قرآنِ مجید کی تدوین اور حفاظت
قرآنِ مجید دنیا کی واحد آسمانی کتاب ہے جسے بیک وقت دلوں میں محفوظ کیا گیا، لکھا گیا، پڑھا گیا، سکھایا گیا اور نسل در نسل متواتر منتقل کیا گیا۔ اس کی حفاظت کسی ایک ذریعے سے نہیں بلکہ متعدد مضبوط ذرائع سے ہوئی، اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس ابدی وعدے کی عملی تعبیر ہے:
بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن)کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔(سورہ الحجر: 9)
قرآنِ مجید پورے تیئیس برس میں حالات اور واقعات کے مطابق مرحلہ وار نازل ہوا۔ جب بھی حضرت جبرئیل علیہ السلام کوئی آیت یا سورت لے کر آتے، رسول اللہ ﷺ فوراً اسے صحابہ کرامؓ کو سناتے، یاد کرواتے اور وحی لکھنے والے کاتبوں کو بلا کر اسے لکھوا دیتے۔ آپ ﷺ خود یہ بھی بتاتے کہ یہ آیت کس سورت میں اور کس مقام پر رکھی جائے۔ اس طرح قرآنِ مجید کی ترتیب بھی وحیِ الٰہی کے مطابق مکمل ہوتی گئی۔رسول اللہ ﷺ نے صرف تحریر پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ قرآن کو اُمت کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔ جونہی وحی نازل ہوتی، آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کی مجلس میں اس کی تلاوت فرماتے۔ صحابہ کرامؓ اسے فورا ًحفظ کر لیتے، کاتبانِ وحی اسے لکھ لیتے، نمازوں میں اس کی تلاوت کی جاتی اور تعلیم کے حلقوں میں اسے بار بار پڑھایا اور دہرایا جاتا۔ اس طرح نزولِ وحی کے ساتھ ہی قرآنِ کریم ایک ہی وقت میں حفظ بھی ہوتا رہا، تحریر بھی کیا جاتا رہا اور عملی زندگی کا حصہ بھی بنتا رہا۔
اس طرح ایک ہی وقت میں ہزاروں صحابہ کرامؓ قرآنِ مجید کے زندہ حافظ بھی تھے اور اس کی لکھی ہوئی آیات بھی موجود تھیں۔ تاریخِ انسانی میں شاید ہی کسی کتاب کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہو کہ اس کے نزول کے ساتھ ہی اسے اتنی بڑی تعداد میں لوگ حفظ بھی کر رہے ہوں اور لکھ بھی رہے ہوں۔ہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پورے قرآنِ مجید کا دور فرماتے تھے، اور وصالِ مبارک سے پہلے آخری رمضان میں یہ دور دو مرتبہ ہوا۔ اس طرح قرآنِ کریم کا متن آخری مرتبہ مکمل طور پر ثابت، مرتب اور محفوظ ہو گیا، جبکہ ہزاروں صحابہ کرامؓ کے سینوں میں بھی پورا قرآن محفوظ تھا۔رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جنگ یمامہ میں متعدد حفاظِ کرام شہید ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب ؓنے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مشورہ دیا کہ قرآنِ مجید کو ایک مصحف میں جمع کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں یہ عظیم کام انجام دیا گیا۔ ہر آیت کو انتہائی احتیاط کے ساتھ تحریری شواہد اور حفاظِ کرام کی گواہی کی بنیاد پر جمع کیا گیا تاکہ کسی قسم کی کمی یا زیادتی کا کوئی احتمال باقی نہ رہے۔بعد ازاں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی ریاست وسیع ہوئی اور مختلف علاقوں کے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے تو آپ نے اسی مستند مصحف کی متعدد نقول تیار کروا کر اسلامی مراکز میں بھیج دیں تاکہ پوری امت ایک ہی مستند مصحف پر متفق رہے۔ یہ کوئی نیا قرآن نہیں تھا بلکہ وہی قرآن تھا جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں جمع کیا گیا اور تمام صحابہ کرامؓ کے اجماع سے محفوظ تھا۔
حجاج بن یوسف کے زمانے سے بہت پہلے مصحفِ عثمانی پورے عالمِ اسلام میں پھیل چکا تھا اور ہزاروں صحابہ کرامؓ اور تابعین پورا قرآن حفظ کر چکے تھے۔ بعد کے زمانے میں عربی رسم الخط پر اعراب، نقطے اور بعض علاماتِ ضبط کے کام کو مزید فروغ دیا گیا تاکہ نئے مسلمان، خصوصاً غیر عرب، قرآنِ کریم کو صحیح طریقے سے پڑھ سکیں۔ یہ تمام اقدامات صرف قرات کو آسان بنانے کے لئے تھے، قرآنِ مجید کے متن میں کسی قسم کی تبدیلی کے لئے نہیں۔قرآنِ مجید کی حفاظت ایک منفرد اور بے مثال نظام کے ذریعے ہوئی۔
وحیِ الٰہی،رسول اللہ ﷺ کی براہِ راست تعلیم۔نزولِ وحی کے ساتھ ہی کتابت۔ہزاروں صحابہ کرامؓ کا حفظِ قرآن۔پانچ وقت کی نمازوں میں روزانہ تلاوت۔رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ سالانہ دورِ قرآن۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں جمعِ قرآن۔حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں مستند مصاحف کی تیاری اور اشاعت۔اُمت کا مسلسل تواتر، حفظ، تعلیم اور قرات۔یہ تمام تاریخی، عملی اور متواتر دلائل اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ قرآنِ مجید آج بھی وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا۔ نہ اس میں کوئی حرف بڑھایا گیا، نہ کوئی حرف کم کیا گیا، اور نہ ہی قیامت تک اس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن ہے، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔
قرآنِ مجید صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا زندہ معجزہ ہے، جو ہر دور میں انسانیت کے لئے نور، ہدایت، رحمت اور ابدی رہنمائی کا سرچشمہ رہے گا۔اسی لئے آج دنیا کے کسی بھی حصے میں پڑھا جانے والا قرآنِ مجید، خواہ وہ مکہ میں ہو، استنبول میں، لندن میں، قاہرہ میں یا جکارتہ میں، لفظ بہ لفظ وہی قرآن ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا۔ یہ تاریخِ انسانیت میں حفاظتِ الٰہی کی سب سے عظیم اور بے مثال مثال ہے۔