طاقت کی فصیلیں
|

طاقت کی فصیلیں اورتاریخ کامیزان

(گزشتہ سےپیوستہ)
شام کی خانہ جنگی میں امریکانے براہ راست پورے ملک پرقبضے کی کوشش نہیں کی،مگرداعش کیخلاف فضائی کارروائیاں،کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسزکی حمایت،محدود وجی موجودگی اور شامی حکومت کے خلاف بعض میزائل حملے اس تنازعے میں امریکی کردارکے نمایاں پہلورہے۔ داعش کی نام نہادخلافت کاجغرافیائی اقتداربڑی حد تک ختم ہوگیا ، مگر شام کاسیاسی بحران ختم نہیں ہوا۔ یہاں روس،ایران،ترکیہ، اسرائیل، خلیجی ممالک،کرد قوتیں،شامی حکومت اورمتعدد مسلح گروہ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجودرہے۔شام نے ایک مرتبہ پھرثابت کیاکہ محدودجنگ،لامحدود پیچیدگیوں کے باوجودایک جنگ میں ایک دشمن کو شکست دینااور پورے سیاسی مسئلے کوحل کرنا دوجداگانہ چیزیں ہیں۔
امریکی مداخلتوں کی تاریخ صرف باقاعدہ جنگوں تک محدود نہیں بلکہ لاطینی امریکا میں توپوں سے پہلے خفیہ ہاتھوں نے بھی پورازورلگایا ۔1954ء میں گوئٹے مالامیں صدریعقوب آربینزکی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی حمایت یافتہ کارروائی نے حکومت کاتختہ الٹ دیا۔1961ء میں کیوباکے ’’بے آف پگز‘‘حملے میں امریکاکی حمایت یافتہ جلاوطن کیوبن فورسز فیڈل کاستروکی حکومت گرانے میں ناکام رہیں۔
1965ء میں امریکی فوج ڈومینیکن ریپبلک میں اتری۔1980کی دہائی میں نکاراگوا میں کونٹراباغیوں کی امریکی حمایت نے وسطیٰ امریکاکو ایک طویل سیاسی اورعسکری بحران میں مبتلارکھا۔ان مثالوں کا ذکراس لئے اہم ہے کہ جدیدطاقت صرف ٹینک کے ذریعے اپنااثر نہیں بڑھاتی۔خفیہ ادارے،اقتصادی پابندیاں،حکومت مخالف قوتوں کی حمایت،سفارتی دباؤ، تجارتی محاصرہ اورمعلوماتی جنگ بھی ریاستی طاقت کے آلات ہیں۔یوں بعض جنگیں اعلان کے بغیرلڑی جاتی ہیں۔ان میں توپ کی آوازکم ہوتی ہے مگرتاریخ کے زخم کبھی کبھی اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں۔ آخر امریکابار بارسیاسی دلدل میں کیوں اترتاہے؟اس طویل تاریخ سے چندمستقل اصول نمایاں ہوتے ہیں۔
اول، واشنگٹن کئی مرتبہ عسکری برتری کوسیاسی اختیارسمجھنے کی غلطی کرتارہا۔میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینا کسی معاشرے کواپنی مرضی کے مطابق دوبارہ تشکیل دینے کی ضمانت نہیں۔
دوم، مقامی تاریخ کونظراندازکرناخطرناک ثابت ہوا۔ویتنام میں قوم پرستی،افغانستان میں قبائلی ومذہبی ڈھانچہ،عراق میں فرقہ وارانہ توازن اورلیبیا میں ریاستی کمزوری ایسی حقیقتیں تھیں جنہیں واشنگٹن کی منصوبہ بندی ہمیشہ مکمل طورپرسمجھ نہ سکی۔ سوم،مشن کریپ یعنی مقصدکامسلسل پھیلاؤ باربارسامنے آیا۔افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی ریاست سازی میں بدل گئی،عراق میں حکومت کی تبدیلی پورے سیاسی نظام کی تعمیرنوبن گئی۔چہارم،جدید جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ جوازسے بھی جیتی جاتی ہیں۔جس دن جنگ کے اخلاقی یاقانونی جوازپرسوال اٹھ جائے، اسی دن دشمن کوایک ایساہتھیارمل جاتاہے جوکسی میزائل سے زیادہ مؤثر بیانیہ ہوسکتاہے۔پنجم،بڑی طاقتیں وقت کوبرسوں میں ناپتی ہیں،مقامی مزاحمتی قوتیں نسلوں میں۔ ایک امریکی صدرچاریاآٹھ سال کے لئے آتا ہے، ایک افغان جنگجواپنی زمین کواپنے دادا اور پوتے کے درمیان جاری تاریخ سمجھ سکتاہے۔دونوں کی گھڑی ایک نہیں ہوتی۔ امریکاکے پاس گھڑی توہے لیکن وقت ہمیشہ مقابل فریق کا ساتھی رہا۔
