ہند سندھ میں انقلاب کی دستک
ہندوستان کی سرزمین پر ایک نئی آواز گونج رہی ہے۔ یہ آواز نہ کسی روایتی سیاسی پارٹی کی ہے نہ کسی بزرگ رہنما کی اور نہ ہی کسی پرانی نظریاتی تحریک کی۔ یہ آواز ان نوجوانوں کی ہے جنہیں ایک دن کاکروچ کہہ کر رد کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اسی لفظ کو اپنی شناخت بنا لیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی یا کاکروچ تحریک آج بھارت کے سیاسی اور سماجی منظرنامے پر ایک اہم واقعہ بن چکی ہے۔ یہ تحریک صرف ایک امتحانی اسکینڈل کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی اور نسلی غصے کا اظہار ہے جو سالوں سے جمع ہو رہا تھا۔اسی سال مئی کے مہینے میں بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں اور بعض سرگرم افراد کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کاکروچ اور معاشرے کے پرجیوی قرار دیا۔ یہ ریمارک اصل میں جعلی ڈگریوں اور نظام پر حملہ آور عناصر کے سیاق میں تھا لیکن الفاظ نوجوان نسل تک پہنچے تو زخم بن گئے۔ اگلے ہی دن ابھیجیت دپکے نامی ایک تیس سالہ نوجوان جو بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز کی تعلیم حاصل کر چکا تھانے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پوسٹ کی کہ اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟ اسی دن اس نے کاکروچ جنتا پارٹی کا نام لے کر ایک آن لائن پلیٹ فارم بنا دیا۔ یہ نام بی جے پی کا مذاق تھا اور ساتھ ہی چیف جسٹس کے الفاظ کو اپنے اوپر لے کر ان کا دفاع بھی۔ چند دنوں میں یہ پلیٹ فارم لاکھوں پھر کروڑوں فالوورز کا حامل بن گیا۔ میمز، ریلز، طنزیہ پوسٹرز اور میں بھی کاکروچ ہوں کے نعرے سوشل میڈیا پر چھا گئے۔لیکن محض ایک ریمارک تحریک کو سڑکوں تک نہیں لا سکتا تھا۔ اصل ایندھن مئی کے اوائل میں پیش آنے والے NEET-UG اسکینڈل نے فراہم کیا۔ایک قومی میڈیکل انٹری ٹیسٹ منعقد ہوا جس میں ۲۲ لاکھ سے زائد طلبا شریک ہوئے۔ امتحان کے فوراً بعد راجستھان کے سیکر علاقے سے ایک گیس پیپر سامنے آیا جس میں اصل پیپر کے ۱۲۰ سے ۱۴۰ سوالات مماثل تھے بائیولوجی اور کیمسٹری کے تقریباً تمام سوالات سمیت۔ یہ مواد امتحان سے پہلے واٹس ایپ اور دیگر چینلز پر گردش کر رہا تھا۔ ۱۲ مئی کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے پورے امتحان کو منسوخ کر دیا۔ ری ٹیسٹ ۲۱ جون کو ہوا۔ اس دوران کم از کم ایک درجن طلبا نے خودکشی کر لی۔ خاندانوں نے دباؤ غیر یقینی صورتحال اور سالوں کی محنت ضائع ہونے کا ذکر کیا۔ابھیجیت دپکے کی آن لائن تحریک نے اس غصے کو ایک شکل دے دی۔ جون کے شروع میں جنتار منتر پر پہلی جسمانی جمع ہوئی۔ ۲۰ جون کے قریب ایک دن کا احتجاج مسلسل سِٹ اِن بن گیا۔ بائیں بازو کے طلبا تنظیموں نے شمولیت کی۔ جون کے آخر میں معروف کارکن سونم وانگچوک نے ہنگر سٹرائیک شروع کر دی جو تقریباً ۲۶ دن جاری رہی۔ والدین اساتذہ، فنکار اور عام شہری جنتار منتر پہنچنے لگے۔ ۲۰ جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ ہوا پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج استعمال کیا۔ احتجاج دوسرے شہروں میں بھی پھیل گیا۔ بالآخر ۲۵ جولائی ۲۰۲۶ کو تعلیم وزیر دھر میندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ تحریک نے اپنا اہم مطالبہ منوا لیا۔یہ انقلاب نہیں تھا لیکن یہ ایک اہم سبق ضرور تھا جب نوجوان نسل اپنی زبان خود بناتی ہے۔ طنز کو ہتھیار بناتی ہے اور سوشل میڈیا کی آواز کو ایک تنظیم میں بدل دیتی ہے تو حکمران اشرافیہ کو جھکنا پڑتا ہے۔اب نظر اپنے گھر کی طرف پھیریں۔ پاکستان میں مقابلے کے امتحانات خصوصاً سی ایس ایس، پی ایم ایس اور دیگر سرکاری بھرتیوں کا نظام بھی طویل عرصے سے تنقید کا نشانہ ہے۔ یہاں بھی پیپر لیکس، نقل، سفارش اور پیسے کے ذریعے نااہل افراد کا داخلہ ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکا ہے۔ میرٹ کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں اکثر اوقات میرٹ کا قتل کیا جاتا ہے۔مقابلے کے امتحانات میں نالائق طلبا و طالبات کو پیسے اور سفارش کے بل بوتے پر پاس کرا کے اہم انتظامی عہدوں پر بٹھانے کی مثالیں بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ تھرڈ ڈویژن ھاصل کرنے والے یا وہ لوگ جن کا تعلیمی ریکارڈ کمزور ہو اثر و رسوخ یا رشوت کے ذریعے ان عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں سے پورے محکموں اور پھر ملک کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ صرف انفرادی ناانصافی نہیں بلکہ ایک نظامی زہر ہے جو ریاست کے اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔جب ایک نااہل شخص محض سفارش یا پیسے کی بنیاد پر ڈی سی، ایس پی یا کسی اہم سیکریٹریٹ کے عہدے پر بیٹھ جاتا ہے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ فیصلے ذاتی مفاد سیاسی وفاداری یا رشتہ داری کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ قابلیت ایمانداری اور محنت پس پشت ڈال دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوامی خدمات خراب ہوتی ہیں انصاف تاخیر کا شکار ہوتا ہے اور نوجوان نسل میں مایوسی بڑھتی ہے۔پاکستان میں امتحانی نظام کی شفافیت پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔ پیپر لیکس کی خبریں آتی رہتی ہیں تحقیقات ہوتی ہیں کچھ گرفتاریاں بھی ہوتیں ہیں لیکن بنیادی ڈھانچہ جوں کا توں رہتا ہے۔ کوچنگ مافیا، رشتے داری، سیاسی اثر و رسوخ اور رشوت کا کلچر اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ ایمانداری سے محنت کرنے والا نوجوان اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ جب میرٹ مر جائے تو معاشرے میں ناانصافی کی جڑیں مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ہندوستان کی کاکروچ تحریک نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ نوجوان نسل اب صرف شکایت نہیں کرتی وہ تنظیم بھی بناتی ہے۔ وہ طنز کو ہتھیار بناتی ہے سوشل میڈیا کو میدان جنگ بناتی ہے اور جب ضروری ہو تو سڑکوں پر بھی اترتی ہے۔ پاکستان میں بھی نوجوان نسل کی اکثریت تعلیم یافتہ باشعور اور دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ ان کے ہم عمر دوسرے ممالک میں کیسے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اپنے ملک میں میرٹ کے نام پر نااہلی کو سراہا جا رہا ہے۔جب تک مقابلے کے امتحانات میں پیسے اور سفارش کا راج رہے گا جب تک تھرڈ ڈویژن والے اثر و رسوخ کی بنیاد پر اہم عہدوں پر فائز ہوتے رہیں گے اور جب تک نوجوانوں کی محنت کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا مایوسی بڑھتی رہے گی۔ یہ مایوسی ایک دن غصے میں بدل سکتی ہے اور غصہ تنظیم میں۔ہند سندھ کی سرزمین پر نوجوان نسل کی بیداری کی علامات نظر آ رہی ہیں۔ بھارت میں کاکروچوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں حقیر سمجھنے والے خود شرمندہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر نوجوان اپنی محنت، اپنی قابلیت اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں تو تبدیلی ناممکن نہیں۔انقلاب ہمیشہ بڑے نعرے اور خونریزی سے نہیں آتا۔ کبھی کبھی وہ ایک طنزیہ نام ایک منسوخ امتحان اور چند ہزار نوجوانوں کے جنتار منتر پر بیٹھ جانے سے شروع ہوتا ہے۔ کبھی وہ میرٹ کے قتل کے خلاف ایک اجتماعی انکار سے جنم لیتا ہے۔اور کبھی وہ اس وقت جنم لیتا ہے جب خود حکمران طبقہ تعلیم کے محافظوں کی اتنی کھلی بے عزتی کر دے کہ پورا معاشرہ شرمندہ ہو جائے۔ پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا وہ بیان اب بھی یاد ہے جب انہوں نے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے بارے میں کہا کہ جاتے ہوئے پنکھے اتار لیتے ہیں، ٹوٹیاں اتار لیتے ہیں۔ یہ الفاظ صرف ایک الزام نہیں تھے بلکہ پورے تدریسی طبقے کی توہین تھے۔ ایک ایسا طبقہ جو پہلے ہی کم تنخواہوں ناقص سہولیات اور سماجی بے قدری کا شکار ہے اسے چور قرار دے دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہمارا حکمران ذہن تعلیم کو کتنا حقیر سمجھتا ہے۔ بعد میں تنقید کے باوجود بھی ایسے بیانات کا آنا بتاتا ہے کہ عزتِ نفس کا معاملہ ہمارے حکمرانوں کے نزدیک کتنا معمولی ہے۔ جب وزیر تعلیم خود اساتذہ کو اس انداز میں مخاطب کرے تو پھر نوجوان نسل سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اس نظام پر اعتماد کرے؟ہند سندھ میں انقلاب کی دستک سننے والے کانوں کو چاہیے کہ وہ صرف دوسروں کے گھر کی دیواروں پر دستک نہ سنیں۔ اپنے دروازوں پر بھی توجہ دیں۔ کیونکہ جب نوجوان نسل میرٹ شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرنے لگے تو پرانے نظام کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