|

نئے حکمران نہیں نظام خلافتِ راشدہ ضروری

نظام کے انہدام کے اعتراف میں نئی بات کیا ہے؟ یہ حقیقت تو عوام دہائیوں سے اپنی زندگیوں میں بھگت رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو انصاف دینے میں ناکام، معیشت کو تباہ، وسائل کو چند ہاتھوں میں قید اور اُمت کو استعماری طاقتوں کے مفادات کے تابع رکھے، وہ اصلاح کے قابل نہیں، بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مسئلہ صرف حکمرانوں کی نااہلی نہیں، بلکہ خود وہ کرپٹ استعماری سرمایہ دارانہ جمہوری نظام ہے جس پر یہ ریاست کھڑی ہے۔ چہرے بدلنے، کابینہ بدلنے، نئے صوبے یا انتخابات سے اس بحران کا حل نہیں نکلے گا۔حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب اقتدار عوام پر مسلط ہونے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے احکام نافذ کرنے اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہو۔اُمت کو صرف نئے حکمران نہیں، ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، یعنی خلافت!اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی تبدیلی صرف قانون کی تبدیلی سے نہیں بلکہ انسانوں کی سوچ، کردار اور اجتماعی شعور کی تبدیلی سے آتی ہے۔ اگر معاشرہ دیانت، عدل، امانت اور جواب دہی جیسی اقدار سے خالی ہو تو بہترین قوانین بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر پاتے۔ اسی لئے اسلام نے ریاست کی اصلاح کے ساتھ ساتھ فرد کی اصلاح پر بھی یکساں زور دیا ہے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ حکمران اور عوام دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں، اور عدل و انصاف کی ذمہ داری صرف عدالتوں یا حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خلافت راشدہ کی اصل قوت محلات، اسلحہ یا خزانوں میں نہیں تھی بلکہ انصاف، شفاف احتساب، عوامی امانت داری اور قانون کی بالادستی میں تھی۔ خلیفہ خود کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ خادم سمجھتا تھا، بیت المال کو ذاتی ملکیت نہیں بلکہ امت کی امانت تصور کیا جاتا تھا، اور طاقتور و کمزور دونوں قانون کے سامنے برابر ہوتے تھے۔ یہی وہ اوصاف تھے جنہوں نے مختصر عرصے میں ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس نے مختلف اقوام، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں کو عدل اور امن کا احساس دیا۔آج امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں سیاسی انتشار، معاشی عدم مساوات، سودی مالیاتی نظام، بدعنوانی، بیرونی انحصار، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اخلاقی انحطاط نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا مستقل حل صرف وقتی معاشی پیکیجز، قرضوں یا حکومتی اعلانات میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی نظام کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی جائے جن میں عدل، دیانت، شفافیت اور اجتماعی فلاح کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ اسلام انہی اصولوں کی تعلیم دیتا ہے اور حکمرانوں کو جواب دہ بناتا ہے کہ وہ رعایا کے جان و مال، عزت اور بنیادی حقوق کی حفاظت کریں۔اسی طرح امت کے اتحاد کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اختلافات کو نفرت اور تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے مشترکہ دینی و اخلاقی اقدار کو مضبوط کیا جائے۔ فرقہ واریت، لسانیت، قوم پرستی اور ذاتی مفادات نے امت کو کمزور کیا ہے، جبکہ اسلام اخوت، انصاف اور باہمی احترام کی دعوت دیتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز انصاف ملے، جہاں روزگار کے مساوی مواقع ہوں، جہاں تعلیم اور صحت بنیادی حق سمجھے جائیں اور جہاں حکمران قانون سے بالاتر نہ ہوں، وہی حقیقی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی یا سماجی تبدیلی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ عدل، قانون کی پاسداری، عوامی اعتماد اور اجتماعی خیر خواہی کو کس حد تک فروغ دیتی ہے۔ اگر ایک ایسا نظام قائم ہو جو حکمران کو جواب دہ، قانون کو سب پر یکساں نافذ، وسائل کو امانت اور عوام کی خدمت کو ریاست کا بنیادی مقصد قرار دے، تو یقینا ظلم، استحصال اور بدعنوانی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اسی لئے بہت سے اہلِ فکر کے نزدیک خلافتِ راشدہ کا نمونہ اس اعتبار سے قابلِ غور ہے کہ اس میں انصاف، احتساب، امانت اور عوامی خدمت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان اصولوں کو اپنانے اور معاشرے میں فروغ دینے کی کوشش ہی ایک زیادہ منصفانہ، باوقار اور مستحکم مستقبل کی جانب پیش رفت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کی پائیداری کا انحصار صرف اس کی معاشی طاقت پر نہیں بلکہ اس کے عدالتی نظام، انتظامی شفافیت اور اخلاقی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ قانون سب کے لئے یکساں ہے، حکمران بھی جواب دہ ہیں اور قومی وسائل دیانت داری سے عوامی فلاح پر خرچ کئے جا رہے ہیں، تو ریاست پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن جب بدعنوانی، اقرباء پروری، ناانصافی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی جائے تو معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس سے نکلنے کے لئے اصولی، منصفانہ اور جواب دہ طرزِ حکمرانی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اسلامی سیاسی فکر میں حکمرانی کو طاقت یا استحقاق نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اس تصور کے مطابق حکمران کا مقام خدمت کا ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے حصول کا۔ عوام کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ احتساب ایسا ہونا چاہیے کہ کسی شخص کو اس کے عہدے، دولت یا اثر و رسوخ کی بنا پر استثنا حاصل نہ ہو۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ کے روشن ادوار میں عدل و انصاف کو مضبوط کیا اور عوام کے اعتماد کو فروغ دیا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ اپنی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تعمیر پر خصوصی توجہ دے۔ نوجوان نسل کو ایسا شعور دیا جائے جو انہیں دیانت، خدمت، تحقیق، اتحاد اور ذمہ دار شہری ہونے کی طرف راغب کرے۔ جب معاشرہ علم، کردار اور انصاف کو اپنی ترقی کی بنیاد بنائے گا تو ایسی قیادت بھی سامنے آئے گی جو ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی فلاح کو مقدم رکھے گی۔ پائیدار تبدیلی صرف نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل اصلاح، اجتماعی ذمہ داری اور ان اصولوں پر عمل سے آتی ہے جو معاشرے میں انصاف، امن، باہمی اعتماد اور انسانی وقار کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی راستہ ایک مضبوط، باوقار اور مستحکم معاشرے کی تعمیر کی بنیاد بن سکتا ہے۔آج امت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ محض افراد کی تبدیلی اس وقت تک دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکتی جب تک حکمرانی کے اصول عدل، امانت، شفافیت اور احتساب پر استوار نہ ہوں۔ ایک ایسا نظام جس میں عوام کی جان، مال اور عزت کو مقدس امانت سمجھا جائے، جہاں قومی وسائل چند طبقات کے بجائے پوری قوم کی فلاح کے لیے استعمال ہوں، اور جہاں قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی امتیازی سلوک نہ ہو، وہی معاشرے میں اعتماد اور استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ خلافت راشدہ کے دور کو بہت سے مسلمان انہی اصولوں کی وجہ سے ایک اہم تاریخی نمونہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں حکمران خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ تصور کرتے تھے۔ اگر امت علم، کردار، دیانت، اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنائے اور ریاستی معاملات میں انصاف اور امانت کے اصولوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں امن، خوشحالی، سماجی انصاف اور انسانی وقار کو حقیقی معنوں میں فروغ حاصل ہو۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *