بھارت میں اقلیتوں کی آزادی مکمل ختم
بھارت میں بی جے پی نے نام نہاد سیکولر بھارت میں اقلیتوں کی آزادی مکمل طور پر ختم کر دی، مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں مسلمان ہونا ایک جرم بن چکا ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد اور انصاف کی عدم فراہمی کے دور میں مسلمانوں کی سنگین صورت حال پر ایک چشم کشا رپورٹ سامنے آئی ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت میں اسلامو فوبیا کے سنگین رجحان، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور فرقہ وارانہ تشدد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف معاشرتی سطح پر بلکہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں بھی دیکھا جا رہا ہے جس سے اقلیتی برادری خوف و ہراس کا شکار ہو گئی ہے۔ بھارت میں مسلم مخالف تشدد پر ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور چشم پوشی پر عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نے سوالات اٹھا دیے۔ ٹی آر ٹی کی جاری کردہ ڈاکیومنٹری میں بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کا کہنا ہے کہ بھارت میں ریاستی اداروں کی توجہ بی جے پی کے موقف اور مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ سماجی کارکن آصف مجتبیٰ نے کہا کہ ۲۰۲۰ میں دہلی میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات کے بعد کسی بھی معاملے میں مسلمانوں کو انصاف نہیں ملا۔ ان فسادات کے متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ریاستی مشینری نے ان کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ٹی آر ٹی کے مطابق بھارت میں بالخصوص مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمان ہونا ایک جرم بن چکا ہے۔ ٹی آر ٹی کے مطابق انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے ایک عہدیدار نے مسلمانوں کو ہی بھارتی معاشرے کے لیے تکلیف قرار دیا۔ بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کو دشمن کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
مودی حکومت اور پولیس ہندو انتہا پسندوں کی خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ سینئر بھارتی وکیل سنجے ہیگڑے کے مطابق بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم میں پولیس کی ملی بھگت شامل ہوتی ہے۔ یہ ملی بھگت ان واقعات کو مزید سنگین بنا دیتی ہے اور اقلیتوں کے لیے انصاف کا دروازہ بند کر دیتی ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اترپردیش میں غازی آباد کے علاقے سیہانی میں ہندو انتہاپسندوں نے چکن لے جانے پر ایک عمر رسیدہ مسلمان شخص کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی تذلیل کی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ۷ اگست کو پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ مسلمان شخص دہلی کے غازی پور بازار سے چکن لے کر نکلا تھا کہ ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے اسے روکا اور ساون کے دوران گوشت لے جانے پر اعتراض کیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو انتہاپسند عمر رسیدہ مسلمان شخص کو دھکے دے رہے ہیں، اسے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کا سامان پھینک رہے ہیں۔ اس قسم کے واقعات روزمرہ کی بنیاد پر پیش آ رہے ہیں جو معاشرتی ہم آہنگی کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہندو رکشا دل کے رکن پرنس ٹھاکر کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، صارفین نے سوالات اٹھائے کہ نجی گروپوں کو کھانے کے معاملات پر شہریوں کو روکنے یا ان پر حملہ کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کسی بھی طرف سے کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی، لیکن وہ ویڈیو کی جانچ کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے نجی گروپس کی جانب سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور اقلیتی برادری کے افراد کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پرنس ٹھاکر کو اس سے قبل فروری ۲۰۲۶ میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک ویڈیو میں اس کو دریائے ہندن کے قریب ایک پرانے مزار کو نقصان پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس طرح کے افراد بار بار سرگرم رہتے ہیں مگر ان کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہوتی۔ ہندوتوا کے تحت تسلط بھارت میں اقلیتوں کے لیے زمین مسلسل تنگ کی جا رہی ہے جہاں ریاست بہار میں ہندو انتہاپسندوں نے مسیحی برادری کے خلاف سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالمی میڈیا نے انتہاپسند مودی کے دور اقتدار میں اقلیتوں پر جاری منظم مظالم اور جبر و استبداد کو آشکار کر دیا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق بھارت کی ریاست بہار میں مسیحی خاندانوں کو ہندو انتہاپسند عناصر کی جانب سے سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں ہندو انتہاپسند مسیحی برادری پر زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
بہار میں مسیحی برادری کو مذہبی رسومات کی ادائیگی میں رکاوٹوں اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ یہ بائیکاٹ نہ صرف معاشی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ ان کی مذہبی آزادی کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں ہندو انتہاپسندوں کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی مسلمان یا عیسائی کو نہیں مانتے، یہ ہمارے معاشرے کو آلودہ کر رہے ہیں اس لیے انہیں یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ آج یہاں گرجا گھر بنا ہے تو کل یہاں مسجد بنے گی، ہم کسی بھی عیسائی کو برابری کا حق نہیں دیں گے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں مذموم سیاسی عزائم کے لیے نفرت و تقسیم اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر مظالم بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ ہندوتوا کے تحت اثر بی جے پی نے نام نہاد سیکولر بھارت میں اقلیتوں کی آزادی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اقلیتی طبقات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