آزادی کیا ہے؟ کوئی محکوم لوگوں سے پوچھے
چندروزبعد ہم جشن آزادی منارہے ہوں گے۔آزادی کا مفہوم وہی جان سکتے ہیں جو اس سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔آزادی انسان کی بنیادی ضرورت ہےاور سب سے بڑی نعمت بھی۔اس کے بغیر ذاتی ترقی،خودمختاری اور بنیادی انسانی حقوق کاحصول ناممکن ہے۔یہ انسان کو اپنی صلاحیتیں ابھارنے،اچھے فیصلے خود کرنےاور عزت نفس کےساتھ جینے کا موقع دیتی ہے۔آزاد ماحول ہو تو انسان اپنی طاقت اور ہنر کو کام میں لا سکتا ہے۔انسان کسی کی غلامی یا قید میں ہو تو اس میں سوچنے،سمجھنے اور کام کرنے کی صلاحیتیں معدوم ہو جاتی ہیں۔دنیا اگر ظلم اور غلامی کا خاتمہ چاہتی ہے تو وہ صرف آزاد ماحول سے ہی ممکن ہے۔آزادی کے تصور کے لئےاظہار رائےبھی ضروری ہے۔یہ اس لئےلازمی نہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا حصہ اور کسی آزاد جمہوری معاشرے کا مسئلہ ہے۔اس لئے لازم ہےکہ اس کے ذریعے نت نئے تصورات تک پہنچنے کا سفر آسان ہوتا ہے۔امریکہ جیسے ملک میں بھی صرف اظہار رائے ہی کی آزادی نہیں بلکہ امریکی کانگریس نے آئین میں ترمیم کر کے ایسے قانون کا نفاذ کیا کہ ایسا کوئی قانون نہیں بنایاجائےگا جس میں کسی مذہب کےاحترام کی خاطر اظہارکی آزادی کےحق پرکوئی قدغن لگائی جاسکے۔پریس کو پابندکیاجاسکے یالوگوں کےپرامن اجتماع کو روکاجاسکے۔پاکستانی آئین کے آرٹیکل 19کے مطابق بھی پاکستان کے ہرشہری کوتقریر اور اظہارخیال کی آزادی کاحق حاصل ہےلیکن یہ آزادی مادرپدرآزادنہیں ہے بلکہ قانونی پابندیوں کےتابع ہےاورکچھ حدودوقیود متعین کرتی ہے۔شکر کا مقام ہے کہ ہم ایک آزاد ملک پاکستان میں رہتے ہیں۔ایسے ملک میں جوہمارے آبائواجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا اور جس کا نام 14اگست 1947 ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
پاکستان کی اساس ہی دوقومی نظرئیے کی بنیاد پررکھی گئی۔جس کاتصور شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے دیاجبکہ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اپنی جدوجہد سے اقبال کے اس خواب کو سچی تعبیر دی اور مسلمانوں کے لیئے برصغیر میں ایک علیحدہ ریاست کےقیام کو یقینی بنایا۔ہرسال ہم 14اگست کے دن کو آزادی کے لازوال تصور کے ساتھ بڑے تزک واحتشام کے ساتھ مناتےہیں اور 14 اگست 1947ء کی یادکو تازہ کیاجاتا ہے۔یہ وہ دن ہے جب خطے میں برطانوی راج کا خاتمہ ہوااورایک نئی اسلامی فلاحی مملکت کےقیام کاباقاعدہ اور باضابطہ اعلان ہوا۔برصغیر کی تقسیم کےوقت طےشدہ ضابطے کےتحت پاکستان اوربھارت کو اختیارات کی منتقلی 14 اور 15اگست کی درمیانی شب،عمل میں آئی تاہم اقتدار کی منتقلی باضابطہ طور پر 14اگست کو ہوئی۔اس تاریخی دن اوراس دن کےحصول کےلیےہندوستان میں بسنے والےلاکھوں مسلمانوں نےطویل جدوجہدکی اور بےپناہ قربانیاں دیں جس کےنتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔جب بھی 14 اگست آتاہے،اس دن کا آغازدارالحکومت میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔ اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائےجاتےہیں جبکہ سرکاری اور نجی ٹیلی ویژن کے تمام سنٹرز پر صبح ہی سے آزادی کے حوالے سے خصوصی پروگراموں اور ملی ترانوں کی نشریات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے،جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔جس سےآزادی کےجشن کی رونق اوربھی دوبالا ہو جاتی ہے۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن پرتحریک پاکستان کےہیروزکوخراج تحسین پیش کرنےکےلیے خصوصی پروگرام نشرکئےجاتے ہیں تاکہ نئی نسل اپنے ہیروز سے روشناس ہو سکے۔