پاسبان حرم قصر
|

پاسبان حرم قصر الصفا پر متحد

(گزشتہ سے پیوستہ)
مسلم دنیا اس وقت متعدد سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں باہمی اعتماد، دفاعی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی یقینا اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس تعاون کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اسے جذباتی نعروں سے آگے لے جا کر عملی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاہدے کو کسی ملک یا کسی خاص گروہ کے خلاف نفرت کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا مقصد اپنے لوگوں کو محفوظ بنانا، اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔ اگر طاقت کو امن کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے تو یہی طاقت ایک نعمت بن جاتی ہے، لیکن اگر طاقت کو محض مقابلہ آرائی اور تصادم کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ مزید بحران پیدا کر سکتی ہے۔مکہ مکرمہ سے اٹھنے والی اس نئی سفارتی صدا کا سب سے خوب صورت مفہوم یہی ہونا چاہیے کہ مسلم ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قریب آئیں، مگر اختلافات کو جنگ میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنائیں۔ایک اللہ، ایک رسول ﷺ، ایک قرآن، ایک کلمہ اور ایک قبلہ، یہ روحانی رشتہ اپنی جگہ ایک عظیم حقیقت ہے، لیکن جدید دنیا میں اس رشتے کو مضبوط سیاسی اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت، بصیرت اور عملی منصوبہ بندی بھی درکار ہے۔
قصر الصفا میں ہونے والے دستخط ایک آغاز ہیں۔ ان دستخطوں کی اصل معنویت آنے والے دنوں میں سامنے آئے گی۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس معاہدے کو باہمی اعتماد، دفاعی خود انحصاری، مشترکہ منصوبہ بندی اور علاقائی امن کے لئے استعمال کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ آج کا یہ معاہدہ آنے والے کل کی ایک بڑی تاریخی پیش رفت ثابت ہو۔مکہ کی سرزمین نے بہت سے تاریخی عہد دیکھے ہیں۔ اب ایک نیا عہد اس کے دامن میں رقم ہوا ہے۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ یہ عہد صرف کاغذ پر درج چند سطریں ثابت ہوتا ہے یا مسلم دنیا میں باہمی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے ایک نئے باب کا آغاز بنتا ہے۔مکہ نے اپنی خاموش زبان میں پیغام دے دیا ہے؛ اب اصل امتحان عمل کا ہے۔اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا میں طاقت اور اثر و رسوخ کے مراکز اب صرف ایک خطے یا ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاست نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ممالک جو اپنی قومی ترجیحات کے ساتھ ساتھ باہمی شراکت داری کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں، بدلتے ہوئے حالات میں زیادہ مثر انداز سے اپنے مفادات کا دفاع کر سکتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا قرب اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔اس نئے تعلق کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ دفاعی شراکت داری اکثر معاشی، صنعتی، تکنیکی اور سفارتی تعاون کے لیے بھی دروازے کھولتی ہے۔ پاکستان نے طیارہ سازی، میزائل ٹیکنالوجی، بکتر بند گاڑیوں، بحری نظام اور مختلف دفاعی آلات کی تیاری میں قابلِ ذکر تجربہ حاصل کیا ہے۔ ترکیہ نے بھی اپنی دفاعی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ڈرونز، بحری جہازوں، الیکٹرانک نظام اور دیگر شعبوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
سعودی عرب اپنی قومی ترجیحات کے تحت دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں مقامی استعداد پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ان تینوں تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے نتائج مستقبل میں خاصے اہم ہوسکتے ہیں۔یہاں اصل ضرورت کسی فوری اعلان سے زیادہ ایک مستقل ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی ہے۔ سربراہانِ مملکت کی ملاقاتیں اور معاہدوں پر دستخط اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر مستقل کامیابی کے لئے ایسے ادارے درکار ہوتے ہیں جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تعاون کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ مشترکہ ورکنگ گروپس، دفاعی ماہرین کے باقاعدہ اجلاس، افواج کے درمیان رابطہ کاری، تحقیقی اداروں کے اشتراک اور دفاعی صنعتوں کے درمیان براہِ راست روابط اس عمل کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔موجودہ عالمی نظام میں مسلم ممالک کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ ان کے پاس قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، وسیع منڈیاں اور جغرافیائی اہمیت تو موجود ہے، لیکن ان صلاحیتوں کو مشترکہ قوت میں تبدیل کرنے کے لیے باقاعدہ تعاون کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ تعلیم، سائنس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، توانائی، صحت، زراعت اور صنعتی تحقیق جیسے میدانوں میں بھی شراکت داری بڑھے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ دور رس ہوسکتے ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل کے لئے یہ تعاون ایک نئے تصور کی بنیاد بن سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں رہی۔ سائبر حملے، مصنوعی ذہانت، غلط معلومات، معاشی دبائو، توانائی کی ضروریات اور ٹیکنالوجی کی دوڑ بھی قومی سلامتی کا حصہ بن چکی ہیں۔ آنے والے وقت میں وہی ممالک زیادہ محفوظ ہوں گے جو اپنے نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کریں گے اور انہیں تحقیق و اختراع کے مواقع فراہم کریں گے۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اگر اپنے موجودہ تعلقات کو نئی نسل کی ضروریات کے ساتھ جوڑتے ہیں تو تینوں معاشروں کے درمیان تعلق صرف حکومتوں اور اداروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عوامی سطح پر بھی مضبوط ہوسکتا ہے۔ جامعات کے درمیان روابط، طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے، ٹیکنالوجی مراکز اور نوجوان کاروباری افراد کے لئے مشترکہ مواقع اس تعلق کو ایک نئی جہت دے سکتے ہیں۔اس پورے عمل میں سفارت کاری کی اہمیت بھی کم نہیں۔ مضبوط دفاعی صلاحیت کے ساتھ مضبوط سفارتی رابطہ ضروری ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہی بالغ ریاستی حکمتِ عملی کی علامت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کے عالمی سطح پر مختلف نوعیت کے سفارتی روابط ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنی اپنی سفارتی قوت کو باہم ہم آہنگ کرتے ہیں تو عالمی فورمز پر کئی مشترکہ معاملات کو زیادہ موثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔کسی بھی اتحاد کی پائیداری باہمی اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر تینوں ممالک آنے والے برسوں میں ایک دوسرے کے لیے اسی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں تو موجودہ معاہدہ ایک رسمی دستاویز سے بڑھ کر حقیقی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔مکہ مکرمہ کی نسبت نے اس پورے واقعے کو یقینا جذباتی اور روحانی رنگ دیا ہے، لیکن اب اس نسبت کو عملی ذمہ داری میں بدلنا ہوگا۔
حرم کی عظمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ امن، حرمت اور انسانی جان کی حفاظت کسی بھی طاقت سے زیادہ اہم ہے۔ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں خطے میں تصادم کے بجائے احتیاط، دھمکی کے بجائے مذاکرات اور تقسیم کے بجائے تعاون کا رجحان پیدا ہوتا ہے تو یہی اس پیش رفت کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔تاریخ میں بڑے فیصلے ہمیشہ اسی وقت بڑے ثابت ہوتے ہیں جب ان کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں۔ ممکن ہے آج کے یہ دستخط مستقبل میں ایک وسیع تر تعاون کی بنیاد بنیں، اور ممکن ہے ان کی اہمیت صرف موجودہ حالات تک محدود رہے۔ فیصلہ بہرحال آنے والا وقت کرے گا۔ مگر اس وقت اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والی یہ پیش رفت تینوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات کو حکمت کے ساتھ، طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ اور اتحاد کو امن کے مقصد کے ساتھ جوڑا جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو قصر الصفا میں ہونے والا یہ اجتماع صرف ایک تاریخی تصویر نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات خطے کی سیاست، دفاع، معیشت اور سفارت کاری میں بھی محسوس کیے جا سکیں گے۔اصل کامیابی اس دن ہوگی جب معاہدے کی روشنائی سے آگے بڑھ کر اس کے ثمرات عام انسان تک پہنچیں، جب تحفظ کا احساس سرحدوں سے نکل کر معاشروں تک پہنچے، جب مشترکہ صلاحیتیں مشترکہ ترقی کا وسیلہ بنیں اور جب مسلم ممالک ایک دوسرے کی طاقت کو خطرہ نہیں بلکہ اپنے اجتماعی استحکام کا ذریعہ سمجھیں۔یہی وہ منزل ہے جہاں ایک معاہدہ تاریخ کا حوالہ بنتا ہے اور ایک عہد آنے والی نسلوں کے لئے مثال۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *