|

لرزتی سیاست،غیرفطری اتحاد کا شاخسانہ

’’تاریخ میں سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب حکومت کمزور ہو جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب حکومت اپنے اتحادیوں کا اعتماد گنوا دے ۔ کہ اقتدار کی دیواریں باہر سے نہیں، اندر سے گرتی ہیں۔‘‘ اسلام آباد اس وقت بظاہر معمول کے مطابق سانس لے رہا ہے۔ پارلیمنٹ قائم ہے، کابینہ موجود ہے، بیانات جاری ہیں، ملاقاتیں ہو رہی ہیں، تصاویر بن رہی ہیں، مگر اگر سیاست کے نبض شناس اقتدار کے ایوانوں کی دیواروں سے کان لگا کر سنیں تو اندر ایک بے نام سی بے چینی مسلسل حرکت کرتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بحر سیاست میں مچلتے طوفانوں کی علامت ہوتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے شاید صرف ایک قانون ساز اسمبلی کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ پاکستان کی وفاقی سیاست میں چھپے ہوئے تضادات کا بھانڈا پھوڑ د یا ہے ۔ انتخابی نتائج سے زیادہ اہم وہ سیاسی مناقشے ہیں جو ان نتائج کے بعد سامنے آئے۔ اتحادی جماعتوں کے لہجوں میں سختی، ایک دوسرے پر اعلانیہ تنقید، اور باہمی بداعتمادی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ایک غیر فطری اتحاد اپنی عمر پوری کر چکا ہے، یا ابھی اس میں کوئی دم خم باقی ہے ؟
یہ سوال آج کا نہیں۔اس کے جواب کے لئے ہمیں تقریبا ًچار دہائیاں پیچھے جانا ہوگا۔1988ء صرف ایک انتخابی سال نہیں تھا، بلکہ پاکستانی سیاست کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد اقتدار کا بند دروازہ کھلا اور عوام نے بے نظیر بھٹو کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب کرلیا لیکن اقتدار کی یہ منتقلی مکمل سیاسی ہم آہنگی کی علامت نہ تھی۔ ریاستی اداروں کے مختلف مراکز،صدر غلام اسحاق خان کے آئینی اختیارات اور اسلامی جمہوری اتحاد کی صورت میں بننے والا سیاسی اتحاد ایک ایسے دور کا آغاز تھا جس میں حکومتیں بننے سے زیادہ گرائی گئیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب سیاست خدمت سے زیادہ بقا کی جنگ بن گئی۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف دونوں عوامی مینڈیٹ رکھتے تھے مگر دونوں ایک دوسرے کو سیاسی مخالف نہیں بلکہ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارلیمنٹ کمزور ہوئی، ادارے متنازع ہوئے اور عوام کے ووٹ کی حرمت بار بارسوالوں کی زد میں آئی۔نوے کی پوری دہائی اسی کشمکش کی نذر ہو گئی۔ 1990، 1993 اور 1996 میں حکومتوں کی برطرفیاں صرف آئینی واقعات نہیں تھیں بلکہ اس سیاسی عدم برداشت کا اظہار تھیں جس نے جمہوریت کو جڑیں مضبوط ہونے ہی نہیں دیں۔ پھر 1999 ء آیا، اور اقتدار پر ایک اور آمر نے شب خون مارا اور ایک لمبے عرصے کے لئے جمہوری سیاست کا خاتمہ ہوا ۔یہی وقت تھا جب تاریخ نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک سبق دیا کہ سیاست دان اپنے اختلافات کا حل خود نہیں نکالیں گے تو ان کے فیصلے کوئی اور کرے گا۔اسی احساس نے 2006 ء میں میثاقِ جمہوریت کو جنم دیا۔ یہ دستاویز دراصل دو مخالف سیاسی روایوں کا اعتراف تھی کہ جمہوریت کی بقا باہمی برداشت کے بغیر ممکن نہیں۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ معاہدے لکھنا آسان ہوتا ہے، ان کی روح کو زندہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
2022 ء میں ایک بار پھر حالات نے انہی جماعتوں کو ایک ہی کشتی میں بٹھا دیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ ان کے سامنے مشترکہ مخالف تھا، مگر منزل پھر بھی الگ الگ تھی۔ اقتدار مشترک تھا، مگر سیاسی مفادات ہر جماعت کے الگ تھے ۔آج ایک بار پھر مخالف مشترک ہے مگر مفادات علیحدہ علیحدہ، آزاد کشمیر کے انتخابات ایک بار پھر ماضی کا آئینہ بن گئے ہیں اور اس آئینے میں صرف مظفرآباد ہی نہیں، اسلام آباد بھی اپنا چہرہ دیکھ رہا ہے۔وہ آئینہ جو کرچی کرچی ہے اور ہر کرچی الگ شکل دکھا رہی ہے۔ایک غیر فطری اتحاد کے ہاتھوں جمہوریت کا چولا تار تار ہورہا ہے ، زمانے بھر میں جگ ہنسائی ہورہی ہے مگر سیاستدانوں کا احساس مروت ہے کہ جاگنے کو نہیں آرہا اور یہ آزاد جموں کشمیر سے اٹھنے والی بے چینی اور اضطراب کی لہر ہی ہے جس نے اسلام آباد تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،کاسہ لیسی کی سیاست کی یہ لہر ایک سیلاب بلا خیز کی طرح باب الاسلام کراچی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *