نظام کی تبدیلی او ربے خبر ذارئع
(گزشتہ سے پیوستہ)
14 اگست2001 کو پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ایک نیا باب لکھا گیا۔ یہ آرڈیننس جنرل پرویز مشرف کے قومی ڈیولوشن آف پاور پلان کی صوبائی صورت تھی، جس کا اعلان 2000 میں اعلان ہوا تھا۔ سندھ، خیبر پختونخوا (اس وقت این ڈبلیو ایف پی) اور بلوچستان میں بھی متوازی آرڈیننسز آئے، لیکن پنجاب کا ورژن ضلعی حکومت کے ماڈل کی سب سے واضح، متوازن اور اندرونی طور پر سب سے زیادہ مربوط تشریح کے طور پر آج بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی سیاسی اور انتظامی منطق صدیوں پرانے نوآبادیاتی ڈپٹی کمشنر نظام کو ختم کرنا تھی۔ اس نظام میں ایک غیر منتخب صوبائی سول سرونٹ ضلع پر مشترکہ ایگزیکٹو، ریونیو اور مجسٹریٹ اختیارات کا یکجا حامل ہوتا تھا۔ آرڈیننس نے اس سنگین ڈھانچے کو توڑا اور منتخب مقامی حکومتوں کا تین سطحی نظام کھڑا کیا۔ صوبائی محکموں کا ایک متعین سیٹ ضلعی سطح کے کنٹرول میں منتقل کیا گیا اور آزادی کے بعد پہلی بار ضلعی سطح پر عدلیہ کو ایگزیکٹو سے الگ کیا گیا۔ اصلاحات چار بیان کردہ مقاصد کے گرد گھومتی تھی: حکومت کو “عوام کے قریب” لانا، سروس ڈیلیوری محکموں کو دور دراز صوبائی سیکرٹریٹ کی بجائے منتخب مقامی نمائندوں کے سامنے براہ راست جوابدہ بنانا، مقامی حکومتوں کو مالی منتقلی کا ایک پیش قیاسی اور فارمولہ پر مبنی نظام دینا، اور منصوبوں کے انتخاب و نگرانی میں براہ راست شہری شرکت کو یقینی بنانا۔
تین سطحیں ایک دوسرے میں گندھی اور باہم منسلک تھیں۔ سب سے اوپر ضلعی حکومت تھی، جس کا منتخب سربراہ ضلع ناظم تھا۔ وہ مجموعی ضلعی انتظام سنبھالتا اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر کے ذریعے ڈیوولوڈ لائن ڈیپارٹمنٹس کی نگرانی کرتا۔ درمیان میں تحصیل یا ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن تھی، جس کا سربراہ تحصیل یا ٹاؤن ناظم ہوتا۔ اس کے پاس میونسپل سروسز، مکانی منصوبہ بندی، بلڈنگ کنٹرول اور شہری انفراسٹرکچر کی ذمہ داریاں تھیں۔ سب سے نیچے یونین ایڈمنسٹریشن تھی، جس کا سربراہ یونین ناظم تھا۔ یہ بنیادی سطح پر مقامی ترقیاتی اسکیمیں اور یونین کونسل کے ذریعے تنازعات کا حل سنبھالتی تھی۔ اس ڈیزائن کی دو خصوصیات ساختی طور پر اہم تھیں۔ پہلی یہ کہ ضلع ناظم اور نائب ناظم براہ راست عام عوام کی بجائے اس ضلع کے یونین کونسلرز پر مشتمل الیکٹورل کالج سے مشترکہ ٹکٹ پر منتخب ہوتے تھے۔ یہ مقامی باڈیز کے رواج سے لیا گیا بالواسطہ انتخابی ماڈل تھا۔ دوسری اور سب سے زیادہ انقلاب انگیز بات یہ تھی کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر، جو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا کیریئر بیوروکریٹ تھا، ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی طور پر رکھا گیا تھا نہ کہ اس کے اوپر۔ اس نے ڈی سی نظام کے تحت منتخب نمائندوں اور بیوروکریسی کے درمیان صدیوں پرانے روایتی تعلق کو الٹ دیا اور بیوروکریسی کو پہلی بار منتخب نمائندے کے نیچے لا کھڑا کیا۔صوبائی محکمے ضلعی دفاتر میں تبدیل ہو گئے۔ ہر دفتر کا سربراہ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر تھا۔ صحت، تعلیم، زراعت، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، فنانس اینڈ پلاننگ، ورکس اینڈ سروسز، ریونیو اور لٹریسی سب ضلعی حکومت کے دائرے میں آ گئے۔ صحت میں بنیادی اور ثانوی ہسپتال، بنیادی صحت یونٹس اور بیماری کنٹرول پروگرام شامل تھے۔ تعلیم میں پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک کے اسکول اور اساتذہ کا انتظام۔ زراعت میں توسیعی خدمات، پانی کا انتظام اور مویشی۔ یہ چین منتخب حکومت کو طاقتور بناتی تھی۔مالیات کا نظام صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ پر کھڑا تھا۔ صوبائی آمدنی کا حصہ فارمولے کے تحت ضلعی اور تحصیل حکومتوں کو ملتا تھا۔ اپنے ٹیکس اور فیس بھی تھے مگر وہ ثانوی رہے۔ شہری شرکت کے لیے شہری کمیونٹی بورڈز بنائے گئے۔ لوگ چھوٹی اسکیمیں خود منتخب اور مانیٹر کر سکتے تھے۔ ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن پولیس پر سول نگاہ رکھنے کے لیے تھی، اگرچہ یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ کونسلز کو بجٹ، سوالات اور عدم اعتماد کا اختیار تھا۔ خواتین، کسان، مزدور اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں محفوظ کی گئیں۔
پنجاب کا یہ ماڈل چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ متوازن تھا۔ محکموں کی حدود واضح تھیں، ڈی سی او اور ای ڈی اوز کی ماتحتی نسبتاً مکمل تھی، پی ایف سی جلد چلا اور سی سی بیز نے اچھا ردعمل دیکھا۔ کمزوریاں بھی تھیں۔ افسران صوبائی کیڈر کے رہے، تقرری اور تبادلہ صوبے کے ہاتھ میں رہا۔ پبلک سیفٹی کمیشن اکثر سوئی رہی۔ اپنی آمدنی کی بنیاد تنگ تھی۔ مجسٹریسی کی تبدیلی سے ابتدائی الجھنیں پیدا ہوئیں، جنہیں درست کیا جا سکتا تھا ، لیکن دانستہ نہیں کیا گیا اور صرف دو ادوار کے بعد یہ نظام ختم کر دیا گیا۔2009 کے بعد صوبے کمشنر طرز کی طرف لوٹ گئے۔ پنجاب نے اس کے بعد 2019 اور 2022 میں بھی نئے بلدیاتی قوانین بنائے جن میں طاقت کی تقسیم کا دائرہ سکڑ گیا،2001 والی ڈی سی او ای ڈی او چین اور پی ایف سی فن تعمیر مکمل طور پر نہیں دہرائی گئی، لیکن عملی صورت یہ ہے کہ عمل ان پر بھی نہیں ہونے دیا گیا ۔ اسی لیے آج بھی ایل جی او 2001 اصلاحات کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
آج جب نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی گونج بلند ہے تو تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محض نقشے بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب اختیارات واقعی نچلی سطح پر پہنچیں، بیوروکریسی خادم بنے اور معیشت کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت ہو۔ مشرف کا ماڈل کامل نہیں تھا، مگر اس نے راستہ دکھایا تھا۔ اس راستے پر چلنا، اس میں اصلاح کرنا اور اسے زندہ کرنا ہی موجودہ بحث کا اصل جوہر ہو سکتا ہے۔
ورنہ گرد اڑتی رہے گی، خواہشات خبر بنتی رہیں گی اور نظام وہیں کا وہیں کھڑا رہے گا۔