بے سمت راہوں کے مسافر
آئین کے آرٹیکل 1(3) کے تحت وفاقی اکائیوں یعنی نئے صوبے بنانے کا اختیار کلی طور پر پارلیمنٹ کے پاس ہے اس آرٹیکل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان اکائیوں اور علاقوں کی بابت حدود، خدوخال اور شرائط کا تعین بھی پارلیمنٹ ہی کا لامحدود اختیار ہے یعنی جیسا پارلیمنٹ چاہے اور پھر اس کا طریقہ آئین کے آرٹیکل 239 میں دے دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سینٹ یا قومی اسمبلی میں ایک بل پیش ہوگا اور دونوں ایوان اپنے دوتہائی اکثریت سے منظور کریں گے اور پھر اسے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں بھیجا جائے گا جو دوتہائی اکثریت کے ساتھ اس آئینی ترمیم کو پاس کرے گی پھر اسے صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے گا جن کی منظور ی کے بعد یہ بل آئین کا حصہ بن جائے گا۔
قارئین کرام محض یہ نہیں بلکہ طرز حکومت کو بدلنے کے لئے کبھی پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت درکار ہے۔ طرز حکومت سے مراد یہ ہے کہ حکومت صدارتی نظام کے اصول کے تحت وجود میں آئے گی یا پھر موجود پارلیمانی نظام ہی آئین کا حصہ رہے گا۔
مذکورہ بالا دونوں اہداف کے حصول کے لئے پارلیمنٹ ہی مرکزی کردار ہے۔ پہلا اور بنیادی اصول تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی ساکھ ٹھیک ہونی چاہیے جبکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے ’’متنازعہ‘‘ ایوان ہونے کا اعزاز موجودہ پارلیمنٹ کے حصے میں آیا ہے۔ اس قدر اہم آئینی ترمیم کو جس سے وطن عزیز کا جغرافیہ تبدیل ہونے جارہا ہے اگر موجودہ پارلیمنٹ سے کروائی جائے گی تو اس ترمیم اور اس کے نتیجہ میں بننے والی اکائیوں کا وجود بھی مستقبل میں ’’متنازعہ‘‘ ہی رہے گا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرہ ، جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہونے مین ابھی تک محروم رہا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ جمہوریت اور ’’منتخب‘‘ حکومتوں کو آزادی سے کام کرنے کے مواقع ہی کہاں ملے ہیں جو کہ آپ اسے ناکامی کا طعنہ دیں اس دلیل کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب پاکستانی معاشرے کی ساخت اس کے رواجات اور سماجی کلچر کو مدنظر رکھ کر ’’طرز حکومت‘‘ اور ’’وفاقی اکائیوں کی تشکیل‘‘ کو خارج از امکان قرار دینا اپنے آپ کو جمود کا شکار کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے اس میں بھی کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کے بجائے اقتدار دراصل سرمایہ داروں کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔
علم، بصیرت، بصارت، تقویٰ، صلاحیت، دیانتداری جیسی اصلاحات پاکستانی سیاست میں محض ایک خواب اور وہ بھی دیوانے کا خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ بہرحال صوبوں کا قیام اور صدارتی طرز حکومت کو زیربحث لانا اور پھر اسے ہمارے معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ کرکے آئین میں ترمیم لانا کوئی بری اور قابل اعتراض بات بھی نہیں ہے۔راقم کی رائے میں مذکورہ بالا تمام باتوں سے بھی اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمارے ارادے اور ہماری نیت کا درست ہونا بنیادی ضروری ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اچھا کام اور اچھی بات کی بنیاد بھی بدنیتی پر مبنی ہوتی ہے اور ہم اسے یہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے مگر قارئین کرام عمل آپ کی نیت کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وزیر داخلہ نے یہ تجویز کیوں دی اور پھر اسے کس طرح سے متعارف کروایا جانا چاہیے تھا بلکہ دراصل قابل غور اور فکر ی کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ، ہماری پارلیمنٹ، ہماری حکومت، ہمارے وزراء اور مجموعی طور پر ہماری ریاست اس قدر متنازعہ بن گئی ہے کہ ہمارا اپنے آپ سے بھی یقین اور اعتماد اٹھ چکا ہے۔
ہاں یاد آیا جمہوریت بھی تو کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے اور یہ ہمارے خالق کا کوئی بہت پسندیدہ نظام بھی نہیں ہے اور اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو براہ کرام سورۃ انعام کی آیت نمبر 116 یا ترجمہ پڑھ لیجئے۔ ہمارے خالق اور مالک کا فرمان ہے کہ ’’اکثریت ہمیشہ تمہیں گمراہی کی طرف لے کر جاتی ہے۔‘‘
خیر یہ بات بھی قابل بحث ہے کہ جمہوریت کی اسلامی شکل اور خدوخال کیا ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کسی دوسری نشست میں بات ہوسکتی ہے۔ ارباب اختیار کو ضرور یہ بات زیر تجویز لانی چاہیے کہ سمت کی درستگی کے لئے سب سے پہلے ایک غیر متنازعہ پارلیمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، ماضی کو ایک خواب سمجھ کر بھول جانا بہتر ہوگا۔
ملک میں لگی دہشت گردی کی آگ اور علاقائی نقصان سے آلودہ ماحول کو درست کرنے کے لئے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ترتیب ہوگی تو سمت بھی ٹھیک ہو جائے گی اور اگر سمت ٹھیک ہوگی ریاست کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہماری حالت صحرا میں بھٹکے ہوئے شتر بے مہار سی کم نہیں، جو بے سمت راہوں کا مسافر ہے۔