|

پاکستان میں سودی نظام، تین پہلوؤں سے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔
(۱) آسمانی مذاہب میں سود کی حرمت، سود تمام آسمانی شریعتوں میں حرام چلا آ رہا ہے اور بائبل میں بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔
چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب ۲۲ آیت ۲۵ میں ارشاد ہوتا ہے۔
’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو، جو تیرے پاس رہتا ہے، کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور اس سے سود نہ لینا‘‘۔
استثناء باب ۲۳ آیت ۱۹ میں ہے
’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا ہو یا اناج کا یا کسی اور ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے‘‘۔
جبکہ زبور باب ۱۵ آیت ۵ میں نیک آدمی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے
’’وہ اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا‘‘۔
قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی آیات ۲۷۵ تا ۲۷۹ میں سود کی ممانعت کرتے ہوئے سود اور تجارت کو باہم مثل قرار دینے والوں کے موقف کی نفی کی گئی ہے۔ تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے، سود سے باز نہ آنے والوں کے طرز عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اور سود اور تجارت میں فرق نہ کرنے والوں کو مخبوط الحواس بتایا گیا ہے۔
سورۃ النساء کی آیت ۶۱ میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایک سبب یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں سود سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سود لیتے تھے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر منٰی کے تاریخی خطبے میں سود کی کلی ممانعت اور تمام سابقہ سودی معاملات کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔ اور جناب رسول اللہؐ کی بیسیوں احادیث میں سود کی مذمت اور سود کا کاروبار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب اور شدید ناراضی کی وعید موجود ہے۔
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اہل طائف نے جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنے کے لیے چند شرائط پیش کیں تو ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ہم سود کا لین دین نہیں چھوڑ سکتے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ہمارا بیشتر کاروبار سود پر چلتا ہے۔ لیکن آنحضرتؐ نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں ہی مذکور ہے کہ نجران کے مسیحیوں نے جناب رسول اکرمؐ کے ساتھ اسلامی سلطنت میں بطور ذمی رہنے کا معاہدہ کیا تو معاہدہ کی باقاعدہ شرائط میں یہ بات درج تھی کہ ان میں سے کوئی بھی سود کا لین دین نہیں کرے گا۔
جناب نبی اکرمؐ نے متعدد احادیث میں امت میں سود کے عام ہونے کو قیامت کی نشانیوں اور امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں میں ذکر فرمایا ہے۔
مثلاً مشکوٰۃ باب الربا میں ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد کے حوالے سے حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر شخص سود کھانے لگے گا اور جو نہیں کھانا چاہے گا اس کے سانس کے ساتھ سود شامل ہوگا۔
مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک دور ایسا آئے گا کہ کچھ لوگوں کی شکلیں اس لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ ہو جائیں گی کہ وہ شراب پیتے ہوں گے، ریشم پہنتے ہوں گے، ناچ گانے کی محفلیں آباد کرتے ہوں گے اور سود کھاتے ہوں گے۔
حافظ ابن القیمؒ نے ’’اغائتہ اللم فان‘‘ میں جناب رسول اللہؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے‘‘۔
(۲) شخصی و تجارتی سود کا معاملہ، کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ نے اس سود کی ممانعت کی ہے جو شخصی قرض پر ضرورت مندوں سے لیا جاتا تھا لیکن تجارتی قرض یا لین دین میں سود کی ممانعت نہیں فرمائی۔ یہ بات درست نہیں ہے، مندرجہ ذیل شواہد اس کی تردید کرتے ہیں۔
سورۃ البقرۃ میں حرمت ربا کے احکام کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادہ دست ہونے تک اس کو مہلت دےدو‘‘۔ اس آیت میں اس صورت کے بیان کے لیے لفظ ان استعمال ہوا ہے جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ صورت نادر الوقوع ہے۔ کیونکہ عام الوقوع صورت کے ذکر کے لیے عربی زبان میں لفظ اذ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۲ میں اللہ تعالیٰ نے روز مرہ لین دین کے احکام بیان کرنے کے لیے اذا تداینتم بدین کے، جبکہ اگلی آیت میں اسی ضمن کی ایک نادر صورت یعنی سفر میں لین دین کی صورت میں رہنے کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم علٰی سفر کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح سورۃ المائدۃ کی آیت ۶ میں عام حالات میں نماز سے پہلے وضو کا حکم بیان کرنے کے لیے اذا قمتم الی الصلاۃ کے الفاظ آئے ہیں جبکہ غیر معمولی صورت احوال میں تیمم کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم مرضٰی او علٰی سفر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
چنانچہ یہ تصور غلط ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں صرف تنگ دست اور مفلوک الحال لوگ ہی اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ صورت تو قرآن کے الفاظ کی رو سے نادر اور قلیل الوقوع تھی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر ذاتی اور صرفی ضروریات کے بجائے تجارتی مقاصد کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے اور قرآن نے کسی تفریق کے بغیر دونوں کو حرام قرار دیا ہے۔
سورۃ الروم کی آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے سود پر قرض دینے کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اور تم سود پر جو قرض اس غرض سے دیتے ہو کہ وہ لوگوں کے مال میں بڑھے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا‘‘۔ یہ محرک ظاہر ہے کہ ضرورت مندوں کو دیے جانے والے صرفی قرضوں کی بجائے حقیقتاً تجارتی سود میں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ صرفی قرضوں میں تو قرض کے مع سود واپس آنے کے بجائے خود اصل رقم ہی کے ڈوب جانے کا امکان غالب ہوتا ہے۔
سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے سب افراد کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس سود سے مراد تجارتی کے بجائے صرف صرفی قرضوں کا سود ہے تو اس میں سود لینے والا کس وجہ سے لعنت کا مستحق ہے؟ کیونکہ وہ بے چارہ تو جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اضطرار کی حالت میں سود پر قرض لے رہا ہے۔
احادیث میں ربا الفضل یعنی ہم جنس اشیاء کے مبادلہ میں کمی بیشی کی ممانعت کے احکام ربا النسیأۃ ہی کی فرع ہیں اور سود سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں دو روایتیں درج ذیل ہیں۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *