بھارتی احتجاج، پاکستان کے لئے سبق اور انصاف کی تلاش
برصغیر کی سیاست میں عوامی احتجاج کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی عوام مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں کبھی بجلی، گیس اور پانی کے بحران پر، اور کبھی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں یا کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری کے خلاف۔ لیکن حالیہ دنوں میں بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوانوں کی جانب سے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف اٹھنے والی آواز نے جنوبی ایشیاء کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ احتجاج اقتدار کے حصول یا کسی حکومت کو گرانے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی مطالبہ صرف ایک تھا میرٹ، شفافیت اور انصاف۔
طلبہ کا موقف تھا کہ اگر کسی امتحان کا پرچہ پہلے ہی غیر قانونی طور پر دستیاب ہو جائے تو لاکھوں محنتی نوجوانوں کی برسوں کی محنت ایک لمحے میں ضائع ہو جاتی ہے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے اور اگر اسی بنیاد میں بدعنوانی سرایت کر جائے تو پورا نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کا موثر احتساب کیا جائے اور امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔
اس احتجاج کے دوران طلبہ پر مختلف الزامات بھی لگائے گئے۔ انہیں ملک دشمن قرار دیا گیا، بیرونی قوتوں سے روابط کے دعوے کئے گئے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منظم مہمات بھی چلائی گئیں تاہم ان تمام الزامات کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم رہا کہ کیا چند بااثر افراد کے مفادات کی خاطر لاکھوں نوجوانوں کی محنت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
یہ منظر دو سال قبل بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی اس تحریک کی یاد بھی دلاتا ہے،جہاں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ نظام کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے حالات، سیاسی ماحول اور تحریکوں کی نوعیت مختلف تھی لیکن ایک بنیادی قدر مشترک تھی۔ نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر چاہتے تھے نہ کہ سفارش، سیاسی وابستگی یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنیاد پر۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات منسوخ ہوئے، مختلف بھرتیوں پر سوالات اٹھے اور متعدد اداروں میں شفافیت پر سنجیدہ بحث جاری رہی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے اکثر وقتی اقدامات پر اکتفا کیا گیا جس کے نتیجے میں نوجوانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر ہوا۔
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں تعلیم کو کامیابی کی یقینی ضمانت نہیں سمجھا جاتا۔ ایک طالب علم برسوں محنت کرتا ہے، نمایاں نتائج حاصل کرتا ہے اور اعلیٰ ڈگریاں لیتا ہے، لیکن جب ملازمت کا وقت آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ قابلیت سے زیادہ سفارش، تعلقات یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوگا۔ جب کسی معاشرے میں یہ احساس عام ہو جائے کہ محنت سے زیادہ اہم سفارش ہے تو وہاں میرٹ صرف تقریروں اور سرکاری بیانات تک محدود رہ جاتا ہے۔
اقرباء پروری اور سفارش نے پاکستان کے متعدد اداروں کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ بہت سے سرکاری اور نجی اداروں میں قابل، دیانت دار اور محنتی افراد بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں لیکن مختلف مواقع پر بھرتیوں، ترقیوں اور تقرریوں کے حوالے سے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں باصلاحیت نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ صرف افراد کی ہجرت نہیں بلکہ قومی صلاحیت اور انسانی سرمائے کا مسلسل نقصان ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان شدید سیاسی کشیدگی سے بھی گزرا ہے۔ اپریل 2022 ء عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں مسلسل سیاسی محاذ آرائی جاری رہی۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف 9مئی 2023ء کے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، مقدمات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے الزامات سامنے آئے۔ دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے کارکن بھی مختلف ادوار میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سخت حکومتی کارروائیو ں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرتے رہے۔ ان تمام معاملات پر متعلقہ فریقوں کے اپنے اپنے موقف موجود ہیں لیکن ایک جمہوری معاشرے میں بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو اور کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق آئین کے مطابق محفوظ رہیں اور احتجاج کی آزادی ہو چونکہ احتجاج کرنا آئینی ہے ۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ تحریک نے بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ مختلف عوامی مطالبات کے حق میں شروع ہونے والے احتجاج، دھرنوں، گرفتاریوں اور حکومتی اقدامات نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں بھی شدید تشویش پیدا کی۔ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں کشمیریوں نے یکجہتی کے مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ اختلافات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور آئینی راستے سے نکالا جائے۔ ایسے حالات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ریاست کی اصل طاقت صرف قانون نافذ کرنے میں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے میں بھی مضمر ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی معاشرے کی طاقت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہاں کتنی خاموشی ہے بلکہ اس بات سے کہ وہاں اختلافِ رائے کو کس حد تک برداشت کیا جاتا ہے۔ قبرستان میں بھی خاموشی ہوتی ہے لیکن وہ زندگی کی علامت نہیں ہوتی۔ زندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں نوجوان سوال اٹھاتے ہیں دانشور لکھتے ہیں صحافی تحقیق کرتے ہیں عدالتیں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں اور حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔
بھارت کی مثال ہو یا بنگلہ دیش کی یا پھر پاکستان کے اپنے حالات، ایک حقیقت سب جگہ مشترک نظر آتی ہے کہ نئی نسل اپنے مستقبل کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہو چکی ہے۔ وہ تعلیم، میرٹ، شفافیت، انصاف اور قانون کی بالادستی کو اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے۔ یہی سوچ کسی بھی قوم کی ترقی کا اصل سرمایہ ہوتی ہے طاقت اور ڈنڈا نہیں ۔