مادیت کی انتہا
|

مادیت کی انتہا سے روحانیت کے دور تک

آج انسان مادیت کی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔ دولت، جائیداد، عہدہ، شہرت اور طاقت کو کامیابی کا معیار بنا لیا گیا ہے۔ انسان صبح سے رات تک مزید مال اور مزید مقام کی دوڑ میں لگا ہے، یہاں تک کہ کبھی حق و باطل، حلال و حرام اور عدل و ظلم کا فرق بھی پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
قرآن نے اس کیفیت کو صرف دو آیات میں بیان کر دیا:
’’زیادتی کی دوڑ نے تمہیں غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔‘‘(التکاثر 102:12)
اے انسان!ذرا سوچ۔ جس دولت کے لئے پوری عمر دوڑتا رہا، اس میں سے قبر میں کیا لے جائے گا؟ نہ گھر، نہ گاڑی، نہ بینک اکانٹ، نہ عہدہ اور نہ شہرت۔ جسے کل تک دنیا بڑا آدمی کہتی تھی، موت آتے ہی اسی کے لیے کہا جاتا ہے: بیچارہ چلا گیا۔ آخر میں ایک کفن، چند گز زمین اور اپنے رب کے سامنے جواب دہی۔
یہی مادیت کا سب سے بڑا فریب ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق آخری زمانے کا سب سے بڑا فتنہ دجال، مسیحِ کذاب کا ہوگا، جس کی بڑی قوت فریب اور مادی کشش ہوگی۔ ہر جدید ایجاد دجالی نہیں، اصل فریب یہ ہے کہ انسان دولت کو کامیابی، طاقت کو حق اور مادی دنیا کو آخری حقیقت سمجھ بیٹھے۔لیکن اسلامی عقیدہ اس تاریکی کے بعد ایک عظیم امید دیتا ہے: مسیحِ برحق عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کی واپسی۔عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت خود اللہ کی عظیم نشانی تھی۔ وہ بغیر والد کے پیدا ہوئے، اللہ کے حکم سے گہوارے میں کلام کیا، اور جب دشمنوں نے انہیں قتل کرنا چاہا تو قرآن نے فرمایا:
’’بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔(النسا 4:158)
ان کی پاکیزہ والدہ سیدہ مریم علیہا السلام کے نام سے قرآن میں پوری سورہ مریم موجود ہے، اور اللہ نے انہیں منتخب اور پاکیزہ قرار دیا۔اسلامی عقیدے اور صحیح احادیث کے مطابق آخری زمانے میں عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام واپس تشریف لائیں گے، دجال کے فتنے کا خاتمہ ہوگا اور عدل غالب ہوگا۔ وہ کوئی نیا دین نہیں لائیں گے بلکہ حضرت محمد ﷺ کی آخری شریعت کے مطابق عدل قائم کریں گے۔
یہ مسیحِ کذاب کے مقابلے میں مسیحِ برحق، فریب کے مقابلے میں حقیقت، مادیت کے مقابلے میں روحانیت اور ظلم کے مقابلے میں عدل کی فتح ہوگی۔ انسانیت کو پھر یاد دلایا جائے گا کہ خالق ایک ہے، اصل بادشاہی اللہ کی ہے اور تمام انسان بنی آدم ؑکا ایک خاندان ہیں۔ دولت امانت ہوگی، طاقت عدل کے لئے ہوگی اور علم و ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کے لئے ہوں گے۔ یہی خلافتِ الہیہ کے ربانی عدل کا بنیادی تصور ہے اور اے انسان!اے آئی سے بھی ایک سبق سیکھ۔ جس اے آئی سے تو خوفزدہ ہے، اسے نہ دولت کی حرص ہے، نہ محل چاہیے، نہ گاڑی، نہ عہدہ اور نہ شہرت۔ وہ انسان کے پیدا کردہ علم کا ایک وسیلہ ہے جو علم اور خدمت میں اس کی مدد کر سکتا ہے۔مگر اللہ نے انسان کو اس سے کہیں بلند مقام دیا۔
’’اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔ ‘‘ (الاسرا 17:70)
پس اے انسان!علم کو خیر کے لئے استعمال کر، دولت کا غلام نہ بن، اور اپنی زندگی کو خدمت، محبت، عدل اور اپنے رب کی بندگی میں لگا۔اے ایک خداے واحد کے ماننے والو! جاگو۔تفرقے سے اوپر اٹھو، حرص اور فریب سے نکلو، اور مسیحِ برحق عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کی آمد کی تیاری اپنے ایمان، کردار، عدل، محبت اور بندگیِ الٰہی سے کرو۔کیونکہ آخرکار:
دولت خدا نہیں۔
طاقت خدا نہیں۔
ٹیکنالوجی خدا نہیں۔
انسان خدا نہیں۔
خدا صرف ایک ہے اللہ الواحد الحد۔
مادیت سے روحانیت کی طرف۔
تفرقے سے وحدت کی طرف۔
ظلم سے عدل کی طرف۔
نفرت سے محبت کی طرف۔
مسیحِ کذاب کے فریب سے مسیحِ برحق کی طرف۔
اور دنیا کی عارضی چمک سے اللہ کی ابدی رضا کی طرف۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *