایک قابل قدر سفارتی تجربہ ہے۔
1971 میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کی تھی۔ اس وقت واشنگٹن اور بیجنگ ایک دوسرے سے دور تھے اور دونوں کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔ پاکستان نے رابطے کا ایک ذریعہ فراہم کیا اور ہنری کسنجر کے خفیہ دورۂ چین میں اسلام آباد کا کردار تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بعد میں امریکہ اور چین کے تعلقات میں بڑی تبدیلی آئی۔
آج کے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو 1971 کے امریکہ اور چین کے تعلقات کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ دونوں واقعات کے محرکات اور حالات مختلف ہیں لیکن ایک بات مشترک ہے۔ پاکستان نے دونوں مواقع پر اپنی جغرافیائی حیثیت اور مختلف طاقتوں کے ساتھ روابط کو سفارتی رابطے کے لیے استعمال کیا۔یہ پاکستان کے لیے محض تاریخی حوالہ نہیں۔ یہ خارجہ پالیسی کے ایک ایسے کردار کی نشاندہی ہے جس میں اسلام آباد نے کسی تنازع میں فریق بنے بغیر فریقین کے درمیان رابطے کی جگہ پیدا کی۔ اس نوع کا کردار پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بڑے تصادم کے اثرات پاکستان کی سرحدوں، تجارت، توانائی اور مجموعی علاقائی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے امکانات پیدا کرنا اسلام آباد کے لیے صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں توازن کو برقرار رکھا کہ نہ تہران کے سیاسی موقف کی ترجمانی کی اور نہ واشنگٹن کے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اسلام آباد نے دونوں جانب رابطہ رکھا مگر کسی ایک فریق کے موقف کو اپنا موقف نہیں بنایا۔
مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ مذاکرات رک سکتے ہیں، اختلافات پھر نمایاں ہو سکتے ہیں اور دونوں ممالک اپنے سخت موقف کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی پاکستان کی کوشش کو بے معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک بار قائم ہونے والا رابطہ آئندہ کے مذاکرات کے لیے بنیاد بن سکتا ہے۔ جو ملک مشکل وقت میں دونوں فریقوں سے بات کر سکتا ہو، وہ کشیدگی کم کرنے کے کسی نئے موقع پر بھی قابل استعمال سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے بارے میں یہ توقع رکھنا بھی درست نہیں کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں سے چلے آنے والے اختلافات کا مستقل حل نکال سکتا ہے۔ یہ تنازع دونوں ملکوں کے اپنے تزویراتی مفادات اور فیصلوں سے جڑا ہوا ہے جنہیں کوئی تیسرا ملک اپنی مرضی سے تبدیل نہیں کر سکتا۔ دنیا میں ہر ثالثی کا انجام معاہدہ نہیں ہوتا۔ مذاکرات کا مقصد ہمیشہ فوری معاہدہ حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ کبھی ان کے ذریعے جنگ یا تصادم کا خطرہ کم کیا جاتا ہے، کبھی فریقین کو اپنے موقف پر مزید غور کا موقع ملتا ہے اور کبھی ایسا رابطہ قائم ہو جاتا ہے جو آگے کی بات چیت کا راستہ کھول دیتا ہے۔ اس لیے کسی مذاکراتی کوشش کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا کہ اختتام پر کوئی حتمی معاہدہ ہوا یا نہیں۔ پاکستان کے کردار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر اس کی کوشش سے امریکہ اور ایران براہ راست بات چیت پر آمادہ ہوئے اور آئندہ مذاکرات کے لیے راستہ کھلا رہا تو یہ اپنی جگہ ایک بامعنی سفارتی نتیجہ ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا حل بالآخر دونوں ملکوں کو خود تلاش کرنا ہے۔ پاکستان اس تنازع کا فیصلہ کرنے والا فریق نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات مذاکرات تک پہنچنے کے لیے ایسے ملک کی ضرورت ہوتی ہے جو دونوں اطراف کی بات سن سکے اور جسے دونوں جانب اپنی بات رکھنے میں ہچکچاہٹ نہ ہو۔ پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ اس نے اپنی موجود سفارتی گنجائش کو استعمال کیا۔