ہمارے آبا ئواجداد نے کتنی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد پاکستان کے حصول کو ممکن بنایا۔یہ سب ان پروگراموں کا حصہ ہوتا ہے۔اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے تحت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں آزادی کے لئے جو تحریک چلی اس کے مناظر بڑے روح پرور تھے۔مورخ رقم کرتےہیں کہ جوش و جذبے اور ولولوں سے بھرپور مناظر دنیا کی کسی اور آزادی کی تحریک میں نہیں ملتے۔
رمضان کا بابرکت مہینہ تھا اور اسلامی کیلنڈر کے مطابق رمضان کی 27تاریخ جس کی رات کو لیلتہ القدر کی پانچ راتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہےجو مسلمانوں کے لئے بہت مقدس رات ہوتی ہے۔14اگست کے دن شکرانے کے نفل بھی ادا کئےجاتے ہیں۔ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پرکاربند رہنےکااعادہ کیاجاتا ہے۔آزادی کی قیمت ان سے پوچھیں جو آزاد نہیں ہیں۔بھارت اور کشمیر سمیت دنیا کےدیگر کروڑوں محکوم افرادجس طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔تاریخ ان کا احاطہ کرتے نہیں تھکتی۔ پاکستان میں ہندو، سکھ،عیسائی بھی بستے ہیں جومذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔آئین پاکستان بھی انہیں ہر طرح کا آئینی اور سماجی تحفظ فراہم کرتا ہے۔اقلیتوں میں سے جو بھی پاکستانی شہریت رکھتا ہے،ہر طرح کے آئینی حقوق اسے حاصل ہیں۔ آئین بھی یہی کہتا ہے اور آئین پاکستان کا تقاضا بھی یہی ہے۔اس کے باوجود کہ یہاں شہریوں کو ہرطرح کے آئینی حقوق حاصل ہیں پھر بھی نفرت کے بیج بوئےجاتے ہیں۔ چند نام نہاد لیڈر حقوق کے نام پر دنگافساد کرتے ہیں۔عوام کو سہانے نعروں کی آڑمیں سڑکوں پرلاکر امن و امان کے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔بلوچستان کےبعد اب آزاد کشمیر میں بھی نفرت کے بیج بوئےجا رہے ہیں۔ایسی تحریک چلائی جا رہی ہے جس سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ پاکستان ہےتو ہم ہیں- ہماری پہچان اسی کے دم سے ہے۔کوئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ پاکستان کا ہی نہیں ، آنے والی نسلوں کا بھی نقصان ہے۔ایسی تحریکوں کے پیچھے موجود لوگوں کو غیر ملکی عناصر اور پاکستان کے بدخواہوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ہمیں انکو دیکھنا ہے، صرف دیکھنا ہی نہیں،ان کی سرکوبی بھی کرنی ہےتاکہ ایسے عناصرکا قلع قمع ہو جو پاکستان سے دشمنی رکھتے ہیں۔آج ہمیں عہد کرنا ہےکہ پاکستان کے وقار کی ہرقیمت پرحفاظت کریں گے۔پاکستان ایسے ہی حاصل نہیں ہوگیا اور آزادی کسی پلیٹ میں رکھ کر نہیں مل گئی۔اس کے پیچھے ہزاروں جانوں کی قربانی ہے۔ہم سب کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔آزادی کیا ہےکوئی جا کر محکوم لوگوں سے پوچھے۔