گزشتہ کئی واقعات کے بعداس سخت مگر حقیقی دعویٰ کوبہت تقویت ملی ہے کہ امریکااپنے مفادات کی خاطربالآخراپنے دوستوں کوقربان کردیتا ہے۔اس دعوے کومطلق تاریخی قانون بنانافی الحال مشکل اس لئے ہے کہ امریکا کے کئی اتحاد کئی دہائیوں سے قائم ہیں،جن میں نیٹو،جاپان،جنوبی کوریااوردیگرریاستوں کے ساتھ تعلقات شامل ہیں لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ نیٹوکے ساتھ تعلقات ٹرمپ کے شکوہ وشکائت کے بعد لرزرہے ہیں،جاپان میں بھی اسے طاقت کے زور پر تعلقات قائم رکھنے پرآوازیں بلندہوناشروع ہوگئی ہیں اورجنوبی کوریافی الحال شمالی کوریاکی سخت گیرپالیسیوں سے نالاں ہونے کی بنا پرامریکی شجرسے پیوستہ ہے۔
دوست،اتحادی اورمفاد کی سردمنطق کوسمجھنے کے لئے بین الاقوامی سیاست کابنیادی اصول یہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ دوستی سے زیادہ مفادکی پابند ہوتی ہیں۔ آج کا اتحادی کل اختلاف کا شکار ہوسکتا ہے۔ایران کاشاہ کبھی واشنگٹن کاقریبی اتحادی تھا۔ دام حسین کے عراق کو1980ء کی دہائی میں ایران کے مقابل ایک مخصوص اسٹریٹجک زاویے سے دیکھاگیا،مگر 1990ء کے بعد وہ امریکاکاسب سے بڑاعلاقائی دشمن بن گیا۔ افغان مجاہدین کو سوویت یونین کیخلاف حمایت ملی، بعدمیں اسی خطے میں امریکانے بیس سال کی جنگ لڑی۔ یہ واقعات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں دائمی محبت یادائمی نفرت نہیں، دائمی مفادات کا تصورزیادہ طاقت وررہاہے۔لیکن یہی حقیقت بڑی طاقتوں کے لئے ایک اخلاقی امتحان بھی ہے۔ جو ریاست ہرتعلق کوصرف فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولے، وہ ممکن ہے وقتی اتحادی توپیدا کرلے،لیکن پائیداراعتمادکم ہی پیداکرتی ہے۔
اکیسویں صدی میں امریکاکے لئے سب سے بڑا طویل المدت اسٹریٹجک سوال چین کاعروج ہے۔یہ کشمکش صرف بحری جہازوں اورمیزائلوں تک محدود نہیں۔ سیمی کنڈکٹر،مصنوعی ذہانت ، بندرگاہیں،تجارتی راستے،توانائی، معدنیات، کرنسی، عالمی مالیاتی نظام اور انفراسٹرکچراس نئے مقابلے کے محاذ ہیں۔اسی تناظرمیں ایران،خلیج،بحیرہ عرب، بحرِہنداورپاکستان جیسیممالک کی جغرافیائی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔موجودہ عالمی سیاست کے تناظرمیں ایران اور وینزویلا کے تیل کو چین کی توانائی کی ضروریات سے جوڑااورسی پیک کو اسی بڑی طاقتوں کی مسابقت کاحصہ سمجھاجارہاہے۔یہ دعویٰ اب ڈھکاچھپانہیں رہالیکن یہ بنیادی حقیقت ناقابلِ انکارہے کہ چین کی بیلٹ اینڈرودآنیشیٹو ،بحری راستے، خلیجی تیل اوربحرِہند تک رسائی آنے والے عشروں کی عالمی سیاست کے اہم موضوعات ہیں۔یہاں امریکاکے سامنے وہی پراناسوال نئے لباس میں کھڑاہے، کیا ہر جغرافیائی چیلنج کاجواب فوجی دباؤہوگا؟یا آنے والی طاقت وہ ہوگی جوبازار، بندرگاہ ،علم، ٹیکنالوجی،سفارت اوراعتماد کے ذریعے اپنااثر قائم کرے گی؟
سلطنتیں اکثراپنے عروج میں یہ گمان کربیٹھتی ہیں کہ ان کی طاقت ہی ان کی دلیل ہے۔لیکن تاریخ کا میزان مختلف ہے۔روم کے لشکرتھے،روم باقی نہ رہا۔ منگولوں کی یلغارتھی؛ان کی سلطنت تقسیم ہوئی۔ برطانیہ کے بحری جہازسات سمندروں پر حکمرانی کرتے تھے، بالآخر نوآبادیاتی نظام سمٹ گیا۔ سوویت یونین ایٹمی اسلحے اورلاکھوں فوجیوں کامالک تھا؛لیکن کابل کی خاک اور داخلی اقتصادی وسیاسی بحران نے اس کے اقتدارکی بنیادیں ہلا دیں۔امریکا بھی تاریخ کے اسی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
اس کی یونیورسٹیاں،سائنس،ٹیکنالوجی،معاشی قوت،آئینی ادارے اورتخلیقی معاشرہ اس کی اصل طاقت کے بڑے سرچشمے ہیں لیکن اگراس کی عالمی شناخت مسلسل جنگ، پابندی ،حکومتوں کی تبدیلی اور عسکری مداخلت کے ساتھ جڑتی گئی تونرم قوت کی وہ دولت گھٹ سکتی ہے جسے کوئی طیارہ بردارجہاز واپس نہیں لاسکتا۔ طاقت کاسب سے بڑاکمال دشمن کوفنا کرنا نہیں؛دشمنی کے اسباب کوکم کرناہے۔ دانش مندریاست وہ نہیں جو ہر میدان میں جنگ جیت لے،بلکہ وہ ہے جوایسی جنگ سے بچ جائے جس کے اختتام کانقشہ اس کے پاس موجودنہ ہو۔
ویتنام کی دلدل،بیروت کے ملبے،موغادیشو کی گلیوں،بغداد کی آگ اورکابل کے ہوائی اڈے سے اٹھتی ہوئی گردگویاایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ہرباب کے عنوان مختلف ہیں،لیکن حاشیے پرایک ہی جملہ لکھادکھائی دیتاہے:عسکری قوت سیاسی حکمت کا نعم البدل نہیں۔اوریہی شایدامریکی جنگی تاریخ کاسب سے بڑاسبق اورآخری فیصلہ ہے۔ جب کسی طاقت کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ چونکہ جنگ شروع کرسکتی ہے،اس لئے اس کاانجام بھی اپنے ارادے کے مطابق لکھ سکتی ہے،اسی لمحے تاریخ خاموشی سے اپناقلم اٹھاتی ہے ۔ تاریخ کاقلم بادشاہوں سے اجازت نہیں لیتا۔وہ فاتح کی تقریرنہیں سنتا؛وہ نتائج دیکھتا ہے۔وہ پوچھتاہے کہ کتنے شہر فتح ہوئے نہیں،بلکہ کتنے معاشرے سنبھلے؛کتنے دشمن مارے گئے نہیں،بلکہ کتنی دشمنیاں ختم ہوئیں؛کتنے پرچم قلعوں پرلہرائے نہیں،بلکہ کتنے انسان امن کے ساتھ اپنے گھروں کولوٹے۔عدل سے محروم طاقت اپنی ہی ہیبت کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے،اوربصیرت سے خالی فتح کبھی کبھی شکست کاپیش لفظ ثابت ہوتی ہے۔قوموں کے عروج وزوال کی داستان میں یہی وہ میزان ہے جس سے کوئی سپرپاور،کوئی شہنشاہی اورکوئی عسکری اتحاد فرارنہیں پاسکا۔
آخرکارتوپیں خاموش ہوجاتی ہیں۔جہازبندر گاہوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔جرنیل ریٹائرہوجاتے ہیں۔ صدربدل جاتے ہیں۔مگر زمین اپنے مقتولوں کویاد رکھتی ہے،مائیں اپنے بیٹوں کو،قومیں اپنی توہین کواورتاریخ اپنی گواہی کو۔اورتاریخ کی گواہی یہ ہے کہ طاقت کی سب سے بلند منزل غلبہ نہیں،عدل ہے، اورسیاست کی سب سے بڑی فتح وہ ہے جس کے بعدنئی جنگ کی ضرورت باقی نہ رہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *