امریکہ میں مسلمانوں کا روشن مستقبل
امریکی کانگریس میں چار مسلمانوں کی تاریخی نمائندگی، نیویارک کے پہلے مسلم میئر کے انتخاب اور مصری نژاد امریکی ڈاکٹر عبدالسید کے امریکی سینیٹ کےامیدوار کےطور پر ابھرنے نے امریکہ میں مسلم قیادت کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مصر اور مصری نژاد امریکی برادری کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔
امریکہ میں مسلمان ایک نئے اورامیدافزا دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ان کا کردار محض معاشرے میں ضم ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ قومی ترقی، عوامی خدمت اور قیادت میں بھی نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ آج مسلم کمیونٹی امریکی معاشرے کا ایک موثراورباوقارحصہ بن چکی ہےاوراس کےافرادطب،سائنس، انجینئرنگ، قانون، تعلیم، معیشت اورسرکاری خدمات سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی تاریخی پیش رفتیں سامنے آئی ہیں، جن میں امریکی کانگریس کے لئے چار مسلمانوں کا منتخب ہونا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ امریکی جمہوریت کی اس مضبوط روایت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہر اہل اور باصلاحیت شہری کو، خواہ اس کا مذہب یا نسلی پس منظر کچھ بھی ہو، اپنے ملک کی خدمت کا مساوی موقع حاصل ہے۔اس کے بعد نیویارک شہر کے پہلے مسلم میئر، زہران ممدانی کا تاریخی انتخاب مسلمانوں کی سیاسی شرکت کے سفر میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ امریکی ووٹر اہلیت، دیانت داری اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک اہم اور امید افزا پیش رفت مصری نژاد امریکی معالج، ڈاکٹر عبدالسید کا قومی سطح پر ابھرنا ہے۔ وہ عالمی شہرت یافتہ روڈز اسکالر ہیں اور امریکی سینیٹ کے لئے ڈیموکریٹک امیدوار ہیں۔ ان کی سیاسی کامیابی امریکہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی قومی حیثیت کی علامت ہے اور مصر کے لیے بھی باعثِ فخر ہے کہ اس کی سرزمین نے ایسی علمی اور قومی شخصیت کو جنم دیا جس نے اپنی صلاحیت، علم اور عوامی خدمت کے ذریعے امریکی سیاست میں ممتاز مقام حاصل کیا۔
امریکہ میں مسلمانوں کی تاریخ صرف موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ مورخین کے مطابق سولہویں صدی کے مراکشی مسلمان سیاح مصطفی الزموری (استیبانیکو)شمالی امریکہ پہنچنے والے اولین معروف مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں، جو اس سرزمین پر مسلمانوں کی قدیم موجودگی کی ایک اہم تاریخی شہادت ہے۔آج امریکہ میں مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان آباد ہیں۔ وہ ڈاکٹر، سائنس دان، انجینئر، پروفیسر، تاجر، جج، فوجی افسر، پولیس افسر اور سرکاری اداروں کے ذمہ دار عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی کامیابیاں اب امریکی قومی ترقی اور کامیابی کی کہانی کا حصہ بن چکی ہیں۔ہر نئی نسل کے ساتھ مسلمانوں کا مستقبل مزید روشن دکھائی دیتا ہے۔ تعلیم، تحقیق، اختراع اور مثبت سماجی کردار کے ذریعے امریکی مسلمان سیاست، معیشت، سائنس، ثقافت اور بین الاقوامی تعلقات میں مزید موثر کردار ادا کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں اور عوامی خدمت و قیادت کی اعلیٰ مثالیں قائم کر سکتے ہیں۔ تاہم حقیقی کامیابی صرف بلند عہدوں کے حصول کا نام نہیں بلکہ اخلاق، دیانت، انصاف اور انسانیت کی خدمت میں مضمر ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو سچائی، امانت، عدل، رحم دلی اور حسنِ سلوک کا عملی نمونہ بننے کی تعلیم دیتا ہے تاکہ وہ تمام انسانوں کے لیے خیر اور رحمت کا ذریعہ بن سکیں۔
آج جب دنیا تقسیم، کشیدگی اور باہمی بداعتمادی کا شکار ہے، امریکہ کے مسلمان مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان محبت، مکالمے اور باہمی احترام کے مضبوط پل بن سکتے ہیں، اور ایک زیادہ پرامن، منصفانہ اور متحد معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قرآنِ مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، تعاون کریں اور خیر میں آگے بڑھیں، نہ کہ نفرت اور اختلاف کو فروغ دیں۔ یہ تعلیمات امریکی اقدار، یعنی آزادی، قانون کی حکمرانی، انسانی وقار اور مساوی مواقع کے اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔جوں جوں مسلمانوں کی قومی زندگی میں شرکت بڑھ رہی ہے، ان کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اعتدال، حکمت اور بہترین اخلاق کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہیں، امریکہ کے وفادار شہری بنیں، اس کے آئین اور قوانین کا احترام کریں، اس کی قومی روایات کی قدر کریں، اور ملک کی سلامتی، خوشحالی اور اتحاد کے لئے مثبت کردار ادا کریں۔ سب سے بڑھ کر ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سب ایک ہی انسانی خاندان کے افراد ہیں۔ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی اولاد ہیں۔ رنگ، نسل، زبان، مذہب اور ثقافت کا اختلاف ہمیں تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی تعاون کے لیے ہے۔ انسانیت کا روشن مستقبل محبت، انصاف، احترام اور باہمی تعاون ہی سےتعمیر ہوسکتا ہے۔امریکی کانگریس میں مسلمانوں کی تاریخی نمائندگی، نیویارک کے پہلے مسلم میئر کا انتخاب، اور ڈاکٹر عبدالسید کا قومی قیادت کی صف میں ابھرنا اس حقیقت کی روشن نشانیاں ہیں کہ امریکہ میں مسلمانوں کا مستقبل امید افزا ہے۔ اگر یہ سفر علم، دیانت، تواضع، اعتدال اور تمام شہریوں کی خدمت کے اصولوں پر جاری رہا تو مسلمان نہ صرف امریکہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مثبت، متوازن اور باوقار نمونہ بھی پیش کریں گے۔