|

آزاد کشمیر، خارجی وائرس اور نئی ویکسین

اسلامی تاریخ میں جتھے بنا کر اپنی ہی ریاست پر چڑھ دوڑنے کے سلسلے کا آغاز تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہ کے دور میں ہوا اور پھر ایک ناسور کی صورت اختیار کر گیا اور معاملہ چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں خوارج اور امیر المومنین کی افواج کے درمیان انتہائی خونریز معرکوں تک پہنچا، اس حوالے سے سب سے خونی اور فیصلہ کن معرکہ جنگ نہروان کہلاتا ہے جو عراق کے دارالحکومت بغداد سے30، 25 کلومیٹر دور ہے، اس زمانے میں ابھی بغداد آباد نہیں ہوا تھا اور کوفہ خلافت راشدہ کا دارالخلافہ تھا۔سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خوارج کے بارے میں فرمایا: ترجمہ: ’’آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں یہ (خوارج)بدترین مقتول ہیں، اور جن لوگوں کو انہوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہیں۔‘‘ ایک اور صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے خوارج کے بارے میں فرمایا:’’وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جہاں تم انہیں پائو انہیں قتل کرو، کیونکہ انہیں قتل کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن اجر ہے۔‘‘ خوارج اتنے شدت پسند تھے کہ اپنی تحریک کے مختلف ادوار میں انہوں نے خود رسول اللہ ﷺکے دونوں دامادوں پر کفر کے فتوے لگا دیئے، آپ ﷺکی دو بیٹیاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں رہیں، اس حوالے صحابہ کرامؓ انہیں پیار سے ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہتے تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ ﷺکے چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ آپ کی سب سے پیاری صاحبزادی خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زوجیت کا اعزاز حاصل تھا جن کے بطن سے جوانان جنت کے سردار حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسینؓ پیدا ہوئے۔
ایسی عظیم نسبتوں کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں السابِقون الولون میں بھی سرکردہ صحابہ کرامؓ میں شامل تھے اور آپ ﷺ کی مکی و مدنی زندگی کے دونوں ادوار میں ان دونوں ہستیوں کے اللہ ، رسول اللہ ﷺاور دین اسلام کی سربلندی کے لئے بار بار اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے جذبے سے سرشار ہونے کے واقعات تاریخ اسلامی کا روشن باب ہیں، اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ خوارج نے ان دونوں عظیم شخصیات پر کفر کے فتوے ہی نہیں لگائے بلکہ ان دونوں خلفا ء راشدین کی شہادت بھی خوارج کے ہاتھوں ہی ہوئی اور حدیث مبارکہ کے تناظر میں یہ دونوں خلفاء راشدین زیر آسمان کے بہترین مقتول ہیں۔ سادہ لوح اور جذباتی عوام کو اشتعال انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز موقف کے ذریعے خود اسلامی ریاست پر ہی چڑھ دوڑنے پر ابھارنے والے اس کلچر نے بعد کے ادوار میں بھی عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، آج کے زمانے میں بھی داعش اور ٹی ٹی پی جیسی دور جدید کے خارجیوں کی شدت پسند تنظیمیں عالم اسلام کے لئے ایک ناسور بنی ہوئی ہیں اور پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی وجہ سے مسلسل لہولہان ہیں، رہی سہی کسر اب آزاد کشمیر کی سیاست میں خوارج کلچر کو فروغ دے کر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پوری کر دی ہے، بار بار جتھے لے کر آزاد کشمیر کے دارالحکومت پر چڑھ دوڑنے کے مسلسل واقعات میں بار رہا خون بھی بہا اور وادی کے عوام کا روزگار بھی تباہ ہو گیا، سیاحت کو آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت کی روزی روٹی کا سب سے اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہ سب سے بڑا ذریعہ روزگار آزاد کشمیر کے خوارج کی حالیہ برسوں کی خونی مہم جوئی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور آمدنی کے ذرائع محدود ہو جانے کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں کشمیریوں کے گھروں میں فاقے ہیں لیکن ان خارجیوں کو اس ظلم عظیم کی کوئی پروا نہیں کیونکہ انہیں بیرون ملک سے ڈالر مل رہے ہیں اور چند درجن لیڈروں اور ان کے چند سو خاص کارکنوں کا دھندہ خوب چل رہا ہے، باقی سب گمراہ کن اشتعال انگیزی کی لہر میں بہہ کر ’’استعمال‘‘ہونے والے عام لوگ ہیں۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے یہ تاثر سراسر بے بنیاد ہے کہ ریاست نے مذاکرات سے گریز کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38مطالبات میں سے 36پر پہلے ہی عملدرآمد کیا جا چکا تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی تھی۔ 12 نشستوں کے تنازع کا حل مکمل طور پر آئینی، قانونی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر موجود تھا۔ تاہم، اس آئینی اور جمہوری راستے کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے سڑکوں کی سیاست، احتجاج اور انتشار کو ترجیح دی گئی۔اس سوچ کی حقیقی عکاسی اس وقت ہوئی جب عمر نذیر کشمیری نے برملا یہ اعلان کیا کہ ’’اگر 12 نشستوں کا مسئلہ حل ہو بھی جائے، تب بھی ہم سڑکوں پر ہی نکلیں گے۔‘‘ ایسے بیانات اس دعوے کو مزید کمزور کرتے ہیں کہ احتجاج کا واحد مقصد عوامی مسائل کا آئینی حل تلاش کرنا تھا۔ 7جون کو ان مسلح جتھوں نے سی ایم ایچ راولاکوٹ جیسے طبی ادارے پر حملہ کیا۔ 5جولائی کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 20سے 25 نقاب پوش دہشت گردوں نے انجمن تاجران ارجہ کے سیکرٹری جنرل سردار ناصر ارباب اور کزن حسام پر 6گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کیا، راولاکوٹ کے متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب 14جولائی کی صبح کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی، راستوں کی بندش اور غیر قانونی لاک ڈائون کے باعث سب سے زیادہ نقصان مریضوں، بزرگوں اور بچوں کو اٹھانا پڑا ہے، جنہیں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی سے روکا گیا۔ اس پوری مہم کا سب سے خطرناک اور مہلک پہلو بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری کو منظم انداز میں گمراہ کرنا ہے۔ یہی وہ برادری ہے جو دہائیوں سے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی فورمز اور عالمی سفارتی حلقوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان سے الحاق کے موقف کی سب سے مضبوط، موثر اور مسلسل آواز رہی ہے۔ انہی کی سفارتی جدوجہد نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر میں زندہ رکھا۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اسی بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری کے اعتماد اور جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کی نومنتخب حکومت وفاقی حکومت اور ریاست کے ساتھ مل کر اس ’’جنگ‘‘کو فرنٹ سے لیڈ کرے، کیونکہ جب تک کوئی زود اثر نئی’’ویکسین‘‘نہیں لگائی جائے گی، آزاد کشمیر میں پھیلائے جا رہے اس ’’خارجی وائرس‘‘کا تیر بہدف ’’علاج‘‘ ممکن نہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *