مکہ معاہدہدہلی مضطرب
|

مکہ معاہدہ،دہلی مضطرب

تاریخ کےبعض فیصلے شورِشمشیرمیں نہیں، خاموش سفارتی میزوں پرجنم لیتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں نہ کوئی پرچم ہوتاہے،نہ توپ کادہانہ،نہ لشکروں کی گھن گرج؛مگروقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتاہےکہ ایک خاموش دستخط نےطاقت کےپورے نقشے میں ایک نئی لکیر کھینچ دی تھی۔مکہ مکرمہ میں پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان ہونے والادفاعی معاہدہ اسی نوعیت کی ایک پیش رفت کےطورپردیکھاجارہاہے۔اس معاہدے کی اہمیت صرف اس امر میں نہیں کہ تین ممالک نے باہمی سلامتی کوایک دوسرے سے وابستہ کرنے کافیصلہ کیا بلکہ اصل سوال یہ ہےکہ یہ فیصلہ کس تاریخی لمحےمیں سامنے آیاہے۔مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے جنگ ، مداخلت،پراکسی تنازعات اور بیرونی طاقتوں کے عسکری انتظامات کامیدان رہاہے۔دوسری جانب جنوبی ایشیاء میں پاکستان اورانڈیاکےدرمیان کشیدگی ایک ایسی حقیقت ہےجس کے ساتھ دونوں ممالک کی ایٹمی صلاحیت نے پوری دنیاکو محتاط کر رکھا ہے ،ایسے میں مکہ کایہ معاہدہ محض ایک اوردفاعی سمجھوتانہیں؛ یہ اس سوال کی طرف اشارہ ہے کہ کیامسلم دنیاکے بعض اہم ممالک اب اپنی سلامتی کے لئے بیرونی چھتریوں کی بجائے علاقائی شراکت داری کاکوئی نیانمونہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟لیکن انڈیاکواس پرکیوں تشویش ہے؟
انڈیاکی تشویش کوسمجھنے کے لئےضروری ہے کہ اس معاہدے کو صرف تین ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے طورپر نہ دیکھاجائے۔تینوں ریاستوں کی جغرافیائی حیثیت، عسکری استعداد، اقتصادی وزن اور سفارتی رسوخ کوایک ہی فریم میں رکھاجائے توایک ایسامثلث سامنے آتاہے جس کے تینوں زاویے الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں۔پاکستان جنوبی ایشیاء کی ایک بڑی عسکری قوت اورایٹمی ریاست ہے۔ترکی نیٹوکارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط دفاعی صنعت، تجربہ کارفوج اوروسیع علاقائی سفارتی اثرورسوخ رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس اقتصادی وسائل،توانائی کی طاقت،اسلامی دنیامیں مذہبی وسیاسی مرکزیت اورعالمی سفارت کاری میں ایک غیرمعمولی مقام ہے۔لہٰذادہلی کی نگاہ میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کودو دوست ممالک مل گئے ہیں،اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سلامتی کاسوال اب دوایسے دارالحکومتوں سےجڑرہاہے جواپنےاپنے میدان میں غیرمعمولی وزن رکھتے ہیں۔
یہاں ایک باریک فرق بھی قابلِ غورہے۔ پرانے عسکری اتحاداکثرکسی بڑی طاقت کی چھتری تلے تشکیل پاتے تھے۔اس نئے انتظام میں بظاہر علاقائی ممالک خوداپنی سلامتی کی تعریف اورترجیحات متعین کرتےدکھائی دیتے ہیں۔یہی پہلواسےدہلی کے لئے زیادہ حساس بناتا ہے۔معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی سب سے اہم بات اس کی اجتماعی دفاعی روح ہے۔ کسی ایک ملک پرمسلح حملہ،تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات چندالفاظ پورے سفارتی منظرنامے کاوزن بدل دیتے ہیں۔انہی اصطلاحات میں سے ایک مشترکہ دفاع بھی ہے۔یہاں مکہ کی علامتی اہمیت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی۔ایک ایساشہرجو مسلمانوں کے لئے روحانی مرکز ہے، وہاں ہونے والادفاعی معاہدہ سیاسی معنویت کے علاوہ تہذیبی اورنفسیاتی اثربھی رکھتا ہے۔
