پنشن یا ریاستی
|

پنشن یا ریاستی مراعات کا بوجھ؟

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ’’غریب ملک پر پنشن کا بوجھ 800ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔‘‘یہ کہہ کر انہوں نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ حکمران ملک کو غریب اور اپنے سے نچلے درجے کے ملازمین کو دریوزہ گر تصور کرتے ہیں ۔یقینا یہ بوجھ کم نہیں ہے ، بلکہ ایسے ملک کے لئے جہاں حکومت عام آدمی کو یہ بتاتی نہیں تھکتی کہ خزانہ خالی ہے، قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے، ٹیکس دینے والے کم ہیں اور اخراجات قابو سے باہر ہو چکے ہیں، 800ارب روپے بھی ایک خوفناک عدد محسوس ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ پنشن کا یہ بوجھ آخر کس کا بوجھ ہے؟کیا یہ اس استاد کی پنشن ہے جس نے عمر بھر سرکاری سکول میں بچوں کو پڑھایا؟کیا یہ اس کلرک کی پنشن ہے جس نے اپنی زندگی کے سنہری دن (تیس پینتیس برس)فائلوں کے نیچے دفن کر دیئے اور اس کے بچے کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ کھا سکے ؟کیا یہ بوجھ نچلے درجے کے اس ملازم کی پنشن کا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اپنی دوا، بجلی کا بل اور گھر کا خرچ پورا کرنے کے لئے پراگندہ حال رہا ہے ؟ کیا اس بڑے سوال کا جواب بھی ما نگا جا سکتا ہے کہ اس رقم میں اعلیٰ بیوروکریسی، اعلیٰ عدلیہ، دفاعی اداروں، سابق حکمرانوں، ارکان پارلیمان اور ریاستی عہدوں سے وابستہ غیر معمولی مراعات کا کتنا حصہ ہے؟یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ پاکستان میں مالیاتی بحران کو ہمیشہ عام آدمی کی جیب سے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کبھی بجلی مہنگی، کبھی گیس مہنگی، کبھی پٹرول مہنگا، کبھی نئے ٹیکس، کبھی پرانے ٹیکسوں میں اضافہ اور اب پنشن کا بھوت عوام کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے۔مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ریاست کے مراعات یافتہ طبقات کا بوجھ کتنا ہے؟اور یہی وہ مقام ہے جہاں پنشن کی بحث محض معاشی نہیں رہتی، یہ سیاسی، طبقاتی اور اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔
800 ارب یا 1169ارب؟ پہلے حساب صاف ہونا چاہیے یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے۔وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27ء کے سرکاری بجٹ میں پنشن کے لئے مجموعی رقم 1,169 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ اس میں 822ارب روپے دفاعی پنشن، 272.5ارب سول پنشن، 10ارب وفاقی پنشن فنڈ اور 64.5ارب پنشن اضافے کے لئے ہیں۔یعنی عوام کے سامنے جو 800ارب کا عدد پیش کیا جا رہا ہے، اسے پورے وفاقی پنشن بل کا مترادف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ سرکاری دستاویز میں دفاعی پنشن ہی 822 ارب روپے ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں۔کیونکہ اگر حکومت خود یہ کہتی ہے کہ پنشن قومی خزانے پر بوجھ ہے تو اسے پوری دیانت داری سے بتانا چاہیے کہ کس ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین کو کتنی پنشن مل رہی ہے؟دفاعی پنشن کتنی ہے؟سول بیوروکریسی کی پنشن کتنی ہے؟ عدلیہ کی پنشن اور بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کتنی ہیں؟وفاقی اور صوبائی سطح پر سابق اعلیٰ عہدیداروں کی مراعات کیا ہیں؟اور ان سب پر مستزاد وہ سہولتیں کیا ہیں جو نقد پنشن کے علاوہ ریاستی خزانے سے فراہم کی جاتی ہیں؟جب تک یہ تفصیل عوام کے سامنے نہیں رکھی جائے گی، پنشن کے بوجھ کی بحث ادھوری ہے ۔غریب پنشنر اور مراعات یافتہ پنشنر ایک نہیں، پاکستانی ریاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ اس نے مساوات کا تصور کاغذوں کے پلندوں میں محفوظ رکھا، مگر عملی زندگی میں مراعات کے الگ الگ منطقے بنا دیے۔ایک طرف وہ ریٹائرڈ ملازم ہے جو ہر ماہ اپنی پنشن وصول کرنے کے لئے بینک کی قطار میں کھڑا ہوتا ہے اور دوسری جانب ریاست کے بعض اعلیٰ عہدے ایسے ہیں جن کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مختلف نوعیت کی سہولتیں اور مراعات وابستہ رہتی ہیں۔یہاں سوال پنشن ختم کرنے کا نہیں۔سوال پنشن میں انصاف کا ہے۔جس شخص نے 30یا 35برس سرکاری ملازمت کی اور اپنی تنخواہ سے ریٹائرمنٹ کے مستقبل کے لئے ایک حق حاصل کیا، اس کی پنشن کو ختم کرنا یا اسے معاشی سزا دینا انصاف ہے ؟ لیکن کیا یہی اصول ہر مراعات یافتہ طبقے کے لئے بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے؟اگر ریاست کے پاس وسائل کم ہیں تو پھر کٹوتی کا آغاز سب سے ہونا چاہیئے فقط کمزور سے ہی کیوں؟کیا وزیر، مشیر، اعلیٰ سرکاری افسر، جج، سفیر، سابق حکمران اور طاقتور ریاستی عہدے دار بھی اسی مالیاتی ترازو میں تولے جاتے ہیں جس ترازو کے پلڑے میں عام پنشنر رکھا جا رہا ہے؟
سرکاری بجٹ میں دفاعی پنشن کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔ مالی سال 2026-27ء میں دفاعی پنشن کے لئے 822ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو وفاقی پنشن کے بنیادی حجم کا بڑا حصہ ہے۔ یہ رقم اپنی جگہ ایک قومی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اور سلامتی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلح افواج کے اہلکاروں اور شہداء کے خاندانوں کی ذمہ داری سے ریاست انکار نہیں کرسکتی۔لیکن دفاعی پنشن کے اندر بھی درجات اور طبقات کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ایک سپاہی اور ایک اعلی ترین افسر کی ریٹائرمنٹ کے بعد مجموعی مالی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہو سکتا ہے۔ اس لئے محض ’’پنشن‘‘کا لفظ استعمال کر کے تمام پنشنرز کو ایک ہی معاشی طبقہ قرار دینا حقیقت پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *