5 اگست کشمیر پر شبخون
وادیٔ کشمیر کی برف پوش چوٹیاں صبح کے سورج کی پہلی کرنوں میں چمکتی ہیں، جیسے کوئی قدیم شاعر اپنے خوابوں کو الفاظ میں ڈھال رہا ہو۔جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کا یہ باب بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ سے جڑا تھا۔ یہ دفعہ ۱۹۴۹ میں ایک عارضی انتظام کے طور پر شامل کی گئی تھی، جس کے تحت ریاست کو کچھ داخلی خود مختاری حاصل تھی—اپنا آئین، اپنا پرچم، اور کچھ مخصوص قانون سازی کے اختیارات۔ دفعہ ۳۵اے کے ذریعے مقامی باشندوں کو زمین، نوکریوں اور مستقل رہائش کے حقوق مخصوص کیے گئے تھے۔ بھارتی حکومت کا موقف یہ رہا کہ یہ دفعہ عارضی تھی، اور وقت کے ساتھ ساتھ ریاست کو مرکزی دھارے میں ضم کرنا ضروری تھا۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ کو صدارتی حکم اور پارلیمانی قرارداد کے ذریعے اس خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا، اور ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز—جموں و کشمیر اور لداخ—میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارتی حکومت نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا، ترقی کے دروازے کھلیں گے، اور کشمیری عوام کو باقی ہندوستانیوں کے برابر حقوق ملیں گے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد وادی میں سخت سیکورٹی انتظامات نافذ ہوئے۔ اضافی فوجی نفری تعینات کی گئی، کرفیو لگایا گیا، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کی گئیں، اور سیاسی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ناقدین نے اسے جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان اور کچھ کشمیری گروہوں نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی بتایا، جن میں ۱۹۴۸ سے ۱۹۵۷ تک کے قرارات میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا ذکر تھا۔ ان قراردادوں میں رائے شماری کی بات تھی، مگر اس کی شرائط—جیسے پاکستانی افواج کا انخلاء—کبھی پوری نہیں ہوئیں۔ بھارت کا موقف یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے الحاق نامے کے بعد یہ اندرونی معاملہ ہے، اور ۱۹۷۲ کے شملہ معاہدے کے بعد یہ دو طرفہ مسئلہ بن گیا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے دسمبر ۲۰۲۳ میں اس اقدام کی آئینی حیثیت کو متفقہ طور پر درست قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ ۳۷۰ عارضی تھی، اور صدر کو اسے ختم کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ عدالت نے ریاست کی حیثیت بحال کرنے کی ہدایت بھی دی، حالانکہ اب تک مکمل
ریاستی درجہ بحال نہیں ہوا، اگرچہ ۲۰۲۴ میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۹ کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے—تقریباً ۷۵ فیصد کمی، اور پتھراؤ کے واقعات میں ۹۰ فیصد کمی۔ سیاحت میں اضافہ ہوا، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے آگے بڑھے، اور مرکزی قوانین لاگو ہونے سے کچھ طبقات کو فائدہ پہنچا۔ تاہم، ناقدین کہتے ہیں کہ زمین اور ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیوں نے آبادیاتی خدشات پیدا کیے ہیں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں برقرار ہیں، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطگی اور اظہار رائے پر قدغنوں کی بات کرتی ہیں۔
سات برس گزرنے کے باوجود صورتحال مخلوط ہے۔ ایک طرف امن و امان کے دعوے ہیں، دوسری طرف ۲۰۲۵ کے پہلگام حملے جیسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ چیلنجز باقی ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور سیاسی شرکت کے مواقع بڑھے ہیں، مگر بہت سے خاندان اب بھی عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور کچھ مقامی سیاسی پارٹیاں اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتی رہیں، جبکہ بھارت اسے ترقی اور انضمام کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کا تنازع صرف آئین کی چند دفعات کا نہیں۔ یہ شناخت، وقار اور مستقبل کے تعین کا سوال ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی دستاویزات میں موجود ہیں، مگر ان کا عملی نفاذ کبھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ دونوں فریق شرائط پر متفق نہیں ہوئے۔ طاقت وقتی طور پر صورتحال بدل سکتی ہے، مگر عوام کی خواہشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی امن نہ صرف فوجی کامیابیوں سے آتا ہے، نہ صرف اقتصادی اعداد و شمار سے، بلکہ اعتماد، مکالمے اور بنیادی حقوق کے احترام سے۔
آج جب ہم اس دن کو یاد کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا جنوبی ایشیا کا امن کشمیری عوام کی آواز سنے بغیر ممکن ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ قوموں کی امنگیں دبائی نہیں جا سکتیں۔ چاہے برفیلے پہاڑ کتنے ہی خاموش کیوں نہ رہیں، ان کی گھاٹیوں سے بلند ہونے والی صدائیں کبھی مٹتی نہیں۔