تاہم ریاستی سیاست جذبات سے زیادہ مفادات کے ترازومیں تولی جاتی ہے۔اسی لئے اصل اہمیت معاہدے کے مقام سے زیادہ اس کے عملی مضمرات کی ہے۔اگراجتماعی دفاع کا اصول محض اعلامیے تک محدودرہتاہےتواس کی حیثیت علامتی ہو گی؛ اگراسے مشترکہ منصوبہ بندی،انٹیلی جنس،دفاعی صنعت، تربیت اورعملی مشاورت سے جوڑدیاجائے توپھریہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک مستقل عنصربن سکتاہے۔ معاہدہ کی اس شق نے انڈیاکوتشویش میں مبتلاکردیاہے کہ دہلی اس نئے ابھرتے ہوئے سکیورٹی فریم ورک کوکس نظر سے دیکھتا ہے ۔
پاکستان کی خارجہ ودفاعی تاریخ میں عسکری اتحادکوئی نئی چیز نہیں۔سردجنگ کے عہدمیں پاکستان نے امریکاکی سرپرستی میں تشکیل پانے والے سیٹو اور سینٹومیں شمولیت اختیارکی۔اس وقت دنیادوبڑے نظریاتی کیمپوں میں تقسیم تھی۔واشنگٹن کے لئےبنیادی مقصد سوویت اثر ورسوخ اورکمیونزم کے پھیلائو کو روکنا تھاجبکہ پاکستان اپنی سلامتی،معاشی مدداورعلاقائی خطرات کے مقابلے میں ایک مضبوط بیرونی شراکت دارتلاش کررہاتھا مگر تاریخ نے جلدیہ دکھادیاکہ کسی اتحادکی اصل قدراس کی دستاویزسے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ بحران کی گھڑی میں اتحادی کس حدتک اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ سیٹوکے باہمی دفاعی اصول موجودتھے،لیکن ان کےساتھ ایسی شرائط اورسیاسی حدود بھی تھیں جنہوں نے پاکستان کے لئے یہ سوال ہمیشہ زندہ رکھاکہ اگرخطرہ براہِ راست بھارت سے ہو توا مریکاکہاں کھڑا ہوگا۔ اسی تاریخی تجربے کے باعث مکہ کاموجودہ معاہدہ ایک مختلف زاویہ اختیارکرتا ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن یاکوئی بیرونی طاقت کیاکرے گی؛سوال یہ ہےکہ علاقائی ریاستیں خودایک دوسرے کےلئے کس حد تک کھڑی ہوں گی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ماضی سے نکل کرحال کے دروازے پردستک دیتی ہے اوراسی کے ساتھ ایک مشکل سوال بھی پیداہوتاہے:اگرپاکستان اورانڈیاکے درمیان مستقبل میں جنگ چھڑتی ہےتوکیا ترکی اورسعودی عرب واقعی پاکستان کے اجتماعی دفاعی حق کوعملی طور پرتسلیم کریں گے؟معاہدے کی اصل آزمائش شایداسی لمحے ہوگی۔
نیتن یاہو نے اس معاہدے پرسوال اٹھاتے ہوئے بنیادی طورپرایک اہم نکتہ سامنے رکھا، اگر ایران،یمن یاعراق سے سعودی عرب کوخطرہ لاحق ہوتوکیاپاکستان اور ترکی ان محاذوں پرجنگ میں شریک ہوں گے؟اوراگرپاکستان اورانڈیامیں جنگ ہو تو کیا سعودی عرب اورترکی انڈیاکے خلاف عسکری اقدام کریں گے؟یہ سوال بظاہرطنزیہ انداز میں اٹھایاگیا مگر اس میں ایک بنیادی قانونی وسیاسی مسئلہ پوشیدہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ حملہ کی تعریف کیا ہے؟ ہراجتماعی دفاعی معاہدہ یہ سوال پیداکرتاہے کہ کیامیزائل حملہ ،ڈرون حملہ، سرحد پار محدود کارروائی،دہشتگردی کے جواب میں فوجی آپریشن، سائبرحملہ،یاکیا کسی تیسرے ملک میں موجود پراکسی گروہ کی کارروائی کوریاست پرحملہ تصور کیا جائے گا؟ یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ جدید جنگ نے جنگ اورعدمِ جنگ کے درمیان پرانی لکیردھندلادی ہےلہٰذا معاہدے کی طاقت صرف اس کی زبان میں نہیں بلکہ اس کے تشریحی طریق کارمیں ہوگی۔
