28 ویں ترمیم
|

28 ویں ترمیم کا ’’اصل جبر‘‘

پاکستان کی سیاسی، معاشی، انتظامی اور عسکری یعنی ہر حوالے سے مکمل اوور ہالنگ کے لئے مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کا ’’اصل جبر‘‘یہ نہیں کہ اس کا کسی خاص سیاسی جماعت کو کیا سیاسی نقصان ہو گا، اس ترمیم کا ’’اصل جبر‘‘یہ ہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے دونوں فریقوں کے پاس لامحدود وقت نہیں ہے،تاریخ یہ کہتی ہے کہ جو لوگ بروقت فیصلہ نہیں کرسکتے وہ جلد یا بدیر خود ’’تاریخ‘‘بن جاتے ہیں، پاکستان میں فیصلہ کن مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے، سیاسی حکمرانوں کے پاس اس حوالے سے فیصلہ کرنے کے لئے ’’لامحدود وقت‘‘نہیں ہے اور نہ ہی ریاست کے پاس لامحدود وقت ہے کیونکہ قدرت پاکستان کو جو عالمی ذمے داریاں اور عالمی طاقت عطاء کرنے جا رہی ہے اس کے کچھ سیاسی، معاشی، انتظامی اور عسکری تقاضے ہیں اور اس حوالے سے انقلابی تبدیلیاں لا کر ہی وہ ڈھانچہ استوار کیا جا سکتا ہے کہ جو مستقبل کی ’’سپر پاور‘‘کی بھاری ذمے داریوں کا غیر معمولی بوجھ اٹھا سکے، سوویت یونین کے انہدام کا تجربہ سب کے سامنے ہے کہ جو سپر پاور سیاسی، معاشی، انتظامی اور عسکری یعنی ہر حوالے سے اپنی بھاری ذمے داریوں کا غیر معمولی وزن اٹھانے کے قابل نہ ہو وہ اپنے ہی بوجھ تلے دب کر منہدم ہو جاتی ہے۔ جب سوویت یونین کا انہدام ہوا اس وقت سب سے بڑی وجہ جو اس انہدام کی تھی وہ یہ تھی کہ ملک کا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ نئی نسل کو منتقل کرنے کا کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑا گیا تھا، سوویت یونین کے دو طاقتور ترین اداروں پولٹ بیورو اور سپریم سوویت میں بوڑھے سیاستدانوں کی اجارہ داری تھی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور ملک کے صدر کے عہدوں پر آخری30, 40 برس براجمان رہنے والے لیونڈ بریژنیف، یوری آندرو پوف، کونسٹنٹن چرنینکو اور میخائل گورباچوف سب 75، 70 برس کے بابے تھے، حالت یہ تھی کہ جب صدر لیونڈ بریژنیف کا 75 برس کی عمر میں انتقال ہوا تو نیا صدر آندروپوف 67برس کی عمر میں یہ عہدہ سنبھالتا ہے اور ڈیڑھ دو برس بعد دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، اس کی جگہ نئے صدر بننے والے چرنینکو کی عمر 71برس تھی، اس کا بھی ڈیڑھ دو برس بعد انتقال ہو جاتا ہے اور پھر 64سالہ میخائل گورباچوف اقتدار سنبھالتا ہے اور اسے ایک ’’نوجوان صدر‘‘قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ بھی یہ بنا ہوا ہے کہ اس ملک پر 1985ء کے غیر جماعتی عام انتخابات کے نتیجے میں ابھرنے والے سیاسی خاندانوں کا گراس روٹ لیول تک مسلسل غلبہ ہے، چونکہ کم و بیش تمام عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات ’’کنٹرولڈ جمہوریت‘‘کا حصہ تھے اس لئے حقیقی معنوں میں نئی نسل یا نئے خون کو ملک کی انتخابی سیاست میں داخل ہونے کا موقع نہیں ملا، موجودہ سسٹم میں مختلف حوالوں سے جو ’’سڑاند‘‘ ہے اس کی اصل وجہ یہ بوڑھا خون ہے، آپ کسی بلڈ بنک میں چلے جائیں وہ مریض کے لئے خون عطیہ کرنے والے کی سب سے پہلے عمر پوچھتے ہیں، ڈونر کی عمر اگر پچپن ساٹھ برس ہو تو اس کا خون لینے سے صاف معذرت کر لی جاتی ہے اور نوجوان ڈونر لانے کا کہا جاتا ہے، صحت مند معاشروں اور صحت مند سیاسی و انتظامی سسٹمز کا بھی یہی معاملہ ہے کہ ان میں اصل اختیار اور اصل فیصلہ کرنے کی قوت نئے خون اور نئی نسل کو منتقل کرنے کا باقاعدہ ایک سسٹم ہوتا ہے، دنیا کی اکلوتی سپر پاور آج معاشی و اسٹریٹجک حوالوں سے جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ بھی مسلسل بوڑھے صدور کا انتخاب ہے، سابق صدر جو بائیڈن اس وقت 83 سال کے ہیں اور موجودہ صدر ٹرمپ کی عمر 80 سال، بوڑھے حکمرانوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نظام کو پرانے طریقے سے چلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہونے دیتے، اور اگر تھوڑی بہت تبدیلی لاتے بھی ہیں تو وہ حقیقی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ عموماً ’’نئی بوتل میں پرانی شراب‘‘ہی پیش کی جاتی ہے، اس لئے یہ نام نہاد تبدیلی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔
زراعت اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے ملک کو آنے والے دور میں داخل کرنے کے لئے نئی نہروں کے معاملے پر ملک کی سیاسی قیادت نے انتہائی افسوس ناک رویہ اختیار کیا، اس کے بعد مالی و انتظامی حوالے سے خود مختار و بااختیار بلدیاتی نظام، نئے صوبوں کے قیام اور نئے عالمی کردار کے حامل پاکستان کے وفاق (مرکز)کی معاشی طاقت بڑھانے کے حوالے سے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلیوں بارے جس سیاسی قیادت نے اصل فیصلہ کرنا ہے، وہ اپنے 40سالہ ماضی کی دلدل سے نکلنے کے لئے تیار نہیں، اگر فیصلے سابق وزیراعظم نواز شریف، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اپوزیشن لیڈرز عمران خان، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر صاحب پگارا سے ہی کروائے گئے تو یہ ’’آثار قدیمہ‘‘ملک کو تیزی سے آگے بڑھانے کی ہر کوشش ناکام بنا دیں گے، اس معاملے کا ایک ہی آخری راستہ ہے کہ یہ سب بزرگان 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مستقبل کے چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت والے سسٹم کو اتفاق رائے سے نافذ کریں اور گراس روٹ لیول سے اسلام آباد تک اقتدار نئے خون کو منتقل کر دیں، بصورت دیگر تصادم ناگزیر ہو جائیگا۔ راولپنڈی اسلام آباد میں ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں کچھ اس قسم کی سرگوشیاں ہو رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کو سیاسی، معاشی و انتظامی طور پر آنے والے دور کی ’’سپر پاور‘‘ والی ذمے داریاں سنبھالنے کے قابل بنانے کے لئے ’’تیار‘‘کرنا چاہتی ہے لیکن موجودہ سیاسی قیادت کے اہداف وہی ذاتی و جماعتی مفادات سے آلودہ اور ’’پرانے پاکستان‘‘کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے والے ہیں۔ اس لئے تصادم ناگزیر ہے البتہ اس کی ٹائمنگ کچھ آگے پیچھے ہو سکتی ہے لیکن یہ ’’جنگ‘‘ ہو کر رہے گی اور یہ تو طے ہے کہ ایسی جنگوں کا نتیجہ ماضی میں کیا نکلا اور مستقبل میں کیا نکلے گا۔مشہور ’’کہانی‘‘ ہے کہ ایک نوجوان اپنے دوست کو اپنے دادا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتا رہا تھا کہ ایک روز وہ اکیلے جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک سامنے شیر آگیا، اس پر قصہ سننے والے دوست نے بے اختیار پوچھا ’’ تو پھر آپ کے دادا نے کیا کیا؟‘‘اس پر پہلا دوست نیم مردہ آواز میں بولا’’پھر جو کرنا تھا وہ تو شیر نے کرنا تھا‘‘دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ میں معاملات ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ تک پہنچ جائیں، تو پھر جو کچھ کرنا ہوتا ہے، وہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *