پس پردہ بساط
خلیج کی صورتِ حال گزشتہ کچھ عرصے میں بتدریج زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے،اس کے ساتھ یہ احساس بھی گہرا ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور اس کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ، اپنے وسیع تر مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک سعودی عرب کو بالآخر اپنے ساتھ کھڑا نہ کر لیں۔ ریاض کو براہِ راست آمادہ کرنے کی کوششیں، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں کو تسلیم کرنے کے معاملے میں، جب کامیاب نہ ہو سکیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں طاقتوں نے زیادہ پیچیدہ اور بالواسطہ راستہ اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنےکافیصلہ کیا۔ اب ایک ایسی دانستہ حکمتِ عملی کے خد وخال نمایاں ہونےلگےہیں جس کا مقصد مملکت کو بتدریج تنہا کرنا اور اس کی پالیسی کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کرنا معلوم ہوتا ہے۔باب المندب آبنائے کےگرد رونما ہونے والے واقعات بھی محض اتفاقات کا مجموعہ نہیں۔ ان کا اصل مقصد سعودی عرب کو مختلف سمتوں سے گھیرنا اور بیک وقت اس پر دبائو کے کئی دروازے کھولنا معلوم ہوتا ہے۔ اب یہ بات زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہےکہ یہ دبائوایک مربوط امریکی اوراسرائیلی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مملکت کو ابراہیمی معاہدوں کی طرف اس انداز سےدھکیلنا ہےکہ اس کی موجودہ آزادانہ خارجہ پالیسی برقرار رکھنا روز بروز زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتاجائے۔
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثیوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے درخواست کی ہےکہ واشنگٹن ان کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کرے۔ اسی کے ساتھ انہوں نےیہ یقین دہانی بھی کرائی کہ باب المندب سے امریکی،اسرائیلی، فرانسیسی اور دیگر غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت جاری رہے گی تاہم ایک نمایاں استثنا موجود ہوگا، سعودی عرب سے وابستہ بحری جہاز۔ یہ امتیازی پابندی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کا وار براہِ راست سعودی عرب کے تجارتی اور تزویراتی مفادات پر پڑتا ہے جبکہ ان طاقتوں کے مفادات محفوظ رہتے ہیں جو خود ریاض کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ کرنےکی کوشش کررہی ہیں۔دوسری جانب صدرٹرمپ نےبھی تصدیق کی ہےکہ انکی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں ریاض نےحوثیوں کےخلاف امریکی فوجی مداخلت کی درخواست کی تھی۔ تاہم واشنگٹن نے اپنی فوج میدان میں اتارنے سے گریز کیا اور اس کے بجائے صرف انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ براہِ راست کارروائی سے انکار اور ساتھ ہی خاطر خواہ فوجی مدد فراہم نہ کرنے کی پالیسی سعودی عرب کو بڑھتے ہوئےخطرات کا بڑی حد تک تنہاسامنا کرنےپرمجبور کرتی ہے۔اگر پورے منظرنامے کو قدرے قریب سےدیکھاجائے تو تصویر کے بکھرے ہوئے ٹکڑے ایک دوسرے سے جڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمزمسلسل دبائو کا شکار ہے، باب المندب بھی محدود اورغیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے جبکہ سعودی عرب کی مشرق و مغرب کو ملانے والی تیل کی پائپ لائن پہلےہی دشمنانہ کارروائی کانشانہ بن چکی ہے۔ حوثیوں کےمیزائل اورڈرون مسلسل ان زمینی اور بحری راستوں پر خطرےکی شدت بڑھا رہے ہیں جو سعودی معیشت کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ امریکہ اب بھی براہِ راست فوجی کارروائی اورحتی کہ خاطر خواہ فوجی امداد فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔ کیا اتنے سارے واقعات کا ایک ہی وقت میں رونما ہونا محض اتفاق قرار دیاجا سکتا ہے؟ بظاہر ایسا سمجھنا مشکل ہے۔
قرینِ قیاس یہ معلوم ہوتا ہےکہ مقصد سعودی عرب کےموجودہ سیاسی موقف کی قیمت بتدریج بڑھاناہے، یہاںتک کہ اسے برقرار رکھنا روز بروز مشکل تر ہو جائے۔ پھر کسی مناسب موقع پر واشنگٹن یہ تاثر دے سکتا ہے کہ اس کے پاس اس دبائو کو کم کرنے کے ذرائع موجود ہیں لیکن اس کےلیے پہلے ابراہیمی معاہدوں کی گتھی سلجھانا ہوگی۔ یوں مملکت کے سامنے بظاہرایک دوٹوک انتخاب رکھ دیاجائےگا۔اس معاملے کےحوالے سےدیگرقیاس آرائیاں بھی گردش کررہی ہیں جن میں بعض بظاہر مفاداتی عناصر سے متاثر دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم پردے کے پیچھےکون سا کھیل کھیلا جارہا ہےاس کا فیصلہ بہرحال وقت ہی کرے گا۔اس کے باوجود اسرائیل اورامریکہ کی یہ حکمتِ عملی ایک اہم رکاوٹ سے دوچار ہےاور وہ ہے مکہ معاہدہ، جبکہ دوسری جانب علاقائی اور عالمی سطح پرترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی اس منظرنامےکو مزید پیچیدہ بنارہاہے۔ مکہ معاہدے کامقصد اجتماعی سلامتی اور مذہبی یکجہتی کے معاملات میں مسلم ریاستوں کے درمیان زیادہ سےزیادہ اتحاداور تعاون کو فروغ دینا تھا۔ مختلف حلقوں میں اسکی مزاحمت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ابراہیمی معاہدوں کے مقابلے میں تعاون اور یکجہتی کا ایک متبادل فریم ورک پیش کرتا ہے۔
ترکی کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور عسکری کردارکے نتیجے میں ریاض کے لیے ایسے متبادل ذرائع اور ممکنہ شراکت دار موجود رہتےہیں جو مغربی دبائو کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ یوں جو کچھ آج خطےمیں رونماہورہاہے،اسے اسرائیل کی جانب سے اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو وسیع کرنےکی ایک کوشش کے طور پربھی دیکھاجاسکتا ہےجس کے لیے نئے راستے اور بالواسطہ دبائو کےذرائع اختیارکیےجارہے ہیں۔ حوثیوں اور عراق کے بعض ڈرون گروہوں جیسے غیر ریاستی عناصر اس مقصد کے لیے ایسے واسطوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں جن کے ذریعے براہِ راست ذمہ داری سے گریز بھی ممکن رہتا ہےاور سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ ہونے کا احساس بھی مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔رپورٹس کے مطابق مقدس مساجد کے قرب و جوار میں حالیہ ڈرون حملے خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کو لاحق کوئی بھی خطرہ، خواہ وہ کتنا ہی دور یا محدود کیوں نہ ہو، سعودی عرب کی مسلم دنیا میں مذہبی اور سیاسی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایسے واقعات کا وقت بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ مقدس سرزمین کے سائے میں ہونے والی معمولی سی لغزش بھی اپنے اندر غیرمعمولی معنویت رکھتی ہے۔دوسری طرف ہرتیل پیداکرنےوالی ریاست کو عالمی منڈیوں کے اتارچڑھائو، علاقائی عدمِ تحفظ اور بیرونی دبائوجیسے سنگین چیلنجزکاسامنا ہے۔
پاکستان کےلئے یہ صورتحال مزید حساس ہےکیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات محض سفارتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور باہمی اعتماد کے گہرے رشتوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے داخلی معاشی دبائو سے لے کر مغربی طاقتوں اور برادر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے تک کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اپنی سلامتی اور اصولی موقف پر سمجھوتا کیے بغیر ان بڑھتے ہوئے چیلنجز کا کس طرح مقابلہ کرے گا، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب وقت کے ساتھ مزید اہم ہوتا جائے گا۔مختصراً سعودی عرب پر مختلف سمتوں سے بڑھتا ہوا دبائواہم بحری گزرگاہوں کی بندش سے لےکر اسکے بنیادی ڈھانچے کو مخصوص انداز میں نشانہ بنانے اور اس کے روایتی اتحادیوں کی محتاط پسپائی تک بظاہر اسکی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانے کےلیے ترتیب دیا گیا محسوس ہوتا ہے۔ آیا مکہ معاہدہ اور خطے میں ترکی کا ابھرتا ہوا کردار اس حکمتِ عملی کے مقابلے میں کوئی موثر متبادل قوت ثابت ہوں گے یا نہیں، یہ آنے والاوقت بتائےگا۔ تاہم اب اس کھیل کے خدوخال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ پردہ ابھی مکمل طور پر نہیں اٹھامگر اس کے پیچھے حرکت کرتی ہوئی قوتوں کے سائے اب چھپے نہیں رہے۔