آپریشن سندورکے دوران پاکستان نے جس طرح اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کی،اس نے ایک بارپھریہ حقیقت سامنے رکھی کہ جدید جنگ صرف فوجی تعداد کانام نہیں۔فضائی نگرانی،میزائل ٹیکنالوجی، کمانڈ اینڈکنٹرول،الیکٹرانک وارفیئر، ڈرونز،انٹیلی جنس اور درست نشانہ بندی سب مل کرجدیددفاعی طاقت تشکیل دیتے ہیں۔اس پس منظرمیں سعودی عرب اورترکی کے ساتھ معاہدے کاسب سے اہم فائدہ شایدبراہِ راست جنگی شمولیت سے زیادہ دفاعی صلاحیتوں کاباہمی انضمام ہوسکتاہے۔ترکی کی دفاعی صنعت ڈرون ٹیکنالوجی ،ایوی ایشن،الیکٹرانک نظام اورمتعدد دیگرشعبوں میں اہم مقام حاصل کرچکی ہے۔سعودی عرب مالی وسائل،دفاعی سرمایہ کاری اورتوانائی کے ذریعے ایک مختلف نوعیت کی قوت رکھتاہے۔پاکستان کےپاس جنگی تجربہ،ایٹمی ڈیٹرنس اوراپنی دفاعی صنعت کی ایک بنیاد موجود ہے۔ اگریہ تینوں عناصرایک مربوط نظام میں تبدیل ہوتے ہیں تونتیجہ صرف تین فوجوں کامجموعہ نہیں؛یہ تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کاامتزاج ہوگا۔

پاکستان اورانڈیاکے درمیان سب سے بنیادی تزویراتی حقیقت جوہری توازن ہے۔پاکستان کی جوہری پالیسی بنیادی طورپرانڈیاسے متعلق سمجھی جاتی ہے۔ اس کامقصد روایتی عسکری عدمِ توازن کوایک ایسے تزویراتی توازن میں تبدیل کرناہے جس میں کسی بھی فریق کے لئے مکمل جنگ کاراستہ تباہ کن نتائج سے خالی نہ ہو۔مکہ کامعاہدہ اس جوہری حقیقت کوختم نہیں کرتا،نہ ہی اس کامتبادل بنتاہےبلکہ ممکنہ طورپراس کااثرایک دوسرے درجے پر ہو گا، جوہری ڈیٹرنس کے نیچےروایتی اورسفارتی ڈیٹرنس کی ایک اضافی تہہ بھی موجودہے ۔ معاہدے کا ایک اہم پہلویہ ہے کہ یہ اس سیاسی حمایت کوایک نسبتاً مستقل ادارہ جاتی شکل دے سکتا ہے جوبحران کے دوران پہلے سے موجودتھی۔ریاستی تعلقات میں حمایت کی تین سطحیں ہوتی ہیں:بیان، سفارت کاری اورعملی تعاون۔بیان وقتی ہوتاہے۔ سفارت کاری بحران کے دوران دبائوپیداکرسکتی ہے مگردفاعی تعاون اس سے ایک قدم آگے ہے کیونکہ وہ ریاستوں کو مشترکہ منصوبہ بندی اورباہمی ذمہ داری کے قریب لے جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مکہ کامعاہدہ صرف یہ نہیں بتاتاکہ کون کس کے ساتھ ہے؛یہ اس سوال کوبھی جنم دیتاہے کہ بحران کی صورت میں کون کس سطح پرمتحرک ہوگا۔اگر اس معاہدے کے نتیجے میں مستقل دفاعی مشاورت،مشترکہ مشقیں، انٹیلی جنس تعاون اورسفارتی رابطے بڑھتے ہیں تواس کی اہمیت کاغذی شقوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔
دہلی کے لئےسب سے پیچیدہ پہلوشاید سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ دفاعی تعلق نہیں بلکہ سعودی عرب کاانڈیاکے ساتھ گہرامعاشی تعلق ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت اربوں ڈالرمیں ہے۔ سعودی عرب نےانڈیامیں توانائی،ریفائننگ، پیٹرو کیمیکلز اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی خواہش ظاہرکی ہے۔سعودی آرامکو بھی انڈیا کے بڑے صنعتی منصوبوں میں دلچسپی رکھتی رہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *