|

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا غیر جمہوری ، انتخابات مخالف طرزِ عمل

آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی بارہ نشستوں کے خاتمے کے مطالبے اور اس کے لیے جاری احتجاج نے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کی سیاسی نمائندگی کو برقرار رکھنا محض ایک انتخابی معاملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔یہ بات قابل تشویش ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کے نام پر قائم ایک تحریک خود ان کشمیری مہاجرین کی سیاسی نمائندگی ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ اگر یہ نشستیں ختم کر دی جائیں تو مہاجرین کی اجتماعی سیاسی آواز کہاں جائے گی؟ ان نشستوں کا خاتمہ ایک معمولی انتخابی ترمیم نہیں بلکہ مہاجرین کے سیاسی حقِ نمائندگی سے متعلق ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔اس معاملے کا دوسرا اور زیادہ اہم پہلو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا طریقۂ کار ہے۔ احتجاج ہر شہری اور ہر سیاسی گروہ کا حق ہے۔ اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا، حکومت پر دباؤ ڈالنا اور پُرامن احتجاج کرنا جمہوری معاشرے کا حصہ ہے لیکن جب احتجاج توڑ پھوڑ، تصادم اور تشدد کی صورت اختیار کر لے تو سوال صرف مطالبات کا نہیں رہتا بلکہ طریقۂ احتجاج بھی زیر بحث آتا ہے۔
ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی طریقے سے دیا جاتا ہے۔ حکومت کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اس کے خلاف احتجاج کیا جا سکتا ہے، سیاسی مہم چلائی جا سکتی ہے، عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور منتخب ایوانوں میں بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن سڑکوں پر تصادم اور توڑ پھوڑ کو سیاسی مطالبات کی تکمیل کا ذریعہ بنانا جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس معاملے میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ احتجاج کا اثر آزاد کشمیر کے انتخابی عمل پر پڑ رہا ہے۔ انتخابات کسی بھی جمہوری نظام میں عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا بنیادی حق فراہم کرتے ہیں۔ اگر کسی سیاسی تحریک یا احتجاج کے نتیجے میں انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا ہو یا ان کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا کی جائے تو یہ صرف ایک حکومت یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ عوام کے حقِ انتخاب کا سوال بن جاتا ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طرزِ عمل پر اسی تناظر میں سوال اٹھانا ضروری ہے۔ اگر کسی گروہ کو مہاجرین کی 12نشستوں پر اعتراض ہے تو وہ اپنا مؤقف سیاسی اور آئینی طریقے سے سامنے رکھ سکتا ہے۔ لیکن انتخابات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا یا احتجاج کو اس حد تک لے جانا کہ انتخابی عمل متاثر ہونے لگے، کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔یہاں ایک بنیادی تضاد بھی نظر آتا ہے، یعنی ایک طرف کشمیریوں کے حقوق کی بات اور دوسری طرف کشمیری مہاجرین کی سیاسی نمائندگی ختم کرنے کا مطالبہ ۔ سوال یہ ہے کہ اگر کشمیریوں کے سیاسی حقوق اہم ہیں تو پھر ان مہاجرین کا سیاسی حق کیوں اہم نہیں؟ کیا مہاجرین کی نمائندگی کشمیری حقوق کا حصہ نہیں؟مقبوضہ کشمیر کی سیاسی اور مذہبی قیادت کی جانب سے بھی مہاجرین کی نمائندگی کے حق میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ یہ نشستیں ان کا حق ہیں۔ یہ مؤقف اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان نشستوں کا تعلق براہ راست ان لوگوں سے ہے جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے ہیں۔ ان کی سیاسی نمائندگی کو ختم کرنے کے مطالبے پر وسیع تر کشمیری تناظر میں بھی غور کیا جانا چاہیے۔آزاد کشمیر میں سیاسی اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں حکومتوں کے خلاف احتجاج بھی ہوئے اور سیاسی تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں لیکن ہر سیاسی تحریک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے ساتھ ساتھ اپنے طریقۂ کار کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔
حکومت کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں واضح ہے۔ اسے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات کرنی چاہیے اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم، مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی گروہ کو تشدد یا انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ حکومت کو عوام کے احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہوئے قانون کی عمل داری بھی یقینی بنانا ہوگی۔اسی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اس کی تحریک کا سب سے بڑا نقصان کس کو پہنچ رہاہے؟ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق کسی بھی شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے اور کسی بھی احتجاج کو اس حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔مہاجرین کی 12 نشستیںختم کرنے کا مطالبہ حساس سیاسی اور تاریخی معاملہ ہے، جس پر فیصلہ جذبات یا دباؤ کے بجائے مہاجرین کے حقِ نمائندگی کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ کسی بھی صورت یہ آواز ختم نہیں ہونی چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور انتخابات کو ہر صورت جاری رکھنے کی روایت برقرار رکھی جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اپنے مطالبات عوام کے سامنے رکھنے کا حق ہے، لیکن توڑ پھوڑ، تصادم یا انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنا نہ جمہوری سیاست ہے،نہ قاابل قبول طریقہ کار ۔ کشمیری مہاجرین کی سیاسی نمائندگی ختم کرنے کا مطالبہ بھی ایک ایسا قدم ہے جس پر سنجیدگی سے سوال اٹھنا چاہیے۔ جو لوگ کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے کشمیری بھی اسی حقِ نمائندگی کے مستحق ہیں۔آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ سیاسی مطالبات کے لیے سیاسی راستہ اختیار کیا جائے، انتخابات کو اپنا جمہوری سفر جاری رکھنے دیا جائے اور مہاجرین کے حقِ نمائندگی کو کسی بھی سیاسی کشمکش کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ اختلاف اپنی جگہ، احتجاج اپنی جگہ لیکن جمہوری عمل اور عوام کے حقِ انتخاب کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *