|

کیا واقعی سسٹم ناکام ہے؟

جہاں سے سسٹم کے ناکام ہونے کی آواز آئی ہے وہاں سے آنے والی صدائیں بے سبب اور بے وجہ نہیں ہوتیں۔ اگر آپ یہ سمجھے ہیں کہ یہ بات کر کہ وزیر داخلہ نے کوئی زمینی حقیقت بیان کی ہے یا یہ کہ پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں انہوں نے اپنے کرب کا اظہار کیا ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ یہ مطالبہ تو پہلے بھی سامنے آتا رہا اب فرق یہ ہے کہ کہنے والا کا کسی کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح یہ آواز صدا بہ صحرا قرار پاتی اگر اس کو بلند کرنے والے کا تعلق عیاں نہ ہوتا۔ محسن نقوی وطن عزیز کے چوٹی کے تاجروں کے سامنے یہ بات رکھی اور آج کی خبر کے مطابق پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ نے باضابطہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کیا پاکستان کے مسائل کا حل واقعی اس انتظامی بندوبست میں پوشیدہ ہے اس کے بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں پہلے پس پردہ ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کچھ بات کر لیں۔ وفاقی وزراء کا شدید رد عمل بتا رہا ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ وزیر داخلہ سے قبل وزیر مواصلات علیم خان نے بھی وزیر ہونے کے باوجود حکومت پر تنقید کی، اس کا بھی ردعمل توقع سے بڑھ کر آیا۔ علیم خان کے بیان کو کشمیر الیکشن کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، ویسے ہے جیسے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کو سمجھا جاتا ہے کہ یہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین نورا کشتی ہے لیکن محسن نقوی کے بیان کو حکومت سمیت تمام حلقوں نے سنجیدہ لیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جو وضاحت دی گئی اس سے بھی یہ تاثر گہرا ہوا کہ محسن نقوی یونہی نہیں بولے۔ ہمیشہ کی طرح آج کا فوجی موقف بھی گڈ گوریننس کو سیکورٹی کی بنیاد قرار دے رہا ہے اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بننے والے نیشنل ایکشن پلان میں گوریننس کو بہتر بنانے پر نہ صرف زور دیا گیا ہے بلکہ اس کے لئے ایک روڈ میپ پر اتفاق بھی کیا گیا ہے جس پر بدقسمتی سے عمل نہیں کیا جا سکا۔ چنانچہ افواج پاکستان کی جانب سے سیکورٹی کی بگڑتی صورتحال کو بد انتظامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ فوج اور فوجی جوان تو اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں لیکن سویلین حکومت اپنے ذمے لیے جانے والے کاموں کو صحیح طور پر انجام نہیں دے پائی۔ ظاہری طور پر یہ شکوہ درست ہے لیکن یہ بد انتظامی دور کیوں نہیں ہو رہی اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دیانتداری سے دیکھنا پڑے گا کہ ملکی بد انتظامی کی قصور وار صرف سویلین قیادت ہے یا ریاست کے تمام ستون اور ادارے اس قصور میں برابر کے شریک ہیں۔ مومن خان مومن یاد آگئے۔
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
اس سے آگے میرے پر جلتے ہیں چنانچہ یہ بات یہیں چھوڑ کر دوبارہ محسن نقوی کے بیان کی طرف آتے ہیں تا کہ ان کی دی گئی تجویز کا جائزہ لیا جا سکے۔ محسن نقوی کی بات دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اول پارلیمانی نظام کی ناکامی، دوم بڑے صوبوں کی جگہ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام۔ ان دونوں مطالبات یا خواہشات کے مضمرات ہیں جن کا جائزہ لینے اور اس پر نیشنل ڈیبیٹ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا مطلب اس کی وفاقی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو گا۔ صوبے چھوٹے انتظامی یونٹس بنیں گے تو پاکستان وفاق نہیں رہے گا بلکہ ڈھانچے کے اعتبار سے یونیٹری سٹیٹ یعنی ’’یک اکائی ریاست‘‘کی مانند ہو جائے گا۔ اس ڈھانچے کی تبدیلی وفاق کے تحت مرکز میں صوبوں کی عوامی نمائندگی و ملازمتوں میں کوٹہ، این ایف سی ایوارڈ، قومی معاشی کونسل سمیت کئی دیگر معاملات میں تبدیلی کی موجب بنے گی۔ مزید برآں چھوٹے انتظامی یونٹس کو ویسی صوبائی حیثیت میں ٹریٹ نہیں کیا جا سکے گا جیسی اس وقت چار صوبوں کی ہے۔
کیا تمام چھوٹے یونٹس کی اسمبلیاں، صوبائی کابینہ، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز بنائے جائیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو اس سے صرف قومی خزانے پر بوجھ بڑھے گا اور وہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکیں گے جن کی توقع کی جا رہی ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں اس بابت آئین کیا کہتا ہے۔ آئین کے مطابق پاکستان ایک وفاق ہے۔ چلیں آپ اپنی خواہش کے مطابق آئین تبدیل کر لیں گے، ستائیسویں آئینی ترمیم کیطرح اٹھائسیویں آئینی ترمیم آ جائے گی لیکن اس تصور پاکستان کا کیا کریں گے جو بانی پاکستان نے پیش کیا تھا۔ قائد اعظمؒ نے پاکستان کے بارے میں واشگاف انداز میں کہا تھا کہ پاکستان ایک وفاق ہو گا اور اس کا انتظام و انصرام وفاقی طرز پر چلایا جائے گا۔ اگر پاکستان کی وفاقی حیثیت تبدیل کی جاتی ہے تو یہ بانی پاکستان کے تصور سے صریحا انحراف ہو گا۔ اب آتے ہیں اس اصل مسئلے کی جانب جس کی وجہ سے چھوٹے انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ ایک طرف بد انتظامی کا ہے جبکہ دوسرا بڑا مسئلہ جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہوا وہ صوبوں کے مقابلے میں کمزور وفاق کا ہے۔ جو سنجیدہ فکر احباب چھوٹے یونٹس کی وکالت کرتے ہیں ان کے پیش نظر بد انتظامی سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ بعض کی نظر صوبوں کے مقابلے میں وفاق کو مضبوط بنانے پر ہے۔ جہاں تک بد انتظامی کا تعلق ہے تو مسئلہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں نہیں ہے بلکہ اس سوچ کیساتھ ہے جس نے طاقت اور اختیار کو نچلی سطح تک منتقل نہیں ہونے دیا۔ مرکز نے صوبوں کو اپنی طاقت و اختیار منتقل کیا جس پر صوبائی قیادت سانپ بن کر بیٹھ گئی، اختیارات اور وسائل صوبائی سیٹ اپ سے ضلعی و تحصیل سطح پر منتقل کئے جاتے تو سب ٹھیک ہو جاتا لیکن نام نہاد جمہوری حکومتوں نے اپنا فرض ادا کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آئینی ذمہ داری کے باوجود لوکل گورنمنٹ الیکشنز نہ کروائے تا آنکہ عدالت عظمی کو مداخلت کرنا پڑی۔ اٹھارویں آئینی ترمیم 2010ء میں پاس ہوئی لیکن 2015 ء تک پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہ کروائے گئے۔ جنرل پرویز مشرف نے جس کمشنری نظام کو ختم کیا تھا اس کو جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے اقتدار سنبھالتے ہی دوبارہ بحال کر دیا تاکہ نیچے لوکل گورنمنٹ کی بجائے ان کا کنٹرول مضبوط رہے۔ اگر نیچے ضلعی حکومتوں کا قیام عمل میں آجاتا ہے اور صوبائی مالیاتی ایوارڈ کے تحت ہر ضلع کو آبادی کے لحاظ سے وسائل فراہم کر دئیے جاتے اور مرکز کیطرح صوبے اپنے زیادہ تر اختیارات اضلاع کی سطح پر منتقل کر دیتے تو آج یہاں راوی سب چین لکھتا لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور کیا تحریک انصاف سب اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنے میں غفلت کے مرتکب ہوئے۔ اس غفلت کو مجرمانہ غفلت کہا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا۔ آج بھی بد انتظامی کے مسئلے سے نمٹنے کا سب سے بہتر حل ضلعی حکومتوں کا موثر نظام قائم کرنا ہے۔ ایک ایسا انتظام جسے آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہو۔ ایک ایسا بندوبست جس پر کوئی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم اپنی خواہش مسلط کر سکے اور نہ ہی دھونس نہ جما سکے۔ کسی لمبے چوڑے کام میں پڑنے کی بجائے یہ آسان کام کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر معاملہ دو تین نئے صوبوں بنانے کی حد تک رہے تو پھر ریاستی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کے بغیر کام چل سکتا ہے لیکن زیادہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کے مضمرات ہیں جنکا بغور جائزہ لئے بغیر کوئی قدم اٹھانا فائدہ کی بجائے مزید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کے فوائد اور نقصانات پر اگلے کالم میں بات کروں گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *