ظالموجواب دو
|

ظالمو!جواب دو؟

معروف صحافی اور سینئر کالم نگار مجیب الرحمن شامی نے ایک نہایت تکلیف دہ سوال اٹھایا ہے کہ ’’تیتر اور بٹیر کی طرح انسانوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔‘‘ لاہور میں انمول اور آمنہ نامی دو خواتین چوری کے الزام میں گرفتار ہوئیں، پھر پولیس کے مطابق جیل میں دونوں کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی۔ اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو سوال صرف دو اموات کا نہیں، پورے نظامِ انصاف کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حراست میں آنے کے بعد کسی انسان کے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں؟ کیا الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی کوئی شخص مجرم بن جاتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر ایک قیدی پولیس یا ریاستی تحویل میں اپنی جان سے چلا جائے تو اس موت کی ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟یہ سوالات معمولی نہیں۔ ان کا تعلق ہماری اجتماعی غیرت، قانون کی بالادستی اور انسانی جان کی حرمت سے ہے۔انمول اور آمنہ کے بارے میں جو کچھ سامنے آیا، اس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر ان پر چوری کا الزام تھا تو عدالت موجود تھی، قانون موجود تھا، استغاثہ موجود تھا اور دفاع کا حق بھی موجود تھا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں الزام اور جرم کے درمیان ایک بنیادی فرق رکھا جاتا ہے۔ الزام لگ جانا جرم ثابت ہو جانا نہیں ہوتا۔ عدالت کے فیصلے سے پہلے ہر ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہی اصول قانون کی روح ہے اور یہی کسی بھی مہذب ریاست کی پہچان ہے۔لیکن ہمارے ہاں اکثر غریب اور بے سہارا انسان کے لئے قانون کا سفر بہت مختلف ہو جاتا ہے۔ جس کے پاس وسائل ہوں، وہ وکیل کرتا ہے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، میڈیا تک اپنی آواز پہنچاتا ہے۔ مگر جس کے پاس نہ دولت ہو، نہ تعلقات اور نہ طاقت، اس کی فریاد اکثر فائلوں، تھانوں اور دفتروں کے درمیان کہیں دب جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انمول اور آمنہ کا معاملہ محض دو افراد کا معاملہ نہیں رہتا۔ یہ ایک بڑے سوال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
کیا ریاست اپنے زیر حراست ہر شخص کی جان کی ذمہ دار نہیں؟اگر کوئی شخص جیل یا پولیس کی تحویل میں بیمار پڑتا ہے تو فوری طبی امداد کیوں نہ ملے؟ اگر موت واقع ہو جائے تو اس کے اسباب کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کیوں نہ ہوں؟ اگر پوسٹ مارٹم ضروری ہے تو اس عمل پر اہلِ خانہ اور عوام کا اعتماد کیسے قائم کیا جائے؟ اور اگر خاندان کو مطمئن کرنے کے لئے مزید تحقیقات ضروری ہوں تو ریاست کو اس میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ہوگا، تحقیقات کا مقصد کسی کو بچانا نہیں، حقیقت کو سامنے لانا ہونا چاہیے۔اگر واقعی دونوں خواتین کی موت طبعی وجوہات، مثلاً دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تو آزاد اور قابل اعتماد طبی شواہد کے ذریعے یہ بات واضح ہونی چاہیے۔ اگر کسی قسم کی غفلت ہوئی تو اس کا تعین ہونا چاہیے اور اگر کسی جرم یا تشدد کا شبہ ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ریاست کی عزت اس میں نہیں کہ ہر الزام کو مسترد کر دے، ریاست کی عزت اس میں ہے کہ وہ سچ سامنے لانے سے نہ گھبرائے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پولیس کا کام صرف ملزمان کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق ان کی حفاظت بھی کرنا ہے۔ حراست میں موجود شخص ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ وہ شخص خواہ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، مرد ہو یا عورت، اس کے بنیادی انسانی حقوق برقرار رہتے ہیں۔ایک معاشرہ اس وقت بے حس ہونا شروع ہوتا ہے جب اسے کسی انسان کی موت معمولی خبر لگنے لگے۔ آج انمول اور آمنہ ہیں، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ اگر ہم نے ہر مشتبہ موت پر یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ ’’پولیس کے مطابق ایسا ہوا‘‘ تو پھر سوال کرنے کا حق بھی ہم سے چھین لیا جائے گا۔ سوا ل کرنا ریاست دشمنی نہیں۔ سوال کرنا انصاف کی پہلی سیڑھی ہے۔ہمیں پولیس دشمن بھی نہیں بننا چاہیے۔ پولیس میں ہزاروں اہلکار ایسے ہیں جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر کسی ادارے کی عزت اندھی حمایت سے نہیں بلکہ احتساب سے بڑھتی ہے۔ اگر کسی اہلکار نے قانون کے مطابق کام کیا ہے تو شفاف تحقیقات اسے بری الذمہ ثابت کر دیں گی۔ لیکن اگر کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے تو اس کا احتساب بھی اسی نظام کا حصہ ہونا چاہیے۔اسی طرح میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کسی واقعے کو سنسنی خیز بنا دینا آسان ہے، مگر حقیقت تک پہنچنا مشکل۔
انمول اور آمنہ کے معاملے میں بھی جذبات کے ساتھ ساتھ ثبوت، دستاویزات، میڈیکل ریکارڈ، پوسٹ مارٹم رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور دیگر متعلقہ شواہد سامنے آنے چاہئیں۔ عوام کو افواہ نہیں، حقیقت چاہیے۔اور سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خواتین کے اہلِ خانہ کو سنا جائے۔ ایک ماں، باپ، بہن، بھائی یا اولاد کے لئے کسی عزیز کی اچانک موت محض ایک خبر نہیں ہوتی۔ ان کے سوالات کو نظر انداز کرنا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کے پیارے کے ساتھ کیا ہوا، کب ہوا، کیسے ہوا اور اس کے ذمہ دار کون تھے اگر کوئی ذمہ دار ہے۔یہ معاملہ ہمیں اپنے پورے نظامِ انصاف پر نظر ڈالنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہماری جیلوں میں طبی سہولتیں کافی ہیں؟ کیا خواتین قیدیوں کی نگرانی اور طبی ضروریات کے لئے مناسب انتظام موجود ہے؟ کیا ہر زیرِ حراست شخص کے علاج اور صحت کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے؟ کیا موت کی صورت میں تحقیقات واقعی آزاد ادارے کے ذریعے ہوتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اصلاحات کیوں نہیں کی جاتیں؟ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ریاست کی طاقت کا مطلب شہری کو دبانا ہے یا شہری کی حفاظت کرنا۔قانون کی اصل طاقت کمزور کے لئے ہوتی ہے۔ طاقتور آدمی اپنے لئے راستہ نکال لیتا ہے، مگر غریب اور بے وسیلہ انسان قانون ہی سے امید رکھتا ہے۔ اگر قانون بھی اسے تحفظ نہ دے تو پھر اس کے پاس کیا بچتا ہے؟انمول اور آمنہ کے بارے میں حتمی حقیقت جو بھی ہو، اسے سامنے آنا چاہیے۔ اگر پولیس کا موقف درست ہے تو شفاف تحقیقات اسے ثابت کریں۔ اگر کوئی غلطی، غفلت یا جرم ہوا ہے تو اسے چھپایا نہ جائے۔ کیونکہ دو خاندانوں کا دکھ صرف ان کا ذاتی دکھ نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔آج ضرورت کسی جذباتی فیصلے کی نہیں، شفاف تحقیقات، آزاد میڈیکل معائنے، قابلِ اعتماد پوسٹ مارٹم، اہلِ خانہ کو مکمل معلومات اور ذمہ داروں کے بلاامتیاز احتساب کی ہے اور آخر میں وہی سوال جو ہر صاحبِ اختیار سے پوچھا جانا چاہیے۔ ظالمو!جواب دو؟ اگر یہ دونوں خواتین بے گناہ تھیں تو ان کی زندگی کس نے چھینی؟اگر وہ ملزم تھیں تو کیا انہیں انصاف کے بجائے موت ملنی تھی؟اگر ان کی موت طبعی تھی تو شفاف تحقیقات سے خوف کیسا؟اور اگر کسی نے قانون کی آڑ میں قانون توڑا ہے تو اسے سزا کون دے گا؟ان سوالوں کے جواب صرف انمول اور آمنہ کے خاندانوں کو نہیں چاہئیں۔ یہ جواب ہر اس شہری کو چاہیے جو اس ملک میں قانون، انصاف اور انسانی زندگی کی حرمت پر یقین رکھتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسان کی قدر اس وقت نہیں ہوتی جب وہ طاقتور ہو؛ انسان کی اصل قدر اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ کمزور، بے سہارا اور ریاست کی تحویل میں ہو۔اگر ہم نے اس موقع پر بھی خاموشی اختیار کرلی تو پھر کل کسی اور دروازے پر یہی سوال کھڑا ہوگااور شاید جواب مانگنے والا کوئی نہ ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *