اسکائی لیب سیاست اور جمہوریت کا یرغمال مستقبل
تاریخ کبھی صرف واقعات کا اندراج نہیں کرتی، بلکہ وہ قوموں کی اجتماعی نفسیات، اداروں کے احول اور اقتدار کے سرچشموں کا بھی حساب رکھتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ کے صفحات پر ایسے کردار نمودار ہوتے ہیں جو عوامی جدوجہد، سیاسی تربیت اور انتخابی عمل کے طویل سفر سے نہیں گزرتے بلکہ کسی غیر متوقع لمحے میں اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھا دیئے جاتے ہیں۔ ان کی آمد کسی تدریجی سیاسی ارتقاء کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وہ یوں محسوس ہوتی ہے جیسے خلا سے کوئی شے زمین پر آن گری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی لغت میں ’’اسکائی لیب‘‘محض ایک سائنسی استعارہ نہیں رہا بلکہ غیر متوقع طور پر اقتدار کے ساتویں در سے آنے والی شخصیات کی علامت بن چکا ہے۔انیس سو اناسی میں امریکی خلائی تجربہ گاہ اسکائی لیب کے زمین پر گرنے کا خوف پوری دنیا پر طاری تھا۔ لوگ اندازے لگا رہے تھے کہ معلوم نہیں وہ کس خطے پر گرے گی۔ بالآخر وہ سمندر میں جا گری، مگر پاکستان کی سیاست میں ’’اسکائی لیب‘‘آج بھی ایک زندہ استعارہ ہے۔ یہاں بعض اوقات اقتدار کے ایوانوں میں ایسے افراد اترتے ہیں جنہیں نہ عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے، نہ انہوں نے گلی، محلے اور انتخابی میدان کی دھول پھانکی ہوتی ہے، لیکن وہ چند ہی دنوں میں ریاستی فیصلوں کے مرکزی کردار کا روپ دھار لیتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں معین قریشی کی نگران وزارتِ عظمیٰ اس کی اولین مثال ہے۔ وہ عالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ ایک ماہرِ معیشت تھے اور اچانک ملک کے نگران وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان کر دیئے گئے۔ ان کے دور کے بارے میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اس تقرری نے ایک سوال ضرور جنم دیا کہ کسی ریاست کا نظام اس حد تک کمزور ہو سکتا ہے کہ قیادت کا سرچشمہ خلا،سے پھوٹ پڑے۔وقت گزرتا گیا مگر یہ روایت مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ کبھی ٹیکنوکریٹس، کبھی غیر منتخب مشیر، کبھی سینیٹ کے ذریعے اور کبھی انتظامی تقرریوں کے راستے ایسی شخصیات اقتدار کے ایوانوں پر مسلط کی جاتی رہیں ، جن کا عوامی سیاست سے دور کا تعلق نہیں تھا۔
بعض نے انتظامی کارکردگی محل نظر رہی، بعض شدید تنقید کا نشانہ بنے مگر بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت بیلٹ بکس ہے یا تقرری کا پروانہ؟یہاں اصل مسئلہ افراد نہیں بلکہ نظام ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، سیاسی جماعتیں جمہوری اقدار پر قائم ہوں اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار ہو تو کسی ایک شخصیت کی آمد یا رخصتی سے نظام متزلزل نہیں ہوتا۔ لیکن جب سیاست کمزور اور ادارے باہم کشمکش کا شکار ہوں تو ہر غیر معمولی تقرری ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بار بار شارٹ کٹ اختیار کرنے کی کوشش نے طویل ریاست کیاستحکام کو نقصان پہنچایا۔ کبھی منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں، کبھی نگران ادوار معمول سے زیادہ اہم ہو گئے، کبھی غیر منتخب حلقوں کا کردار باعث جمہوری عمل کی راہ کی دیوار بنا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے ذہن میں یہ سوال مسلسل موجود رہا کہ اقتدار کا اصل منبع کہاں ہے اور کون ہے؟آج بھی سیاسی منظرنامہ اسی کشمکش سے عبارت ہے۔ سینیٹ، بیوروکریسی، نگران انتظام، ٹیکنوکریٹس اور سیاسی قیادت سب اپنے اپنے کردار میں کوئی توازن نہیں رکھتے ، آج بھی واوڈا جیسے غیر جمہوری کردار ملک میں جمہوریت کو درہم برہم کرنے کے لئے عوام میں سراسیمگی پھیلاتے نظر آتے ہیں ۔محسن نقوی جیسے غیر عوامی لوگ نظام کی ساخت پر کاری وار کرنے میں آلہ کار بنے ہیں ۔ وہ عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اقتدار کے مقدر کے فیصلے کن قوتوں کے پاس ہیں ۔ کون جمہوریت کی روح کا چولا تار تار کرنے میں مصروف ہے ؟ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں تو کون ملکی تقدیر کے فیصلوں کے اختیار کا حامل ہے ، اور ہر صاحبِ اقتدار اپنی سیاسی اور آئینی جواب دہی سے مبرا کیوں ٹھہرتا ہے ؟سیاسی اختلافات تو،کسی بھی جمہوری معاشرے کا حسن ہوتے ،اس حسن کے بگاڑ کے پیچھے کون ہے ؟ جو جب چاہتا ہے اختلاف کو نفرت میں بدل دیتا ہے ۔ مخالف کے دشمن ہونے کی فضاء ہموار کرتا ہے ۔ ریاستی وسائل سیاسی کشمکش کا شاخسانہ بنا دیتا ہے معاشرے میں تقسیم گہری کردیتا ہے۔
پاکستان اس کیفیت سے کئی بار گزر چکا ہے۔ اس کا خمیازہ صرف سیاسی جماعتوں نے نہیں بلکہ پوری قوم نے بھگتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام مستقل طور پر غیر معمولی انتظامات کے سہارے نہیں چل سکتا۔ مضبوط ریاستیں مضبوط اداروں، آزاد انتخابات، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کے سہارے ایستادہ ہوتی ہیں۔ شخصیات اہم ضرور ہوتی ہیں مگر اداروں کا متبادل نہیں بن سکتیں۔سوال یہ نہیں کہ فلاں شخصیت کہاں سے آئی یا کس کے سہارے اقتدار تک پہنچی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کا احتساب بھی اسی معیار پر ممکن ہے جس معیار پر ایک منتخب نمائندے کا ہوتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو نظام مضبوط ہوگا، اور اگر جواب نفی میں ہے تو سیاسی بے یقینی ختم نہیں ہوگی بلکہ دو چند ہوگی۔آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معاشی مشکلات، سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوجوان طبقہ روزگار، انصاف اور شفاف حکمرانی چاہتا ہے۔ اسے اس سے کم دلچسپی ہے کہ کون کس راستے سے اقتدار میں آیا، اور زیادہ دلچسپی اس بات سے ہے کہ اس کی زندگی میں بہتری کب آئے گی۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اقتدار کی اصل قوت عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ جو نظام اس اعتماد کو مضبوط کرتا ہے وہ پائیدار رہتا ہے اور جو اسے کمزور کرتا ہے وہ خواہ وقتی طور پر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، بالآخر سوالوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔پاکستان کو اس وقت کسی نئے ’’اسکائی لیب‘‘کی نہیں بلکہ مضبوط سیاسی روایت کی ضرورت ہے۔ ایسی روایت جس میں اقتدار کا راستہ صرف عوام کے مینڈیٹ سے گزرے، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے اور قومی مفاد کو وقتی سیاسی فائدے پر ترجیح دی جائے۔ورنہ تاریخ ایک بار پھر وہی سوال دہرائے گی جو وہ کئی دہائیوں سے پوچھتی آئی ہے، کیا ہم نے جمہوریت کو واقعی عوام کی حکمرانی کا ذریعہ بنایاہے یا اقتدار کے نئے نئے راستے تلاش کرنے کی راہ پر ڈال دیا ہے قومیں اس سوال کا جواب صرف تقریروں سے نہیں بلکہ اپنے سیاسی عمل سے دیتی ہیں۔ پاکستان کے سامنے بھی یہی امتحان ہے، اور آنے والے برس طے کریں گے کہ ہم ایک بالغ جمہوری ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں یا پھر بار بار انہی غیر معمولی تجربات کے دائرے میں گردش کر رہے ہیں جو ہمیں ہماری منزل مقصود کی طرف لے جانے والے راستے کا پتھر ہیں۔